Chapter 19: Shortening the Prayers (At-Taqseer)

نماز میں قصر کرنے کا بیان

كتاب تقصير الصلاة

39 Hadiths
Hadith #1080

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر ) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے ۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں ۔

Hadith #1081

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ قُلْتُ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا‏.‏

ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو ، دو رکعت پڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا ؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے ۔

Hadith #1082

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت ( یعنی چار رکعت والی نمازوں میں ) قصر پڑھی ۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کے دور خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی تھیں ۔ لیکن بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے پوری پڑھی تھیں ۔

Hadith #1083

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم آمَنَ مَا كَانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ‏.‏

آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی ۔

Hadith #1084

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ‏.‏

ہمیں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تھی لیکن جب اس کا ذکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ «انا لله و انا اليه راجعون» ۔ پھر کہنے لگے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی ٰ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت ہی پڑھی ہیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت ہی پڑھی تھی کاش میرے حصہ میں ان چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہوتیں ۔

Hadith #1085

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْىُ‏.‏ تَابَعَهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو ( مکہ میں ) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں ۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے ۔

Hadith #1086

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا تھا کہ عورتیں تین دن کا سفر ذی رحم محرم کے بغیر نہ کریں ( ابواسامہ نے کہا ہاں ) ۔

Hadith #1087

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو ۔ اس روایت کی متابعت احمد نے ابن مبارک سے کی ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ۔

Hadith #1088

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَسُهَيْلٌ وَمَالِكٌ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی خاتون کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو ، جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی ذی رحم محرم کے کرے ۔ اس روایت کی متابعت یحییٰ بن ابی کثیر ، سہیل اور مالک نے مقبری سے کی ۔ وہ اس روایت کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے ۔

Hadith #1089

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھی ۔

Hadith #1090

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ الصَّلاَةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ، وَأُتِمَّتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ قَالَ تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ‏.‏

پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری ( چار رکعت ) کر دی گئی ۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی ۔

Hadith #1091, 1092

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ‏. وَزَادَ اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَالِمٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ وَأَخَّرَ ابْنُ عُمَرَ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ اسْتُصْرِخَ عَلَى امْرَأَتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلاَةُ‏.‏ فَقَالَ سِرْ‏.‏ فَقُلْتُ الصَّلاَةُ‏.‏ فَقَالَ سِرْ‏.‏ حَتَّى سَارَ مِيلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، فَيُصَلِّيهَا ثَلاَثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلِّيَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَلاَ يُسَبِّحُ بَعْدَ الْعِشَاءِ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ‏.‏

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے ۔ لیث بن سعد نے اس روایت میں اتنا زیادہ کیا کہ مجھ سے یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا ، کہ سالم نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ جمع کر کے پڑھتے تھے ۔ سالم نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز اس دن دیر میں پڑھی تھی جب انہیں ان کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی اطلاع ملی تھی ( چلتے ہوئے ) میں نے کہا کہ نماز ! ( یعنی وقت ختم ہوا چاہتا ہے ) لیکن آپ نے فرمایا کہ چلے چلو پھر دوبارہ میں نے کہا کہ نماز ! آپ نے پھر فرمایا کہ چلے چلو اس طرح جب ہم دو یا تین میل نکل گئے تو آپ اترے اور نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تیزی کے ساتھ چلنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے خود دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( منزل مقصود تک ) جلدی پہنچنا چاہتے تو پہلے مغرب کی تکبیر کہلواتے اور آپ اس کی تین رکعت پڑھا کر سلام پھیرتے ۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء پڑھاتے اور اس کی دو ہی رکعت پر سلام پھیرتے ۔ عشاء کے فرض کے بعد آپ سنتیں وغیرہ نہیں پڑھتے تھے آدھی رات کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ۔

Hadith #1093

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ‏.‏

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اونٹنی پر نماز پڑھتے رہتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہو ۔

Hadith #1094

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ وَهْوَ رَاكِبٌ فِي غَيْرِ الْقِبْلَةِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی اونٹنی پر غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے بھی پڑھتے تھے ۔

Hadith #1095

حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُهُ‏.‏

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نفل نماز سواری پر پڑھتے تھے ۔ اسی طرح وتر بھی ۔ اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے ۔

Hadith #1096

حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ يُومِئُ‏.‏ وَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُهُ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا ۔ آپ اشاروں سے نماز پڑھتے ۔ آپ کا بیان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔

Hadith #1097

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ يُسَبِّحُ، يُومِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَىِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ‏.‏

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر نماز نفل پڑھتے دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشاروں سے پڑھ رہے تھے اس کا خیال کئے بغیر کہ سواری کا منہ کدھر ہوتا ہے لیکن فرض نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے ۔

Hadith #1098

وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَهْوَ مُسَافِرٌ، مَا يُبَالِي حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَىِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں رات کے وقت اپنے جانور پر نماز پڑھتے کچھ پرواہ نہ کرتے کہ اس کا منہ کس طرف ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹنی پر نفل نماز پڑھا کرتے چاہے اس کا منہ کدھر ہی ہو اور وتر بھی سواری پر پڑھ لیتے تھے البتہ فرض اس پر نہیں پڑھتے تھے ۔

Hadith #1099

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور جب فرض پڑھتے تو سواری سے اتر جاتے اور پھر قبلہ کی طرف رخ کر کے پڑھتے ۔

Hadith #1100

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّأْمِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ‏.‏ فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ‏.‏ فَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

انس رضی اللہ عنہ شام سے جب ( حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے ) واپس ہوئے تو ہم ان سے عین التمر میں ملے ۔ میں نے دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا ۔ اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا ۔ اس روایت کو ابراہیم ابن طہمان نے بھی حجاج سے ، انہوں نے انس بن سیرین سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے ۔

Hadith #1101

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ صَحِبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏‏.‏

میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں ۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔

Hadith #1102

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ لاَ يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ ـ رضى الله عنهم‏.‏

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت ( فرض ) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

Hadith #1103

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَنْبَأَ أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے ۔

Hadith #1104

وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ‏.‏

انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے ، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی ۔

Hadith #1105

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔

Hadith #1106

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ‏.‏

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔

Hadith #1107

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔

Hadith #1108

وَعَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ‏.‏ وَتَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَحَرْبٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ جَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے ۔ یحییٰ حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں ۔

Hadith #1109

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ، وَيُقِيمُ الْمَغْرِبَ فَيُصَلِّيهَا ثَلاَثًا، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ، فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَلاَ يُسَبِّحُ بَيْنَهَا بِرَكْعَةٍ، وَلاَ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ‏.‏

میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے ۔ پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے ۔ مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے ۔ پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے ۔ دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے ( اور تہجد ادا کرتے ) ۔

Hadith #1110

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ‏.‏ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو سفر میں ایک ساتھ ملا کر پڑھا کرتے تھے ۔

Hadith #1111

حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَإِذَا زَاغَتْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے ۔

Hadith #1112

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پرھتے ۔ پھر کہیں ( راستے میں ) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے ۔

Hadith #1113

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ وَهْوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ۔

Hadith #1114

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فَرَسٍ فَخُدِشَ ـ أَوْ فَجُحِشَ ـ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‏.‏ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے ۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔

Hadith #1115

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ مَبْسُورًا ـ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ‏"‏‏.‏

وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے ۔

Hadith #1116

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً مَبْسُورًا ـ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَهْوَ قَاعِدٌ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَائِمًا عِنْدِي مُضْطَجِعًا هَا هُنَا‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا ۔ ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا ۔

Hadith #1117

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏ "‏ صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ ‏"‏‏.‏

مجھے بواسیر کا مرض تھا ۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو ۔

Hadith #1118

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ، فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلاَثِينَ آيَةً أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، ثُمَّ رَكَعَ‏.‏

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہو گئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے ، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے ۔

Hadith #1119

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهْوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهْوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَسْجُدُ، يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلاَتَهُ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے ۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے ۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے ۔

Back to All Chapters