Chapter 58: One-fifth of Booty to the Cause of Allah (Khumus)

خمس کے فرض ہونے کا بیان

كتاب فرض الخمس

63 Hadiths
Hadith #3091

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِيَ فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَاىَ قَدِ اجْتُبَّ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَالُوا فَعَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهْوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِي الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا لَكَ ‏"‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهَ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ‏.‏ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجْنَا مَعَهُ‏.‏

جنگ بدر کے مال غنیمت سے میرے حصے میں ایک جوان اونٹنی آئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک جوان اونٹنی خمس کے مال میں سے دی تھی ‘ جب میرا ارادہ ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کروں ‘ تو بنی قینقاع ( قبیلہ یہود ) کے ایک صاحب سے جو سنار تھے ‘ میں نے یہ طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں اذخر گھاس ( جنگل سے ) لائیں ۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں وہ گھاس سناروں کو بیچ دوں گا اور اس کی قیمت سے اپنے نکاح کا ولیمہ کروں گا ۔ ابھی میں ان دونوں اونٹنیوں کا سامان ‘ پالان اور تھیلے اور رسیاں جمع کر رہا تھا ۔ اور یہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے گھر کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ جب سارا سامان فراہم کر کے واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں ۔ اور ان کے پیٹ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی گئی ہیں ۔ جب میں نے یہ حال دیکھا تو میں بے اختیار رو دیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اسی گھر میں کچھ انصار کے ساتھ شراب پی رہے ہیں ۔ میں وہاں سے واپس آ گیا اور سیدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ میں کسی بڑے صدمے میں ہوں ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ‘ علی ! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن جیسا صدمہ کبھی نہیں دیکھا ۔ حمزہ ( رضی اللہ عنہ ) نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کر دیا ۔ دونوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کے پیٹ چیر ڈالے ۔ ابھی وہ اسی گھر میں کئی یاروں کے ساتھ شراب کی مجلس جمائے ہوئے موجود ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنی چادر مانگی اور اسے اوڑھ کر پیدل چلنے لگے ۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہوئے ۔ آخر جب وہ گھر آ گیا جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ موجود تھے تو آپ نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور اندر موجود لوگوں نے آپ کو اجازت دے دی ۔ وہ لوگ شراب پی رہے تھے ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ ملامت کرنا شروع کی ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شراب کے نشے میں مخمور اور سرخ ہو رہی تھیں ۔ انہوں نے نظر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ پھر نظر ذرا اور اوپر اٹھائی ‘ پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر نظر لے گئے اس کے بعد نگاہ اور اٹھا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کے قریب دیکھنے لگے ۔ پھر چہرے پر جمادی ۔ پھر کہنے لگے کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہو ، یہ حال دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محسوس کیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ بالکل نشے میں ہیں ، تو آپ وہیں سے الٹے پاؤں واپس آ گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکل آئے ۔

Hadith #3092, 3093

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ‏. فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ، فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ‏.‏ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، فَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ‏.‏ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ آنحضرت کے اس ترکہ سے انہیں ان کی میراث کا حصہ دلایا جائے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فے کی صورت میں دیا تھا ( جیسے فدک وغیرہ ) ۔ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی حیات میں ) فرمایا تھا کہ ہمارا ( گروہ انبیاء علیہم السلام کا ) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ‘ ہمارا ترکہ صدقہ ہے ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر غصہ ہو گئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ترک ملاقات کی اور وفات تک ان سے نہ ملیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہی تھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقے کی وراثت کا مطالبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کرتے رہے تھے ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کا جو صدقہ تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو ( اپنے عہد خلافت میں ) دے دیا ۔ البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہیں اور ان حقوق کے لئے جو وقتی طور پر پیش آتے یا وقتی حادثات کے لئے رکھی تھیں ۔ یہ جائیداد اس شخص کے اختیار میں رہیں گی جو خلیفہ وقت ہو ۔ زہری نے کہا ‘ چنانچہ ان دونوں جائدادوں کا انتظام آج تک ( بذریعہ حکومت ) اسی طرح ہوتا چلا آتا ہے ۔

Hadith #3094

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ،، وَكَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَقَالَ مَالِكٌ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ مَتَعَ النَّهَارُ، إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَأْتِينِي فَقَالَ أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ سَرِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ يَا مَالِ، إِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ قَوْمِكَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَاقْبِضْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَرْتَ بِهِ غَيْرِي‏.‏ قَالَ اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ‏.‏ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا، ثُمَّ جَلَسَ يَرْفَا يَسِيرًا ثُمَّ قَالَ هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلاَ فَسَلَّمَا فَجَلَسَا، فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا‏.‏ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي النَّضِيرِ‏.‏ فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ‏.‏ قَالَ عُمَرُ تَيْدَكُمْ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهُ‏.‏ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِكَ‏.‏ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ ذَلِكَ قَالاَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ خَصَّ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْفَىْءِ بِشَىْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ ـ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏قَدِيرٌ‏}‏ ـ فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلاَ اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ قَدْ أَعْطَاكُمُوهُ، وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَكُنْتُ أَنَا وَلِيَّ أَبِي بَكْرٍ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي تُكَلِّمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، جِئْتَنِي يَا عَبَّاسُ تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجَاءَنِي هَذَا ـ يُرِيدُ عَلِيًّا ـ يُرِيدُ نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ لَكُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلاَنِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبِمَا عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا، فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا‏.‏ فَبِذَلِكَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ قَالَ الرَّهْطُ نَعَمْ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، لاَ أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَىَّ، فَإِنِّي أَكْفِيكُمَاهَا‏.‏

محمد بن جبیر نے مجھ سے ( اسی آنے والی ) حدیث کا ذکر کیا تھا ۔ اس لئے میں نے مالک بن اوس کی خدمت میں خود حاضر ہو کر ان سے اس حدیث کے متعلق ( بطور تصدیق ) پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ دن چڑھ آیا تھا اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ‘ اتنے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک بلانے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ امیرالمؤمنین آپ کو بلا رہے ہیں ۔ میں اس قاصد کے ساتھ ہی چلا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ ایک تخت پر بوریا بچھائے ‘ بورئیے پر کوئی بچھونا نہ تھا ‘ صرف ایک چمڑے کے تکئے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا ۔ پھر انہوں نے فرمایا ‘ مالک ! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے ‘ میں نے ان کے لئے کچھ حقیر سی امداد کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ تم اسے اپنی نگرانی میں ان میں تقسیم کرا دو ‘ میں نے عرض کیا ‘ یا امیرالمؤمنین ! اگر آپ اس کام پر کسی اور کو مقرر فرما دیتے تو بہتر ہوتا ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے یہی اصرار کیا کہ نہیں ‘ اپنی ہی تحویل میں بانٹ دو ۔ ابھی میں وہیں حاضر تھا کہ امیرالمؤمنین کے دربان یرفا آئے اور کہا کہ عثمان بن عفان ‘ عبدالرحمٰن بن عوف ‘ زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں انہیں اندر بلا لو ۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات داخل ہوئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ۔ یرفا بھی تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور پھر اندر آ کر عرض کیا علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو بھی اندر آنے کی اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں انہیں بھی اندر بلا لو ۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات بھی اندر تشریف لے آئے ۔ اور سلام کر کے بیٹھ گئے ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ یا امیرالمؤمنین ! میرا اور ان کا فیصلہ کر دیجئیے ۔ ان حضرات کا جھگڑا اس جائیداد کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نضیر کے اموال میں سے ( خمس کے طور پر ) عنایت فرمائی تھی ۔ اس پر حضرت عثمان اور ان کے ساتھ جو دیگر صحابہ تھے کہنے لگے ‘ ہاں ‘ امیرالمؤمنین ! ان حضرات میں فیصلہ فرما دیجئیے اور ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے بے فکر کر دیجئیے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ اچھا ‘ تو پھر ذرا ٹھہرئیے اور دم لے لیجئے میں آپ لوگوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ جو کچھ ہم ( انبیاء ) چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ‘‘ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خود اپنی ذات گرامی بھی تھی ۔ ان حضرات نے تصدیق کی ‘ کہ جی ہاں ‘ بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف مخاطب ہوئے ‘ ان سے پوچھا ۔ میں آپ حضرات کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ کیا آپ حضرات کو بھی معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشک ایسا فرمایا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں آپ لوگوں سے اس معاملہ کی شرح بیان کرتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس غنیمت کا ایک مخصوص حصہ مقرر کر دیا تھا ۔ جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی دوسرے کو نہیں دیا تھا ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی » ماافاء اﷲ علی رسولہ منھم « سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد قدیر تک اور وہ حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص رہا ۔ مگر قسم اللہ کی یہ جائیداد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑ کر اپنے لئے جوڑ نہ رکھی ‘ نہ خاص اپنے خرچ میں لائے ‘ بلکہ تم ہی لوگوں کو دیں اور تمہارے ہی کاموں میں خرچ کیں ۔ یہ جو جائیداد بچ رہی ہے اس میں سے آپ اپنی بیویوں کا سال بھر کا خرچ لیا کرتے اس کے بعد جو باقی بچتا وہ اللہ کے مال میں شریک کر دیتے ( جہاد کے سامان فراہم کرنے میں ) خیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے ۔ حاضرین تم کو اللہ کی قسم ! کیا تم یہ نہیں جانتے ؟ انہوں نے کہا بیشک جانتے ہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے کہا میں آپ حضرات سے بھی قسم دے کر پوچھتا ہوں ‘ کیا آپ لوگ یہ نہیں جانتے ہیں ؟ ( دونوں حضرات نے جواب دیا ہاں ! ) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے اٹھا لیا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں ‘ اور اس لئے انہوں نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مخلص ) جائیداد پر قبضہ کیا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مصارف کیا کرتے تھے ‘ وہ کرتے رہے ۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے اس طرز عمل میں سچے مخلص ‘ نیکوکار اور حق کی پیروی کرنے والے تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا اور اب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نائب مقرر ہوا ۔ میری خلافت کو دو سال ہو گئے ہیں ۔ اور میں نے بھی اس جائیداد کو اپنی تحویل میں رکھا ہے ۔ جو مصارف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس میں کیا کرتے تھے ویسا ہی میں بھی کرتا رہا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے اس طرز عمل میں سچا ‘ مخلص اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ۔ پھر آپ دونوں میرے پاس مجھ سے گفتگو کرنے آئے اور بالاتفاق گفتگو کرنے لگے کہ دونوں کا مقصد ایک تھا ۔ جناب عباس ! آپ تو اس لئے تشریف لائے کہ آپ کو اپنے بھتیجے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی میراث کا دعویٰ میرے سامنے پیش کرنا تھا ۔ پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ اس لئے تشریف لائے کہ آپ کو اپنی بیوی ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کا دعویٰ پیش کرنا تھا کہ ان کے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی میراث انہیں ملنی چاہئے ‘ میں نے آپ دونوں حضرات سے عرض کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما گئے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی میراث تقسیم نہیں ہوتی ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ پھر مجھ کو یہ مناسب معلوم ہوا کہ میں ان جائدادوں کو تمہارے قبضے میں دے دوں ‘ تو میں نے تم سے کہا ‘ دیکھو اگر تم چاہو تو میں یہ جائیداد تمہارے سپرد کر دیتا ہوں ‘ لیکن اس عہد اور اس اقرار پر کہ تم اس کی آمدنی سے وہ سب کام کرتے رہو گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں کرتے رہے اور جو کام میں اپنی حکومت کے شروع سے کرتا رہا ۔ تم نے اس شرط کو قبول کر کے درخواست کی کہ جائدادیں ہم کو دے دو ۔ میں نے اسی شرط پر دے دی ‘ حاضرین کہو میں نے یہ جائیداد یں اسی شرط پر ان کے حوالے کی ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے کہا ‘ بیشک اسی شرط پر آپ نے دی ہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ اور عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ‘ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ میں نے اسی شرط پر یہ جائدادیں آپ حضرات کے حوالے کی ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے کہا بیشک ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ پھر مجھ سے کس بات کا فیصلہ چاہتے ہو ؟ ( کیا جائیداد کو تقسیم کرانا چاہتے ہو ) قسم اللہ کی ! جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں میں تو اس کے سوا اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں ۔ ہاں ! یہ اور بات ہے کہ اگر تم سے اس کا انتظام نہیں ہو سکتا تو پھر جائیداد میرے سپرد کر دو ۔ میں اس کا بھی کام دیکھ لوں گا ۔

Hadith #3095

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ مِنْهُ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ قَالَ ‏ "‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ وَعَقَدَ بِيَدِهِ ـ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ‏"‏‏.‏

قبیلہ عبدالقیس کا وفد ( دربار رسالت میں ) حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور قبیلہ مضر کے کفار ہمارے اور آپ کے بیچ میں بستے ہیں ۔ ( اس لئے ان کے خطرے کی وجہ سے ہم لوگ ) آپ کی خدمت میں صرف ادب والے مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں ۔ آپ ہمیں کوئی ایسا واضح حکم فرما دیں جس پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی بتا دیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ( میں تمہیں حکم دیتا ہوں ) اللہ پر ایمان لانے کا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور آپ نے اپنے ہاتھ کو گرہ لگائی ‘ نماز قائم کرنے کا ‘ زکوٰۃ دینے کا ‘ رمضان کے روزے رکھنے کا ‘ اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں غنیمت کا ما ل ملے ۔ اس میں پانچواں حصہ ( خمس ) اللہ کے لئے نکال دو اور تمہیں میں دبا ‘ نقیر ‘ حنتم اور مزفت کے استعمال سے روکتا ہوں ۔

Hadith #3096

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهْوَ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے وارث میرے بعد ایک دینار بھی نہ بانٹیں ( میرا ترکہ تقسیم نہ کریں ) میں جو چھوڑ جاؤں اس میں سے میرے عاملوں کی تنخواہ اور میری بیویوں کا خرچ نکال کر باقی سب صدقہ ہے ۔

Hadith #3097

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَىْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلاَّ شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَىَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ‏.‏

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے گھر میں آدھے وسق جو کے سوا جو ایک طاق میں رکھے ہوئے تھے اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے ( جاندار ) کی خوراک بن سکتی ۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی اور بہت دن گزر گئے ۔ پھر میں نے اس میں سے ناپ کر نکالنا شروع کیا تو وہ جلدی ختم ہو گئے ۔

Hadith #3098

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ سِلاَحَهُ وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے بعد ) اپنے ہتھیار ‘ ایک سفید خچر ‘ اور ایک زمین جسے آپ خود صدقہ کر گئے تھے ‘ کے سوا اور کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تھا ۔

Hadith #3099

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدٌ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ‏.‏

( مرض الوفات میں ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بہت بڑھ گیا ‘ تو آپ نے سب بیویوں سے اس کی اجازت چاہی کہ مرض کے دن آپ میرے گھر میں گزاریں ۔ لہذا اس کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی تھی ۔

Hadith #3100

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي، وَفِي نَوْبَتِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ‏.‏ قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاكٍ، فَضَعُفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر ‘ میری باری کے دن ‘ میرے حلق اور سینے کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی ‘ اللہ تعالیٰ نے ( وفات کے وقت ) میرے تھوک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کر دیا تھا ‘ بیان کیا ( وہ اس طرح کہ ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) مسواک لئے ہوئے اندر آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے ۔ اس لئے میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میں نے اسے چبانے کے بعد وہ مسواک آپ کے دانتوں پر ملی ۔

Hadith #3101

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ، وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ باب الْمَسْجِدِ عِنْدَ باب أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا ‏"‏‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ‏"‏‏.‏

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملنے کے لئے حاضر ہوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے ۔ پھر وہ واپس ہونے کے لئے اٹھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اٹھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجدنبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے گزرے ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ‘ ذرا ٹھہر جاؤ ( میرے ساتھ میری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں یعنی کوئی دوسرا نہیں ) ان دونوں نے عرض کیا ۔ سبحان اللہ ‘ یا رسول اللہ ! ان حضرات پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے ۔ مجھے یہی خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو جائے ۔

Hadith #3102

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي حَاجَتَهُ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ‏.‏

میں ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اوپر چڑھا ‘ تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی اور چہرہ مبارک شام کی طرف تھا ۔

Hadith #3103

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو دھوپ ابھی ان کے حجرے میں باقی رہتی تھی ۔

Hadith #3104

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا فَأَشَارَ نَحْوَ مَسْكَنِ عَائِشَةَ فَقَالَ ‏ "‏ هُنَا الْفِتْنَةُ ـ ثَلاَثًا ـ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اسی طرف سے ( یعنی مشرق کی طرف سے ) فتنے برپا ہوں گے ‘ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا کہ یہیں سے شیطان کا سر نمودار ہو گا ۔

Hadith #3105

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُرَاهُ فُلاَنًا، لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَةُ ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں موجود تھے ۔ اچانک انہوں نے سنا کہ کوئی صاحب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ دیکھتے نہیں ، یہ شخص گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ہیں ، حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا ! رضاعت بھی ان تمام چیزوں کو حرام کر دیتی ہے جنہیں ولادت حرام کرتی ہے ۔

Hadith #3106

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ، وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ‏.‏

جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ان کو ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) بحرین ( عامل بنا کر ) بھیجا اور ایک پروانہ لکھ کر ان کو دیا اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی مہر لگائی ، مہر مبارک پر تین سطریں کندہ تھیں ‘ ایک سطر میں ” محمد ‘ ‘ دوسری میں ”رسول ‘ ‘ تیسری میں ” اللہ ‘ ‘ کندہ تھا ۔

Hadith #3107

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالاَنِ، فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُمَا نَعْلاَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو پرانے جوتے نکال کر دکھائے جن میں دو تسمے لگے ہوئے تھے ‘ اس کے بعد پھر ثابت بنانی نے مجھ سے انس سے بیان کیا کہ وہ دونوں جوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے ۔

Hadith #3108

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَزَادَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ‏.‏

عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی ۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار ( تہمد ) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ ( اور موٹا پیوند دار کہتے ہو ) ہمیں نکال کر دکھائی ۔

Hadith #3109

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ قَدَحَ، النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم انْكَسَرَ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ‏.‏ قَالَ عَاصِمٌ رَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے ٹوٹی ہوئی جگہوں کو چاندی کی زنجیروں سے جٖڑوا لیا ۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے ۔ اور اس میں میں نے پانی بھی پیا ہے ۔

Hadith #3110

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ إِلَىَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا فَقُلْتُ لَهُ لاَ‏.‏ فَقَالَ لَهُ فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللَّهِ، لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ قَالَ ‏"‏ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا ‏"‏‏.‏

جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی ‘ اور کہا اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجئیے ۔ ( حضرت زین العابدین نے بیان کیا کہ ) میں نے کہا ‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے کہا تو کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے ؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ ( بنو امیہ ) اسے آپ سے نہ چھین لیں اور خدا کی قسم ! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا ۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی ( جمیلہ نامی رضی اللہ عنہا ) کو پیغام نکاح دے دیا تھا ۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا ۔ میں اس وقت بالغ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ہے ۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ( اس رشتہ کی وجہ سے ) کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد ( عاص بن ربیع ) کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی ‘ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی ‘ جو وعدہ کیا ‘ اسے پورا کیا ۔ میں کسی حلال ( یعنی نکاح ثانی ) کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں ‘ لیکن اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی ۔

Hadith #3111

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ لَوْ كَانَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ ذَاكِرًا عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ أَغْنِهَا عَنَّا‏.‏ فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا‏.‏

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی ( جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے ) شکایت کرنے ان کے پاس آئے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا ۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے ۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں ۔ چنانچہ میں اسے لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ( کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے ) میں نے جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو ۔

Hadith #3112

قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي، خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ، فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّدَقَةِ‏.‏

میرے والد ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں ۔

Hadith #3113

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى مِمَّا تَطْحَنُ، فَبَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِسَبْىٍ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تُوَافِقْهُ، فَذَكَرَتْ لِعَائِشَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لَهُ، فَأَتَانَا وَقَدْ دَخَلْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ ‏"‏ عَلَى مَكَانِكُمَا ‏"‏ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَاهُ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمَا مِمَّا سَأَلْتُمَاهُ ‏"‏‏.‏

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے کی بہت تکلیف ہوتی ۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں ۔ اس لئے وہ بھی ان میں سے ایک لونڈی یا غلام کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے ۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق کہہ کر ( واپس ) چلی آئیں ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی درخواست پیش کر دی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں ( رات ہی کو ) تشریف لائے ۔ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ( جب ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( تو ہم لوگ کھڑے ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح ہو ویسے ہی لیٹے رہو ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیچ میں بیٹھ گئے اور اتنے قریب ہو گئے کہ ) میں نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جو کچھ تم لوگوں نے ( لونڈی یا غلام ) مانگے ہیں ‘ میں تمہیں اس سے بہتر بات کیوں نہ بتاؤں ‘ جب تم دونوں اپنے بستر پر لیٹ جاؤ ( تو سونے سے پہلے ) اللہ اکبر 34 مرتبہ اور الحمداللہ 33 مرتبہ اور سبحان اللہ 33 مرتبہ پڑھ لیا کرو ‘ یہ عمل بہتر ہے اس سے جو تم دونوں نے مانگا ہے ۔

Hadith #3114

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَقَتَادَةَ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِنَّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حُصَيْنٌ ‏"‏ بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرٍ أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏‏.‏

ہم انصاریوں کے قبیلہ میں ایک انصاری کے گھر بچہ پیدا ہو تو انہوں نے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا اور شعبہ نے منصور سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ ان انصاری نے بیان کیا ( جن کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا ) کہ میں بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت ( ابوالقاسم ) پر کنیت نہ رکھنا ‘ کیونکہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنایا گیا ہے ۔ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ‘ اور حصین نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرزوق نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے سالم سے سنا انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ان انصاری صحابی نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن کنیت نہ رکھو ۔

Hadith #3115

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ‏"‏‏.‏

ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ‘ انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے یہ سن کر وہ انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے ۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت مت رکھو ‘ کیونکہ قاسم میں ہوں ۔

Hadith #3116

حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَاللَّهُ الْمُعْطِي وَأَنَا الْقَاسِمُ، وَلاَ تَزَالُ هَذِهِ الأُمَّةُ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے ۔ اور دینے والا تو اللہ ہی ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اپنے دشمنوں کے مقابلے میں یہ امت ( مسلمہ ) ہمیشہ غالب رہے گی ۔ تاآنکہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے اور اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے ۔

Hadith #3117

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا أُعْطِيكُمْ وَلاَ أَمْنَعُكُمْ، أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نہ میں تمہیں کوئی چیز دیتا ہوں ‘ نہ تم سے کسی چیز کو روکتا ہوں ۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں ۔ جہاں جہاں کا مجھے حکم ہوتا ہے بس وہیں رکھ دیتا ہوں ۔

Hadith #3118

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ـ وَاسْمُهُ نُعْمَانُ ـ عَنْ خَوْلَةَ الأَنْصَارِيَّةِ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ رِجَالاً يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مال کو بے جا اڑاتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ ملے گی ۔

Hadith #3119

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک خیر و برکت ( آخرت میں ) اور غنیمت ( دنیا میں ) بندھی ہوئی ہے ۔

Hadith #3120

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا ۔ اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کی بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔

Hadith #3121

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ جَرِيرًا، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔

Hadith #3122

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ نے فرمایا ‘ میرے لئے ( مراد امت ہے ) غنیمت کے مال حلال کئے گئے ہیں ۔

Hadith #3123

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ‏{‏مَعَ مَا نَالَ‏}‏ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام ( اس کے وعدے ) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے ۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا ۔

Hadith #3124

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لاَ يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهْوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلاَ أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، وَلاَ أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهْوَ يَنْتَظِرُ وِلاَدَهَا‏.‏ فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلاَةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا‏.‏ فَحُبِسَتْ، حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ، فَجَاءَتْ ـ يَعْنِي النَّارَ ـ لِتَأْكُلَهَا، فَلَمْ تَطْعَمْهَا، فَقَالَ إِنَّ فِيكُمْ غُلُولاً، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ‏.‏ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ‏.‏ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعُوهَا، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا، ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نبی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام ) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو ( ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی ) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے ۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی ( اریحا ) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا ۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی خدا کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں ۔ اے اللہ ! ہمارے لئے اسے اپنی جگہ پر روک دے ۔ چنانچہ سورج رک گیا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی ۔ پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لئے آئی لیکن جلا نہ سکی ‘ اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے ۔ اس لئے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے ( جب بیعت کرنے لگے تو ) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ انہوں نے فرمایا ‘ کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے ۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں ۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے ۔ ( آخر چوری مان لی گئی ) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے ( جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا ) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا ۔ اسلئے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی ۔

Hadith #3125

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلاَّ قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ‏.‏

عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘ اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کر دیا کرتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی ۔

Hadith #3126

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

ایک اعرابی ( لاحق بن ضمیرہ باہلی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لئے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لئے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لئے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ( دین ) ہی بلند رہے ۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے ۔

Hadith #3127

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ادْعُهُ لِي‏.‏ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ‏.‏ وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ‏.‏ قَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ‏.‏ تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں ۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لئے رکھ لی ۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں ۔ پھر فرمایا ابو مسور ! یہ قباء میں نے تمہارے لئے چھپا کر رکھ لی تھی ۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے ۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے ۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے ۔

Hadith #3128

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ‏.‏

صحابہ ( انصار ) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنوقریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اس طرح کے ہدیا واپس فرما دیا کرتے تھے ۔

Hadith #3129

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ يَا بُنَىِّ، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلاَّ ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي لاَ أُرَانِي إِلاَّ سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا فَقَالَ يَا بُنَىِّ بِعْ مَالَنَا فَاقْضِ دَيْنِي‏.‏ وَأَوْصَى بِالثُّلُثِ، وَثُلُثِهِ لِبَنِيهِ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ثُلُثُ الثُّلُثِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَىْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ يَا بُنَىِّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَىْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلاَىَ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ يَا أَبَتِ مَنْ مَوْلاَكَ قَالَ اللَّهُ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلاَّ قُلْتُ يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ‏.‏ فَيَقْضِيهِ، فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ ـ رضى الله عنه ـ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا، إِلاَّ أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ‏.‏ قَالَ وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ لاَ وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ وَلاَ جِبَايَةَ خَرَاجٍ وَلاَ شَيْئًا، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ‏.‏ فَقَالَ مِائَةُ أَلْفٍ‏.‏ فَقَالَ حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي‏.‏ قَالَ وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ‏.‏ قَالَ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ‏.‏ قَالَ قَالَ فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَكَ مِنْ هَا هُنَا إِلَى هَا هُنَا‏.‏ قَالَ فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ قَالَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ‏.‏ قَالَ كَمْ بَقِيَ قَالَ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ‏.‏ قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ‏.‏ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمْ بَقِيَ فَقَالَ سَهْمٌ وَنِصْفٌ‏.‏ قَالَ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ‏.‏ قَالَ وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا‏.‏ قَالَ لاَ، وَاللَّهِ لاَ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ أَلاَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ كَلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ قَالَ فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ‏.‏

جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے ! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے ۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا ؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے ! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لئے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لئے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لئے ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لئے ہو گا ۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے ۔ جیسے خبیب اور عباد ۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں ۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا ! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی ! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک ! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی ! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی ۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو آراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی ۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے ۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے ۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ جہادوں میں شرکت کی تھی ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو اس کی تعداد بائیس لاکھ تھی ۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو دریافت فرمایا ‘ بیٹے ! میرے ( دینی ) بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے ؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ایک لاکھ ‘ اس پر حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اللہ کی ! میں تو نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا ۔ عبداللہ نے اب کہا ‘ کہ قرض کی تعداد بائیس لاکھ ہوئی پھر آپ کی کیا رائے ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے ۔ خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا ‘ عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی ۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آ کر ہم سے مل لے ‘ چنانچہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے ‘ ان کا زبیر پرچار لاکھ روپیہ تھا ۔ انہوں نے تو یہی پیش کش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں ‘ لیکن عبداللہ نے کہا کہ نہیں پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی یہی کہا کہ تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ آخر انہوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصے کا قطعہ مقرر کر دو ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اپنے قرض میں یہاں سے یہاں تک لے لیجئے ۔ ( راوی نے ) بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی جائیداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کر دیا گیا ۔ اور سارے قرض کی ادائیگی ہو گئی ۔ غابہ کی جائیداد میں ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے ۔ اس لئے عبداللہ رضی اللہ عنہ معاویہ کے یہاں ( شام ) تشریف لے گئے ‘ وہاں عمرو بن عثمان ‘ منزر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی قیمت کتنی طے ہوئی ‘ انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ طے پائی تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اب باقی کتنے حصے رہ گئے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار حصے ‘ اس پر منذر بن زبیر نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ عمرو عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ ابن زمعہ نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اب کتنے حصے باقی بچے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ ! معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اسے میں ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ بیان کیا کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا ۔ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کر چکے تو زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث تقسیم کر دیجئیے ‘ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی تمہاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کر سکتا ‘ جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرا لوں کہ جس شخص کا بھی زبیر رضی اللہ عنہ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے ‘ راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے ‘ تو عبداللہ نے ان کی میراث تقسیم کی ‘ راوی نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے ( وصیت کے مطابق ) تہائی حصہ بچی ہوئی رقم میں سے نکال لیا تھا ‘ پھر بھی ہر بیوی کے حصے میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی ‘ اور کل جائیداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی ۔

Hadith #3130

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مَرِيضَةً‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ ‏"‏‏.‏

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے ۔ ان کے نکاح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں ۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا ۔

Hadith #3131, 3132

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَ آخِرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏ فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا فَأَذِنُوا‏.‏ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْىِ هَوَازِنَ‏.‏

جب ہوازن کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالوں اور قیدیوں کی واپسی کا سوال کیا ‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے ۔ ان دونوں چیزوں میں سے تم ایک ہی واپس لے سکتے ہو ۔ اپنے قیدی واپس لے لو یا پھر مال لے لو ‘ اور میں نے تمہارا انتظار بھی کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا اور جب یہ بات ان پر واضح ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز ( قیدی یا مال ) واپس کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدی ہی واپس لینا چاہتے ہیں ۔ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا ‘ امابعد ! تمہارے یہ بھائی اب ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں ۔ اسی لئے جو شخص اپنی خوشی سے غنیمت کے اپنے حصے کے ( قیدی ) واپس کرنا چاہے وہ کر دے اور جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہمیں جب اس کے بعد سب سے پہلی غنیمت ملے تو اس میں سے اس کے حصے کی ادائیگی کر دی جائے تو وہ بھی اپنے قیدی واپس کر دے ‘ ( اور جب ہمیں دوسرے غنیمت ملے گی تو اس کا حصہ ادا کر دیا جائے گا ) اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنی خوشی سے انہیں اپنے حصے واپس کر دیتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کن لوگوں نے اپنی خوشی سے اجازت دی اور کن لوگوں نے نہیں دی ہے ۔ اس لئے سب لوگ ( اپنے خیموں میں ) واپس چلے جائیں اور تمہارے سردار لوگ تمہاری بات ہمارے سامنے آ کر بیان کریں ۔ سب لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر خبر دی کہ سب لوگ خوشی سے اجازت دیتے ہیں ۔ یہی وہ خبر ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہوئی ہے ۔

Hadith #3133

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيُّ ـ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ، أَحْفَظُ ـ عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لاَ آكُلُ‏.‏ فَقَالَ هَلُمَّ فَلأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا لاَ يُبَارَكُ لَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا أَفَنَسِيتَ قَالَ ‏"‏ لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏

ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے ( کھانا لایا گیا اور ) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا ۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے ۔ غالباً موالی میں سے تھے ۔ انہیں بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا ‘ وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ ( تمہاری قسم پر ) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں ‘ قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( غزوہ تبوک کے لئے ) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ کی قسم ! میں تمہارے لئے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا ‘ کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا ‘ اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں ؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ‘ خوب موٹے تازے اور فربہ ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عطیہ میں ہمارے لئے کوئی برکت نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ ہم پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا ۔ شاید آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو ‘ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! تم اس پر یقین رکھو کہ انشاءاللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں ‘ پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔

Hadith #3134

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرًا، فَكَانَتْ سِهَامُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی لشکر کے ساتھ تھے ۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی ۔ اس لئے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا ۔

Hadith #3135

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ ( خمس وغیرہ میں سے ) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے ۔

Hadith #3136

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ، أَنَا وَأَخَوَانِ لِي، أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ فِي بِضْعٍ، وَإِمَّا قَالَ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، وَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا، وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا‏.‏ فَأَقَمْنَا مَعَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا‏.‏ أَوْ قَالَ فَأَعْطَانَا مِنْهَا‏.‏ وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلاَّ أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے ۔ اس لئے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے ۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے ۔ ( میری عمر ان دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں ) ایک ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابو رہم ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ ( یہ لوگ روانہ ہوئے تھے ) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے سا تھ ملے ۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں ۔ چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے ۔ اور پھر سب ایک ساتھ ( مدینہ ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے مجاہدوں کے ساتھ ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو ۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے ۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا ۔ ( حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے ) ۔

Hadith #3137

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ قَدْ جَاءَنِي مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَلَمْ يَجِئْ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا‏.‏ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا‏.‏ فَحَثَا لِي ثَلاَثًا ـ وَجَعَلَ سُفْيَانُ يَحْثُو بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ لَنَا هَكَذَا قَالَ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ـ وَقَالَ مَرَّةً فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقُلْتُ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي‏.‏ قَالَ قُلْتَ تَبْخَلُ عَلَىَّ مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلاَّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ فَحَثَا لِي حَثْيَةً وَقَالَ عُدَّهَا‏.‏ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ قَالَ فَخُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ‏.‏ وَقَالَ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ وَأَىُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح ‘ اس طرح ( تین لپ ) دوں گا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا ۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ۔ چنانچہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا ۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے ( لپ بھرنے کی ) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا ۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا ۔ پھر میں حاضر ہوا ‘ اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا ۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا ۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا ۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔ حالانکہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے ۔ ، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر نے ‘ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی ‘ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘ کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے ۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا ( کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے ۔

Hadith #3138

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ اعْدِلْ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ شَقِيتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا ، انصاف سے کام لیجئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو بدبخت ہوا ۔

Hadith #3139

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ ‏ "‏ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا، ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى، لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی ( جو کفر کی حالت میں مر گئے تھے ) زندہ ہوتے اور ان نجس ، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں ( فدیہ لیے بغیر ) چھوڑ دیتا ۔

Hadith #3140

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَىْءٌ وَاحِدٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ وَزَادَ قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلاَ لِبَنِي نَوْفَلٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لأُمٍّ، وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ، وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لأَبِيهِمْ‏.‏

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا ، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے ۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور ( اس روایت میں ) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا ، اور ابن اسحاق ( صاحب مغازی ) نے کہا ہے کہ عبد شمس ، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے ۔ ( ان کی ماں دوسری تھیں ) ۔

Hadith #3141

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ، فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلاَمَيْنِ، مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قُلْتُ نَعَمْ، مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا‏.‏ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ، قُلْتُ أَلاَ إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي‏.‏ فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلاَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ‏"‏‏.‏ قَالاَ لاَ‏.‏ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ كِلاَكُمَا قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ سَلَبُهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ‏.‏ وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمَ أَبَاهُ (عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ)

بدر کی لڑائی میں ، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا ، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے ۔ میں نے آرزو کی کاش ! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا ۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا ، اور پوچھا چچا ! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ہاں ! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا ، مر نہ جائے ، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں ۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ( کفار کے لشکر میں ) گھومتا پھر رہا تھا ۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے ، وہ سامنے ( پھرتا ہوا نظر آ رہا ) ہے ۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا ۔ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے ؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے ۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا ۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے ۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا ۔

Hadith #3142

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، وَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ فَقَالَ رَجُلٌ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنِّي‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ـ رضى الله عنه لاَهَا اللَّهِ إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِيكَ سَلَبَهُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏‏.‏ فَأَعْطَاهُ فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرِفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ‏.‏

غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو ( ابتداء میں ) اسلامی لشکر ہارنے لگا ۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے ۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری ۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا ، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی ۔ آخر جب اس کو موت نے آ ڈبوچا ، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا ۔ اس کے بعد مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا ۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ) میں بھی کھڑا ہوا ۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ لیکن ( جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو ) میں بیٹھ گیا ۔ پھر دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( آج ) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا ۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا ۔ تیسری مرتبہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا ، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ ! میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا ، تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں ، یا رسول اللہ ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے ۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے ( کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں ) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکرنے سچ کہا ہے ۔ پھر آپ نے سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا ۔ ابوقتادہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا ۔

Hadith #3143

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ لِي ‏ "‏ يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ‏"‏‏.‏ قَالَ حَكِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا‏.‏ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ‏.‏ فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تُوُفِّيَ‏.‏

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روپیہ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا ، پھر دوبارہ میں نے مانگا اور اس مرتبہ بھی آپ نے عطا فرمایا ، پھر ارشاد فرمایا ، حکیم ! یہ مال دیکھنے میں سرسبز بہت میٹھا اور مزیدار ہے لیکن جو شخص اسے دل کی بے طمعی کے ساتھ لے اس کے مال میں تو برکت ہوتی ہے اور جو شخص اسے لالچ اور حرص کے ساتھ لے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی ، بلکہ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کھائے جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ ( دینے والا ) نیچے کے ہاتھ ( لینے والے ) سے بہتر ہوتا ہے ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے بعد اب میں کسی سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا ، یہاں تک کہ اس دنیا میں سے چلا جاؤں گا ۔ چنانچہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں دینے کے لیے بلاتے ، لیکن وہ اس میں سے ایک پیسہ بھی لینے سے انکار کر دیتے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( اپنے زمانہ خلافت میں ) انہیں دینے کے لیے بلاتے اور ان سے بھی لینے سے انہوں نے انکار کر دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مسلمانو ! میں انہیں ان کا حق دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال سے ان کا حصہ مقرر کیا ہے ۔ لیکن یہ اسے بھی قبول نہیں کرتے ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی چیز نہیں لی ۔

Hadith #3144

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَىَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ‏.‏ قَالَ وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْىِ حُنَيْنٍ، فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ ـ قَالَ ـ فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سَبْىِ حُنَيْنٍ، فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا هَذَا فَقَالَ مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّبْىِ‏.‏ قَالَ اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ‏.‏ وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مِنَ الْخُمُسِ‏.‏ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ‏.‏

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت ( کفر ) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا ۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں ۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا ( اور سب کو مفت آزاد کر دیا ) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، عبداللہ ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے ( اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے ۔ نافع نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، اس میں یوں ہے کہ ( وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں ) خمس میں سے تھیں ۔ ( اعتکاف سے متعلق یہ روایت ) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے ۔

Hadith #3145

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَكَأَنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُعْطِي قَوْمًا أَخَافُ ظَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمْ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْغِنَى، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَمِ‏.‏ وَزَادَ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ بِسَبْىٍ فَقَسَمَهُ‏.‏ بِهَذَا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا ۔ غالباً جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا ، ان کو ناگوار ہوا ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ میں کچھ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ مجھے جن کے بگڑ جانے ( اسلام سے پھر جانے ) اور بےصبری کا ڈر ہے ۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں بھروسہ کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی اور بے نیازی رکھی ہے ( ان کو میں نہیں دیتا ) عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں شامل ہیں ۔ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری نسبت یہ جو کلمہ فرمایا اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ ملتے تو بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا ۔ ابوعاصم نے جریر سے بیان کیا کہ میں نے حسن بصریٰ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی آئے تھے اور انہیں کو آپ نے تقسیم فرمایا تھا ۔

Hadith #3146

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ، لأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں ، کیونکہ ان کی جاہلیت ( کفر ) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے ۔ ( ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے ) ۔

Hadith #3147

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ أَمَّا ذَوُو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُ الأَنْصَارَ، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي أُعْطِي رِجَالاً حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَوَاللَّهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ‏.‏

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو ( تالیف قلب کی غرض سے ) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے ۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا ۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے ۔ ( قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا ، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا ) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا ، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ نے نہیں بلایا ۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے ؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! ہم میں جو عقل والے ہیں ، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں ، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں ، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے ۔ ( اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے ، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر واپس جا رہے ہو گے ۔ اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے ۔ سب انصاریوں نے کہا بیشک یا رسول اللہ ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا ، اس وقت تم صبر کرنا ، ( دنگا فساد نہ کرنا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا ۔

Hadith #3148

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلاً مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَعْطُونِي رِدَائِي، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِي بَخِيلاً وَلاَ كَذُوبًا وَلاَ جَبَانًا ‏"‏‏.‏

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے ۔ حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی ۔ راستے میں کچھ بدو آپ سے لپٹ گئے ( لوٹ کا مال ) آپ سے مانگتے تھے ۔ وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے ۔ آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی ۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے ۔ آپ نے فرمایا ، ( بھائیو ) میری چادر تو دے دو ۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کر دیتا ۔ تم مجھے بخیل ، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاو گے ۔

Hadith #3149

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ‏.‏

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ۔ آپ نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا ، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا ، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا ۔ ایسا کھینچا ۔ پھر کہنے لگا ۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا ۔ ( آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے ) ۔

Hadith #3150

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏‏.‏

حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غنیمت کی ) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا ۔ جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دئیے ، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصین رضی اللہ عنہ کو دئیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا ۔ اس پر ایک شخص ( معتب بن قشیر منافق ) نے کہا ، کہ خدا کی قسم ! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ کی خوشنودی کا خیال ہوا ۔ میں نے کہا کہ واللہ ! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا ۔ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کو اس کی خبر دی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا ۔

Hadith #3151

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي، وَهْىَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی ، میں اس میں سے گٹھلیاں ( سوکھی کھجوریں ) اپنے سر پر لایا کرتی تھی ۔ وہ جگہ میرے گھر سے دو میل فرسخ کی دو تہائی پر تھی ۔ ابوضمرہ نے ہشام سے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے ( مرسلاً ) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بنی نضیر کی اراضی میں سے ایک زمین قطعہ کے طور پر دی تھی ۔

Hadith #3152

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ‏"‏‏.‏ فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا‏.‏

عمر نے یہود و نصاریٰ کو سرزمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی ۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی ۔ لیکن پھر یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی ، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں ۔ وہ ( کھیتوں اور باغوں میں ) کام کیا کریں گے ۔ اور آدھی پیداوار لیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے ۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں ( مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو ) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا ۔

Hadith #3153

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ، فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ‏.‏

ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی ۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا ، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا ۔

Hadith #3154

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فَنَأْكُلُهُ وَلاَ نَرْفَعُهُ‏.‏

( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ) غزووں میں ہمیں شہد اور انگور ملتا تھا ۔ ہم اسے اسی وقت کھا لیتے ۔ ( تقسیم کے لیے اٹھا نہ رکھتے ) ۔

Hadith #3155

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَانْتَحَرْنَاهَا فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ، نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اكْفَئُوا الْقُدُورَ، فَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْنَا إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ‏.‏ قَالَ وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ‏.‏ وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ‏.‏

جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے ۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو ( مال غنیمت میں ) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے ۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے ( پکانا شروع کر دیا گیا ) جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ ۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا ۔ لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے ۔ ( شیبانی نے بیان کیا کہ ) میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا تھا ۔

Back to All Chapters