حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قرض ادا کرنے میں ) مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔ اور اگر تم میں سے کسی کا قرض کسی مالدار پر حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتَّبِعْ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مالدار کی طرف سے ( قرض ادا کرنے میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔ اور اگر کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کرے ۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا. فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا لاَ. فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا. قَالَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ، فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا. قَالَ " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَهَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قَالُوا ثَلاَثَةُ دَنَانِيرَ. قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَلَىَّ دَيْنُهُ. فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا ۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں کوئی قرض نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میت نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کوئی مال بھی نہیں چھوڑا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ان کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کسی کا قرض بھی میت پرہے ؟ عرض کیا گیا کہ ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کچھ مال بھی چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ تین دینار چھوڑے ہیں ۔ آپ نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی ۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا ۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق بھی وہی دریافت فرمایا ، کیا کوئی مال ترکہ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اور اس پر کسی کا قرض بھی ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تین دینار ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی لوگ نماز پڑھ لو ۔ ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ بولے ، یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز پڑھا دیجئیے ، ان کا قرض میں ادا کر دوں گا ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھائی ۔