حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ، فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ، وَغَسَلَ فَرْجَهُ، وَمَا أَصَابَهُ مِنَ الأَذَى، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، هَذِهِ غُسْلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح ایک مرتبہ وضو کیا ، البتہ پاؤں نہیں دھوئے ۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں بھی نجاست لگ گئی تھی ، اس کو دھویا ۔ پھر اپنے اوپر پانی بہا لیا ۔ پھر پہلی جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں کو دھویا ۔ آپ کا غسل جنابت اسی طرح ہوا کرتا تھا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ قَدَحٍ يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ.
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے اس برتن کو فرق کہا جاتا تھا ۔ ( نوٹ : فرق کے اندر 6.298 کلو گرام ہوتا ہے ۔ )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو، عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَبَهْزٌ وَالْجُدِّيُّ عَنْ شُعْبَةَ قَدْرِ صَاعٍ.
میں ( ابوسلمہ ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے ۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا ۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا ۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا ۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا ۔ امام ابوعبداللہ ( بخاری ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون ، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں ۔ ( نوٹ : صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے ۔ )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ،. فَقَالَ يَكْفِيكَ صَاعٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي. فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا، وَخَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ.
وہ اور ان کے والد ( جناب زین العابدین ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے ۔ اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی ۔ ( نوٹ : صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے ۔ )
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَيْمُونَةَ كَانَا يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ أَخِيرًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انھوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ". وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ أَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ كَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُ ثَلاَثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. فَقَالَ لِي الْحَسَنُ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ. فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا.
میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے ( ان کی مراد حسن بن محمد ابن حنفیہ سے تھی ) آئے ۔ انھوں نے پوچھا کہ جنابت کے غسل کا کیا طریقہ ہے ؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو پانی لیتے اور ان کو اپنے سر پر بہاتے تھے ۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے تھے ۔ حسن نے اس پر کہا کہ میں تو بہت بالوں والا آدمی ہوں ۔ میں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاءً لِلْغُسْلِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے ۔ پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا ۔ پھر زمین پر ہاتھ رگڑا ۔ اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَىْءٍ نَحْوَ الْحِلاَبِ، فَأَخَذَ بِكَفِّهِ، فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرنا چاہتے تو حلاب کی طرح ایک چیز منگاتے ۔ پھر ( پانی کا چلو ) اپنے ہاتھ میں لیتے اور سر کے داہنے حصے سے غسل کی ابتداء کرتے ۔ پھر بائیں حصہ کا غسل کرتے ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے بیچ میں لگاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنَا مَيْمُونَةُ، قَالَتْ صَبَبْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً، فَأَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ، فَلَمْ يَنْفُضْ بِهَا.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا ۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا ۔ اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا ۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا ۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ۔ پھر اپنے چہرہ کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا ۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومال دیا گیا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَلَكَ بِهَا الْحَائِطَ ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ غَسَلَ رِجْلَيْهِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا تو پہلے اپنی شرمگاہ کو اپنے ہاتھ سے دھویا ۔ پھر ہاتھ کو دیوار پر رگڑ کر دھویا ۔ پھر نماز کی طرح وضو کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غسل سے فارغ ہو گئے تو دونوں پاؤں دھوئے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ.
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں اس طرح غسل کرتے تھے کہ ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَهُ.
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو ( پہلے ) اپنا ہاتھ دھوتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ جَنَابَةٍ. وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ.
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں مل کر ) ایک ہی برتن میں غسل جنابت کرتے تھے ۔ اور شعبہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔ اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. زَادَ مُسْلِمٌ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی کوئی زوجہ مطہرہ ایک برتن میں غسل کرتے تھے ۔ اس حدیث میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر کی روایت میں شعبہ سے «من الجنابة» کا لفظ ( زیادہ ) ہے ۔ ( یعنی یہ جنابت کا غسل ہوتا تھا ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاءً يَغْتَسِلُ بِهِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَهُمَا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ رَأْسَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى مِنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ.
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر گرا کر انہیں دو یا تین بار دھویا ۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں پر گرا کر اپنی شرمگاہوں کو دھویا ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ پھر اپنے سر کو تین مرتبہ دھویا ، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہایا ، پھر آپ اپنی غسل کی جگہ سے الگ ہو گئے ۔ پھر اپنے قدموں کو دھویا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً وَسَتَرْتُهُ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ، فَغَسَلَهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ـ قَالَ سُلَيْمَانُ لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَةَ أَمْ لاَ ـ ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوْ بِالْحَائِطِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَغَسَلَ رَأْسَهُ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَلَمْ يُرِدْهَا.
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( غسل کا ) پانی رکھا اور پردہ کر دیا ، آپ نے ( پہلے غسل میں ) اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے ایک یا دو بار دھویا ۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں راوی ( سالم بن ابی الجعد ) نے تیسری بار کا بھی ذکر کیا یا نہیں ۔ پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا ۔ اور شرمگاہ دھوئی ، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ اور سر کو دھویا ۔ پھر سارے بدن پر پانی بہایا ۔ پھر ایک طرف سرک کر دونوں پاؤں دھوئے ۔ بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹاؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذَكَرْتُهُ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا ۔ تو آپ نے فرمایا ، اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج ( مطہرات ) کے پاس تشریف لے گئے اور صبح کو احرام اس حالت میں باندھا کہ خوشبو سے بدن مہک رہا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ. قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ أَوَكَانَ يُطِيقُهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلاَثِينَ. وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ تِسْعُ نِسْوَةٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں ۔ ( نو منکوحہ اور دو لونڈیاں ) راوی نے کہا ، میں نے انس سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتادہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلاً أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَسَأَلَ فَقَالَ " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ".
مجھے مذی بکثرت آتی تھی ، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا ) تھیں ۔ اس لیے میں نے ایک شخص ( مقداد بن اسود اپنے شاگرد ) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انھوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو ( یہی کافی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ، مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا. فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.
میں اسے گوارا نہیں کر سکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی ۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ.
گویا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ.وَقَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی طرح وضو کرتے ۔ پھر غسل کرتے ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے ۔ تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے ، پھر تمام بدن کا غسل کرتے ۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے ۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَضُوءًا لِجَنَابَةٍ فَأَكْفَأَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالأَرْضِ ـ أَوِ الْحَائِطِ ـ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ. قَالَتْ فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ، فَلَمْ يُرِدْهَا، فَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا ۔ پھر شرمگاہ دھوئی ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا ۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا ۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا : " مَكَانَكُمْ ". ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ. تَابَعَهُ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں ، لوگ کھڑے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے ۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً، فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ، وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهْوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کر دیا ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا ۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے ۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام غسل سے ایک طرف ہو گئے ۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے ۔ اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا دینا چاہا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے ۔
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا إِذَا أَصَابَتْ إِحْدَانَا جَنَابَةٌ، أَخَذَتْ بِيَدَيْهَا ثَلاَثًا فَوْقَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ بِيَدِهَا عَلَى شِقِّهَا الأَيْمَنِ، وَبِيَدِهَا الأُخْرَى عَلَى شِقِّهَا الأَيْسَرِ.
ہم ازواج ( مطہرات ) میں سے کسی کو اگر جنابت لاحق ہوتی تو وہ ہاتھوں میں پانی لے کر سر پر تین مرتبہ ڈالتیں ۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنے حصے کا غسل کرتیں اور دوسرے ہاتھ سے بائیں حصے کا غسل کرتیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ. حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسَى، فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ. وَأَخَذَ ثَوْبَهُ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا ". فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے ۔ اس پر انھوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں ۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا ۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے ۔ آپ کہتے جاتے تھے ۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے ۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے ۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى وَعِزَّتِكَ وَلَكِنْ لاَ غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ ". وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا ".
( ایک بار ) ایوب علیہ السلام ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے ۔ اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا ۔ کہ اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کر دیا ، جسے تم دیکھ رہے ہو ۔ ایوب علیہ السلام نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم ۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بے نیازی کیونکر ممکن ہے ۔ اور اس حدیث کو ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے ، وہ صفوان سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ ابوہریرہ سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اس طرح نقل کرتے ہیں ’’ جب کہ حضرت ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے ‘‘ ( آخر تک ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ ". فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ.
میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں ۔ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ سَتَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، غَيْرَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ. تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَابْنُ فُضَيْلٍ فِي السَّتْرِ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے ، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر ( دھویا ) پھر نماز کی طرح وضو کیا ۔ پاؤں کے علاوہ ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا ۔ اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ".
ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا ۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں اگر ( اپنی منی کا ) پانی دیکھے ( تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهْوَ جُنُبٌ، فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ " أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ". قَالَ كُنْتُ جُنُبًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ. فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ".
مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں تھے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا ۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ سبحان اللہ ! مومن ہرگز نجس نہیں ہو سکتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں ۔
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ، فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهْوَ قَاعِدٌ فَقَالَ " أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ " فَقُلْتُ لَهُ. فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ".
میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ۔ اس وقت میں جنبی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرْقُدُ وَهْوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ.
کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے ؟ کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهْوَ جُنُبٌ قَالَ " نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ فرمایا "ہاں ، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو ۔"
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهْوَ جُنُبٌ، غَسَلَ فَرْجَهُ، وَتَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهْوَ جُنُبٌ قَالَ " نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ ".
کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ہاں, لیکن وضو کر کے ۔"
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ ".
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کر اور شرمگاہ کو دھو کر سو جا ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغَسْلُ ". تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ. وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ مِثْلَهُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لئے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا ، اس حدیث کی متابعت عمرو نے شعبہ کے واسطہ سے کی ہے اور موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسن بصری نے بیان کیا ۔ اسی حدیث کی طرح ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا یہ حدیث اس باب کی تمام احادیث میں عمدہ اور بہتر ہے اور ہم نے دوسری حدیث ( عثمان اور ابن ابی کعب کی ) صحابہ کے اختلاف کے پیش نظر بیان کی اور غسل میں اختیاط زیادہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ يُمْنِ. قَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ. قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ـ رضى الله عنهم ـ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ. قَالَ يَحْيَى وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہوا لیکن انزال نہیں ہوا تو وہ کیا کرے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی طرح وضو کر لے اور ذکر کو دھو لے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ۔ میں نے اس کے متعلق علی بن ابی طالب ، زبیر بن العوام ، طلحہ بن عبیداللہ ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انھوں نے بھی یہی فرمایا یحییٰ نے کہا اور ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی ، انہیں ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ یہ بات انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ " يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَسْلُ أَحْوَطُ، وَذَاكَ الآخِرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا لاِخْتِلاَفِهِمْ.
انھوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لئے بیان کر دیں ( تاکہ معلوم ہو جائے کہ ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی ( سے غسل کر لینا ہی ) زیادہ پاک کرنے والا ہے ۔ ( نوٹ : یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ) ۔