Chapter 34: Retiring to a Mosque for Remembrance of Allah (I'tikaf)

اعتکاف کے مسائل کا بیان

كتاب الاعتكاف

21 Hadiths
Hadith #2025

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔

Hadith #2026

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔

Hadith #2027

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتِهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ ‏"‏‏.‏ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَبَصُرَتْ عَيْنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ، مِنْ صُبْحِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دنوں میں اعتکاف کیا اور جب اکیسویں تاریخ کی رات آئی ۔ یہ وہ رات ہے جس کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے باہر آ جاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے ۔ مجھے یہ رات ( خواب میں ) دکھائی گئی ، لیکن پھر بھلا دی گئی ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں ، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو ، چنانچہ اسی رات بارش ہوئی ، مسجد کی چھت چوں کہ کھجور کی شاخ سے بنی تھی اس لیے ٹپکنے لگی اور خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی ۔

Hadith #2028

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصْغِي إِلَىَّ رَأْسَهُ وَهْوَ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اور سرمبارک میری طرف جھکا دیتے پھر میں اس میں کنگھا کر دیتی ، حالانکہ میں اس وقت حیض سے ہوا کرتی تھی ۔

Hadith #2029

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُدْخِلُ عَلَىَّ رَأْسَهُ وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے ( اعتکاف کی حالت میں ) سرمبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے ، اور میں اس میں کنگھا کر دیتی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے ۔

Hadith #2030, 2031

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ‏. وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏

میں حائضہ ہوتی پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بدن سے لگا لیتے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور میں حائضہ ہوتی ۔ اس کے باوجود آپ سرمبارک ( مسجد سے ) باہر کر دیتے اور میں اسے دھوتی تھی ۔

Hadith #2032

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عُمَرَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ ‏ "‏ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ ‏"‏‏.‏

عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، میں نے جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر ۔

Hadith #2033

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ، فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً فَأَذِنَتْ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءً، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَأَى الأَخْبِيَةَ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأُخْبِرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آلْبِرُّ تُرَوْنَ بِهِنَّ ‏"‏‏.‏ فَتَرَكَ الاِعْتِكَافَ ذَلِكَ الشَّهْرَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( مسجد میں ) ایک خیمہ لگا دیتی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کے اس میں چلے جاتے تھے ۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ کھڑا کرنے کی ( اپنے اعتکاف کے لیے ) اجازت چاہی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی ( اپنے لیے ) ایک خیمہ کھڑا کر لیا ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا ، یہ کیا ہے ؟ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ ( رمضان ) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا ۔

Hadith #2034

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ، وَخِبَاءُ حَفْصَةَ، وَخِبَاءُ زَيْنَبَ، فَقَالَ ‏ "‏ آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ، حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لائے ( یعنی مسجد میں ) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا تھا ۔ تو وہاں کئی خیمے موجود تھے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی ، حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی اور زینب رضی اللہ عنہا کا بھی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ انہوں نے ثواب کی نیت سے ایسا کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے عشرہ میں اعتکاف کیا ۔

Hadith #2035

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ عِنْدَ باب أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏‏.‏ فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ‏"‏‏.‏

وہ رمضان کے آخری عشرہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ جب وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروزے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں ، تو دو انصاری آدمی ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی سوچ کی ضرورت نہیں ، یہ تو ( میری بیوی ) صفیہ بنت حیی ( رضی اللہ عنہا ) ہیں ۔ ان دونوں صحابیوں نے عرض کیا ، سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ! ان پر آپ کا جملہ بڑا شاق گزرا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے ۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے ۔

Hadith #2036

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ هَارُونَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ نَعَمِ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ـ قَالَ ـ فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، قَالَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنِّي نُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، وَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ـ قَالَ ـ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الطِّينِ وَالْمَاءِ، حَتَّى رَأَيْتُ الطِّينَ فِي أَرْنَبَتِهِ وَجَبْهَتِهِ‏.‏

کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کا ذکر سنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا تھا ، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر بیس کی صبح کو ہم نے اعتکاف ختم کر دیا ۔ اسی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی ، لیکن پھر بھلا دی گئی ، اس لیے اب اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ میں نے ( خواب میں ) دیکھا ہے کہ میں کیچڑ ، پانی میں سجدہ کر رہا ہوں اور جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( اس سال ) اعتکاف کیا تھا وہ پھر دوبارہ کریں ۔ چنانچہ وہ لوگ مسجد میں دوبارہ آ گئے ۔ آسمان میں کہیں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا کہ اچانک بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی ۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیچڑ میں سجدہ کیا ۔ میں نے خود آپ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ لگا ہوا دیکھا ۔

Hadith #2037

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهْىَ تُصَلِّي‏.‏

رسول اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک خاتون ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) نے جو مستحاضہ تھیں ، اعتکاف کیا ۔ وہ سرخی اور زردی ( یعنی استحاضہ کا خون ) دیکھتی تھیں ۔ اکثر طشت ہم ان کے نیچے رکھ دیتے اور وہ نماز پڑھتی رہتیں ۔

Hadith #2038

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، وَعِنْدَهُ أَزْوَاجُهُ، فَرُحْنَ، فَقَالَ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ ‏"‏ لاَ تَعْجَلِي حَتَّى أَنْصَرِفَ مَعَكِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ بَيْتُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا، فَلَقِيَهُ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَنَظَرَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَجَازَا وَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَعَالَيَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُلْقِيَ فِي أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ( دوسری سند ) اور امام بخاری نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ( اعتکاف میں ) تھے آپ کے پاس ازواج مطہرات بیٹھی تھیں ۔ جب وہ چلنے لگیں تو آپ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جلدی نہ کر ، میں تمہیں چھوڑنے چلتا ہوں ۔ ان کا حجرہ دار اسامہ رضی اللہ عنہ میں تھا ، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو دو انصاری صحابیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی ۔ ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور جلدی سے آگے بڑھ جانا چاہا ۔ لیکن آپ نے فرمایا ٹھہرو ! ادھر سنو ! یہ صفیہ بنت حیی ہیں ( جو میری بیوی ہیں ) ان حضرات نے عرض کی ، سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ شیطان ( انسان کے جسم میں ) خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے خطرہ یہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی ( بری ) بات نہ ڈال دے ۔

Hadith #2039

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ صَفِيَّةَ، أَخْبَرَتْهُ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّ صَفِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُعْتَكِفٌ، فَلَمَّا رَجَعَتْ مَشَى مَعَهَا، فَأَبْصَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُ دَعَاهُ فَقَالَ ‏ "‏ تَعَالَ هِيَ صَفِيَّةُ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ هَذِهِ صَفِيَّةُ ـ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لِسُفْيَانَ أَتَتْهُ لَيْلاً قَالَ وَهَلْ هُوَ إِلاَّ لَيْلٌ

صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اعتکاف میں تھے ۔ پھر جب وہ واپس ہونے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ ( تھوڑی دور تک انہیں چھوڑنے ) آئے ۔ ( آتے ہوئے ) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑی ، تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا ، کہ سنو ! یہ ( میری بیوی ) صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ ( سفیان نے ہی صفیہ کے بجائے بعض اوقات «هذه صفية» کے الفاظ کہے ۔ ( اس کی وضاحت اس لیے ضرور ی سمجھی ) کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے ۔ میں ( علی بن عبداللہ ) نے سفیان سے پوچھا کہ غالباً وہ رات کو آئی ہوں گی ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رات کے سوا اور وقت ہی کون سا ہو سکتا تھا ۔

Hadith #2040

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏.‏ قَالَ وَأَظُنُّ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ فَإِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، وَهَاجَتِ السَّمَاءُ، فَمُطِرْنَا فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَقَدْ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى أَنْفِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ‏.‏

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کے لیے بیٹھے ۔ بیسویں کی صبح کو ہم نے اپنا سامان ( مسجدسے ) اٹھا لیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ جس نے ( دوسرے عشرہ میں ) اعتکاف کیا ہے وہ دوبارہ اعتکاف کی جگہ چلے ، کیونکہ میں نے آج کی رات ( شب قدر کو ) خواب میں دیکھا ہے میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ پھر جب اپنے اعتکاف کی جگہ ( مسجد میں ) آپ دوبارہ آ گئے تو اچانک بادل منڈلائے ، اور بارش ہوئی ۔ اس ذات کی قسم جس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ! آسمان پر اسی دن کے آخری حصہ میں بادل ہوا تھا ۔ مسجد کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی ( اس لیے چھت سے پانی ٹپکا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح ادا کی ، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کا اثر تھا ۔

Hadith #2041

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ، وَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ دَخَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ ـ قَالَ ـ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ أَنْ تَعْتَكِفَ فَأَذِنَ لَهَا فَضَرَبَتْ فِيهِ قُبَّةً، فَسَمِعَتْ بِهَا حَفْصَةُ، فَضَرَبَتْ قُبَّةً، وَسَمِعَتْ زَيْنَبُ بِهَا، فَضَرَبَتْ قُبَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَدِ أَبْصَرَ أَرْبَعَ قِبَابٍ، فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأُخْبِرَ خَبَرَهُنَّ، فَقَالَ ‏"‏ مَا حَمَلَهُنَّ عَلَى هَذَا آلْبِرُّ انْزِعُوهَا فَلاَ أَرَاهَا ‏"‏‏.‏ فَنُزِعَتْ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ حَتَّى اعْتَكَفَ فِي آخِرِ الْعَشْرِ مِنْ شَوَّالٍ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے ۔ آپ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اس جگہ جاتے جہاں آپ کو اعتکاف کے لیے بیٹھنا ہوتا ۔ راوی نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ سے اعتکاف کرنے کی اجازت چاہی ۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی ، اس لیے انہوں نے ( اپنے لیے بھی مسجد میں ) ایک خیمہ لگا لیا ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا ( زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا ۔ زینب رضی اللہ عنہا ( زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا ۔ صبح کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر لوٹے تو چار خیمے دیکھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال کی اطلاع دی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے ثواب کی نیت سے یہ نہیں کیا ، ( بلکہ صرف ایک دوسری کی ریس سے یہ کیا ہے ) انہیں اکھاڑ دو ۔ میں انہیں اچھا نہیں سمجھتا ، چنانچہ وہ اکھاڑ دیئے گئے اور آپ نے بھی ( اس سال ) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا ۔ بلکہ شوال کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا ۔

Hadith #2042

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوْفِ نَذْرَكَ ‏"‏‏.‏ فَاعْتَكَفَ لَيْلَةً‏.‏

یا رسول اللہ ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات کا مسجدالحرام میں اعتکاف کروں گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنی نذر پوری کر ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات بھر اعتکاف کیا ۔

Hadith #2043

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ـ قَالَ أُرَاهُ قَالَ ـ لَيْلَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوْفِ بِنَذْرِكَ ‏"‏‏.‏

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں مسجدالحرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی ، عبید نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے رات بھر کا ذکر کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر ۔

Hadith #2044

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا ۔

Hadith #2045

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا، وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالأَبْنِيَةِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ، فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے ذکر کیا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی ۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی ، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کے لیے بھی اجازت لے دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کر دیا ۔ جب زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگانے کے لیے کہا ، اور ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا ۔ انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد اپنے خیمہ میں تشرف لے جاتے آج آپ کو بہت خیمے دکھائی دیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ، حفصہ ، اور زینب رضی اللہ عنھن کے خیمے ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ، بھلا کیا ان کی ثواب کی نیت ہے اب میں بھی اعتکاف نہیں کروں گا ۔ پھر جب ماہ رمضان ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں اعتکاف کیا ۔

Hadith #2046

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حَائِضٌ وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ وَهْىَ فِي حُجْرَتِهَا، يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ‏.‏

وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے تھے ، پھر بھی وہ آپ کے سر میں اپنے حجرہ ہی میں کنگھا کرتی تھیں ۔ آپ اپنا سرمبارک ان کی طرف بڑھا دیتے ۔

Back to All Chapters