حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ أَرَأَيْتَ اسْمَ الأَنْصَارِ كُنْتُمْ تُسَمَّوْنَ بِهِ، أَمْ سَمَّاكُمُ اللَّهُ قَالَ بَلْ سَمَّانَا اللَّهُ، كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَنَسٍ فَيُحَدِّثُنَا مَنَاقِبَ الأَنْصَارِ وَمَشَاهِدَهُمْ، وَيُقْبِلُ عَلَىَّ أَوْ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَزْدِ فَيَقُولُ فَعَلَ قَوْمُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا.
میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا بتلائیے ( انصار ) اپنا نام آپ لو گوں نے خود رکھ لیا تھا یا آپ لوگوں کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہمارا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ غیلان کی روایت ہے کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ہم سے انصار کی فضیلتیں اور غزوات میں ان کے مجاہدانہ واقعات بیان کیا کرتے پھر میری طرف یا قبیلہ ازد کے ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر کہتے : تمہاری قوم ( انصار ) نے فلاں دن فلاں دن فلاں فلاں کام انجام دیے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ، وَجُرِّحُوا، فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ.
بعاث کی جنگ کو ( جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے ، کچھ زخمی تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہو جائیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ـ وَأَعْطَى قُرَيْشًا ـ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ، وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا الأَنْصَارَ قَالَ فَقَالَ " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ ". وَكَانُوا لاَ يَكْذِبُونَ. فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ. قَالَ " أَوَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بُيُوتِهِمْ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ".
فتح مکہ کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو ( غزوہ حنین کی ) غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصار یوں نے کہا ( اللہ کی قسم ! ) یہ تو عجیب بات ہے ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کیا ہوا مال غنیمت صرف انہیں دیا جا رہا ہے ، اس کی خبر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے انصار کو بلایا ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خبر مجھے ملی ہے کیا وہ صحیح ہے ؟ انصار لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے انہوں نے عرض کر دیا کہ آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس سے خوش اور راضی نہیں ہو کہ جب سب لوگ غنیمت کا مال لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوں اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ گے ؟ انصار جس نالے یا گھاٹی میں چلیں گے تو میں بھی اسی نالے یا گھاٹی میں چلوں گا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ الأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ فِي وَادِي الأَنْصَارِ، وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ ". فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي، آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ. أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ( یوں بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہیں کی وادی میں جاؤں گا ۔ اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے یہ کوئی ظلم والی بات نہیں فرمائی آپ کو انصار نے اپنے یہاں ٹھہرایا اور آپ کی مدد کی تھی یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے ہم معنی ) اور کوئی دوسرا کلمہ کہا ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالاً فَأَقْسِمُ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَسَمِّهَا لِي أُطَلِّقْهَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا. قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، أَيْنَ سُوقُكُمْ فَدَلُّوهُ عَلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَمَا انْقَلَبَ إِلاَّ وَمَعَهُ فَضْلٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ، ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ ". قَالَ تَزَوَّجْتُ. قَالَ " كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا ". قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ. أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، شَكَّ إِبْرَاهِيمُ.
جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا ۔ سعدر ضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھامال لے لیں ۔ ، اور میری دوبیویاں ہیں ، آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا ۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں ، اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت عطافرمائے تمہارا بازار کدھر ہے ؟ چنانچہ میں نے بنی قینقاع کا بازار انہیں بتا دیا ، جب وہاں سے کچھ تجارت کر کے لوٹے تو ان کے ساتھ کچھ پنیر اور گھی تھا پھر وہ اسی طرح روزانہ صبح سویرے بازار میں چلے جاتے اور تجارت کرتے آخر ایک دن خدمت نبوی میں آئے تو ان کے جسم پر ( خوشبو کی ) زردی کا نشان تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے شادی کر لی ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہر کتنا ادا کیا ہے ؟ عرض کیا کہ سونے کی ایک گٹھلی یا ( یہ کہا کہ ) ایک گٹھلی کے وزن برابر سونا ادا کیا ہے ، یہ شک ابراہیم راوی کو ہوا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ عَلِمَتِ الأَنْصَارُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالاً، سَأَقْسِمُ مَالِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَيْنِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَأُطَلِّقُهَا، حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا. فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ. فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى أَفْضَلَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا، حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ ". قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ. فَقَالَ " مَا سُقْتَ فِيهَا ". قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا : انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دوبیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزرجانے پر آپ اس سے نکاح کر لیں ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت عطافرمائے ، ( مجھ کو اپنا بازار دکھلادو ) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا ، تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مہر کیا دیا ہے ؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا ( یہ کہا کہ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو ۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو هَمَّامٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ النَّخْلَ. قَالَ " لاَ ". قَالَ يَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَتُشْرِكُونَا فِي التَّمْرِ. قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا.
انصار نے کہا یا رسول اللہ ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس پر انصار نے ( مہاجرین سے ) کہا پھر آپ ایسا کر لیں کہ کام ہماری طرف سے آپ انجام دیاکریں اور کھجوروں میں آپ ہمارے ساتھی ہو جائیں ، مہاجرین نے کہا ہم نے آپ لوگوں کی یہ بات سنی اور ہم ایسا ہی کریں گے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الأَنْصَارُ لاَ يُحِبُّهُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يُبْغِضُهُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ".
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنایا یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔ پس جو شخص ان سے محبت کرے اس سے اللہ محبت کرے گا اور جوان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا ( معلوم ہوا کہ انصار کی محبت نشان ایمان ہے اور ان سے دشمنی رکھنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے ۔ )
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ ـ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرُسٍ ـ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُمْثِلاً، فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ ". قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ.
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار کی ) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ ( گواہ ہے ) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو ، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَكَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ". مَرَّتَيْنِ.
انصار کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ایک ان کا بچہ بھی تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو دو مرتبہ آپ نے یہ جملہ فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَتِ الأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ، وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا. فَدَعَا بِهِ. فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى. قَالَ قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ.
انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے ، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی ۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ـ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ ـ قَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ أَتْبَاعًا، وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ ". قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُهُ لاِبْنِ أَبِي لَيْلَى. قَالَ قَدْ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدٌ. قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ.
انصار نے عرض کیا ہرقوم کے تابعدار ( ہالی موالی ) ہوتے ہیں ، ہم تو آپ کے تابعدار بنے آپ دعافرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ، اے اللہ ! ان کے تابعداروں کو بھی انہیں میں سے کر دے ۔ عمرو نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے ( تعجب کے طور پر ) کہا زید نے ایسا کہا ؟ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ زید ، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں ، ۔ ( نہ اور کوئی زید جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے ابن ابی لیلیٰ نے گمان کیا )
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ : بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَقَالَ سَعْدٌ : مَا أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا ، فَقِيلَ : قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے سب سے بہتر گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشہل کا ، پھر بنو الحارث بن خزرج کا ، پھر بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر کا ، ، جو اوس کا بھائی تھا ، خزرج اکبر اور اوس دونوں حارثہ کے بیٹے تھے اور انصار کا ہر گھرانہ عمدہ ہی ہے ۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے ، ان سے کسی نے کہا تجھ کو بھی تو بہت سے قبیلوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت دی ہے اور عبدالصمد نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ، اس روایت میں سعد کے باپ کا نام عبادہ مذکور ہے ۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُسَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ الأَنْصَارِ ـ أَوْ قَالَ خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ ـ بَنُو النَّجَّارِ وَبَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ وَبَنُو الْحَارِثِ وَبَنُو سَاعِدَةَ ".
انصار میں سب سے بہتر یا انصارکے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار ، بنو عبدالاشھل ، بنو حارث اور بنو ساعدہ کے گھرانے ہیں ۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ". فَلَحِقْنَا سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقَالَ أَبَا أُسَيْدٍ أَلَمْ تَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ الأَنْصَارَ فَجَعَلَنَا أَخِيرًا فَأَدْرَكَ سَعْدٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُيِّرَ دُورُ الأَنْصَارِ فَجُعِلْنَا آخِرًا. فَقَالَ " أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے پھر عبدالاشھل کا پھر بنی حارث کا ، پھر بنی ساعدہ کا اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے ، پھر ہماری ملاقات سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو وہ ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے تمہیں معلوم نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بہترین گھرانوں کی تعریف کی اور ہمیں ( بنوساعدہ ) کو سب سے اخیر میں رکھا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! انصار کے سب سے بہترین خاندانوں کا بیان ہوا اور ہم سب سے اخیر میں کر دیئے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا خاندان بھی بہترین خاندان ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا قَالَ " سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".
ایک انصاری صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنادیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد ( دنیاوی معاملات میں ) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلأَنْصَارِ " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : میرے بعد تم دیکھوگے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی ، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ. فَقَالُوا لاَ، إِلاَّ أَنْ تُقْطِعَ لإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا. قَالَ " إِمَّا لاَ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي، فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي أُثْرَةٌ ".
جب وہ انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے.... نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں ، انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو ، کیونکہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ، فَأَصْلِحِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ". وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ، وَقَالَ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خندق کھودتے وقت ) فرمایا حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے ، پس اے اللہ ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما اور قتادہ سے روایت ہے ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے ” پس انصار کی مغفرت فرما دے “ ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر ( خندق کھودتے ہوئے ) یہ شعر پڑھتے تھے ” ہم وہ ہیں جنہوں نے حضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ، جب تک ہماری جان میں جان ہے “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب یہ سنا تو ) اس کے جواب میں یوں فرمایا : ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے ، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما ۔ “
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے ۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما ۔ “
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ فَقُلْنَ مَا مَعَنَا إِلاَّ الْمَاءُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَضُمُّ، أَوْ يُضِيفُ هَذَا ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَا. فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا عِنْدَنَا إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي. فَقَالَ هَيِّئِي طَعَامَكِ، وَأَصْبِحِي سِرَاجَكِ، وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءً. فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا وَأَصْبَحَتْ سِرَاجَهَا، وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا، ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ، فَجَعَلاَ يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلاَنِ، فَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِكَ اللَّهُ اللَّيْلَةَ ـ أَوْ عَجِبَ ـ مِنْ فَعَالِكُمَا " فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}
ایک صاحب ( خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے ، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا ۔ ( تاکہ ان کو کھانا کھلادیں ) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی کون مہمانی کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا ۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر ، بیوی نے کہا کہ گھر میںبچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے ، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلالو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلادو ۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلادیا اور اپنے بچوں کو ( بھوکا ) سلادیا ، پھر وہ دکھاتو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا ، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں ، لیکن ان دونوں نے ( اپنے بچوں سمیت رات ) فاقہ سے گزار دی ، صبح کے وقت جب وہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا ( یہ فرمایا کہ اسے ) پسند کیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” اور وہ ( انصار ) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر ( دوسرے غریب صحابہ کو ) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ “
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، أَخُو عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ ـ رضى الله عنهما ـ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ مَا يُبْكِيكُمْ قَالُوا ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَّا. فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ـ قَالَ ـ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ ـ قَالَ ـ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أُوصِيكُمْ بِالأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ".
حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے ، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رورہے ہیں ، پوچھا آپ لوگ کیوں رورہے ہیں ؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے ( یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے ) اس کے بعد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی ، بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، سرمبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی ، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں ، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا ، وہ ملنا ابھی باقی ہے ، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرتے رہنا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ، مُتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الأَنْصَارُ، حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَضُرُّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعُهُ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے ، اور ( سرمبارک پر ) ایک سیاہ پٹی ( بندھی ہوئی تھی ) آپ منبرپر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : امابعد ا ے لوگو ! دوسروں کی تو بہت کثرت ہو جائے گی لیکن انصار کم ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے ، پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان ونفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکوکاروں کی پذیرائی کرنی چاہیے ۔ اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا چاہیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انصار میرے جسم و جان ہیں ، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے ، لیکن انصار کم رہ جائیں گے ، اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا کرنا ، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ " أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا ". أَوْ أَلْيَنُ. رَوَاهُ قَتَادَةُ وَالزُّهْرِيُّ سَمِعَا أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے ، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال ( جنت میں ) اس سے کہیں بہتر ہیں یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں ، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ، خَتَنُ أَبِي عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ". وَعَنِ الأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ فَإِنَّ الْبَرَاءَ يَقُولُ اهْتَزَّ السَّرِيرُ. فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ ضَغَائِنُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ".
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے ، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ، ایک صاحب نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء رضی اللہ عنہ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذ رضی اللہ عنہ کی نعش رکھی ہوئی تھی ، ہل گئی تھی ، حضرت جابررضی اللہ عنہ نے کہا ان دونوں قبیلوں ( اوس اور خزرج ) کے درمیان ( زمانہ جاہلیت میں ) دشمنی تھی ، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ ". فَقَالَ " يَا سَعْدُ، إِنَّ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. قَالَ " حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ، أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ".
ایک قوم ( یہود بنی قریظہ ) نے سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ، جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں ) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں ، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلَيْنِ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، وَإِذَا نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى تَفَرَّقَا، فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَهُمَا. وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں ( اپنے گھر کی طرف ) جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا تھا ، پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہو گیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے انصاری صحابی ( کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی ) اور حماد نے بیان کیا ، انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَىٍّ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ".
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن چار ( حضرات صحابہ ) عبداللہ بن مسعود ، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے سیکھو ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ـ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ فِي الإِسْلاَمِ ـ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا. فَقِيلَ لَهُ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى نَاسٍ كَثِيرٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو عبدالاشھل کا ، پھر بنو عبدالحارث کا ، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے ، ان سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کوبھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۔ ( اعتراض کی کیا بات ہے )
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ فَبَدَأَ بِهِ ـ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ".
اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے نام سے ابتداء کی ، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم سے ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأُبَىٍّ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} ". قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ " نَعَمْ " فَبَكَى.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورۃ ” لم يكن الذين كفروا “ سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرط مسرت سے رونے لگے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. قُلْتُ لأَنَسِ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا ، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے ، ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ، میں نے پوچھا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ، يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْشُرْهَا لأَبِي طَلْحَةَ. فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لاَ تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيآنِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَىْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ، وَإِمَّا ثَلاَثًا.
احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ادھر ادھر چلنے لگے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے حضرت ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے ، چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں ، اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے یا نبی اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں ، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے ، میرا سینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ام سلیم ( ابوطلحہ کی بیوی ) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے ( غازیوں کی مدد میں ) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں ۔ ( اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا ۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. إِلاَّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ} الآيَةَ. قَالَ لاَ أَدْرِي قَالَ مَالِكٌ الآيَةَ أَوْ فِي الْحَدِيثِ.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ، بیان کیا کہ آیت ( ( وشهد شاهد من بني إسرائيل ) ) ( الاحقاف : 10 ) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے ) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ، فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ، وَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قَالَ وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ـ ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا ـ وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ، أَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لَهُ ارْقَهْ. قُلْتُ لاَ أَسْتَطِيعُ. فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلاَهَا، فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقِيلَ لَهُ اسْتَمْسِكْ. فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى، فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ ". وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، عَنِ ابْنِ سَلاَمٍ، قَالَ وَصِيفٌ مَكَانَ مِنْصَفٌ.
میں مسجدنبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پرخشوع وخضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں ، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصرطریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں ، اس پر انہوں نے کہا خدا کی قسم ! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں ، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلاحصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے ، ( العروۃ ) مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے ، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ، یہ خواب جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے ، وہ تواسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کاستون ہے اور عروہ ( گھنادرخت ) العروۃ الوثقی ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے ، یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام تھے اورمجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمدنے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے منصف ( خادم ) کے بجائے وصیف کا لفظ ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلاَ تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا، وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ، أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ، فَلاَ تَأْخُذْهُ، فَإِنَّهُ رِبًا. وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْتَ.
میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا ، آو تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے ، نضر ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) البیت ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح حَدَّثَنِي صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ".
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دوسری سند ) اور مجھ سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفرسے سنا انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے زمانے میں ) حضرت مریم علیہاالسلام سب سے افضل عورت تھیں اور ( اس امت میں ) حضرت خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) سب سے افضل ہیں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَأَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِي فِي خَلاَئِلِهَا مِنْهَا مَا يَسَعُهُنَّ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں ، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے معاملہ ، میں محسوس کرتی تھی ، وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں ان کا ذکر سنتی رہتی تھی ، اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں ( جنت میں ) موتی کے محل کی خوش خبر دی سنا دیں ، آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا. قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِي بَعْدَهَا بِثَلاَثِ سِنِينَ، وَأَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ.
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں ، میں جتنی غیرت محسوس کرتی تھی اتنی کسی عورت کے معاملے میں نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر اکثر کیا کرتے تھے ، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ان کی وفات کے تین سال بعد ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا یا جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیں ۔
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَنٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ، ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَدِيجَةُ. فَيَقُولُ إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی ، حالانکہ انہیں میں نے دیکھابھی نہیں تھا ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کاذکربکثرت فرمایاکرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے میں نے اکثرحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اورایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ بَشَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.
میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کوبشارت دی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہ ہاں ، جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی ، جہاں نہ کوئی شوروغل ہو گا اور نہ تھکن ہو گی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.
جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانایا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی ! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا ، جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی ۔
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِكَ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَالَةَ ". قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ، قَدْ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلدنے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک اٹھے اور فرمایا اللہ ! یہ تو ہالہ ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی ، میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ( صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ) اور جسے مرے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ.
جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( گھرکے اندر آنے سے ) نہیں روکا ( جب بھی میں نے اجازت چاہی ) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔
وَعَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالَ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، أَوِ الْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". قَالَ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ـ قَالَ ـ فَكَسَرْنَا، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، فَأَتَيْنَاهُ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ.
زمانہ جاہلیت میں ” ذوالخلصہ “ نامی ایک بت کدہ تھا اسے ” الکعبۃ الیمانیۃ یا الکعبۃ الشامیۃ “ بھی کہتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ” ذی الخلصہ “ کے وجودسے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں ، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا ، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کر دیا ، پھر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی ۔
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةً بَيِّنَةً، فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ أُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَنَادَى أَىْ عِبَادَ اللَّهِ، أَبِي أَبِي. فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ أَبِي فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
احدکی لڑائی میں جب مشرکین ہارچکے تو ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو ! پیچھے والوں کو ( قتل کرو ) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد ( یمان رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد ! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اللہ کی قسم ! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے ، ( ہشام نے بیان کیا کہ ) اللہ کی قسم ! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے ( کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے ) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے ۔
وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ. قَالَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ " لاَ أُرَاهُ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ ".
حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد ) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! روئے زمین پر کسی گھرانی کی ذلت آپ کی گھرانی کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر انے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں ابھی اور ترقی ہو گی اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، پھر ہند نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر ) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستورکے مطابق ہونا چاہئے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ، قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوَحْىُ فَقُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُفْرَةٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّي لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلاَّ مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. وَأَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيبُ عَلَى قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَقُولُ الشَّاةُ خَلَقَهَا اللَّهُ، وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءَ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُونَهَا عَلَى غَيْرِ اسْمِ اللَّهِ إِنْكَارًا لِذَلِكَ وَإِعْظَامًا لَهُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیدبن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے ( وادی ) بلدح کے نشیبی علاقہ میں ملاقات ہوئی ، یہ قصہ نزول وحی سے پہلے کا ہے ، پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دسترخوان بچھایا گیا تو زید بن عمرو بن نفیل نے کھانے سے انکارکر دیا اور جن لوگوں نے دسترخوان بچھایا تھا ان سے کہا کہ اپنے بتوں کے نام پر جو تم ذبیحہ کرتے ہو میں اسے نہیں کھاتا میں تو بس وہی ذبیحہ کھایا کرتا ہوں جس پر صرف اللہ کا نام لیا گیا ہو ، زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحے کے بارے میں عیب لگایا کرتے اور کہتے تھے کہ بکری کو پیدا تو کیا اللہ تعالیٰ نے ، ا سی نے اس کے لیے آسمان سے پانی برسایا ہے اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اگائی ، پھر تم لوگ اللہ کے سوا دوسرے ( بتوں کے ) ناموں پر اسے ذبح کرتے ہو ۔ زید نے یہ کلمات ان کے ان کاموں پر اعتراض کرتے ہوئے اور ان کے اس عمل کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہے تھے ۔
قَالَ مُوسَى حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ تُحُدِّثَ بِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، يَسْأَلُ عَنِ الدِّينِ وَيَتْبَعُهُ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ الْيَهُودِ، فَسَأَلَهُ عَنْ دِينِهِمْ، فَقَالَ إِنِّي لَعَلِّي أَنْ أَدِينَ دِينَكُمْ، فَأَخْبِرْنِي. فَقَالَ لاَ تَكُونُ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ. قَالَ زَيْدٌ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُهُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا. قَالَ زَيْدٌ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ. فَخَرَجَ زَيْدٌ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ النَّصَارَى، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَقَالَ لَنْ تَكُونَ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ. قَالَ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ مِنْ غَضَبِهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا. قَالَ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ. فَلَمَّا رَأَى زَيْدٌ قَوْلَهُمْ فِي إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ خَرَجَ، فَلَمَّا بَرَزَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ.
زید بن عمرو بن نفیل شام گئے ، دین ( خالص ) کی تلاش میں نکلے ، وہاں وہ ایک یہودی عالم سے ملے تو انہوں نے ان کے دین کے بارے میں پوچھا اور کہا ممکن ہے کہ میں تمہارا دین اختیارکر لوں ، اس لیے تم مجھے اپنے دین کے متعلق بتاو ، یہودی عالم نے کہا کہ ہمارے دین میں تم اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم اللہ کے غضب کے ایک حصہ کے لیے تیار نہ ہو جاؤ ، اس پر زیدرضی اللہ عنہ نے کہا کہ واہ میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگ کر آیا ہوں ، پھر خدا کے غضب کو میں اپنے اوپرکبھی نہ لوں گا اور نہ مجھ کو اسے اٹھانے کی طاقت ہے ! کیا تم مجھے کسی اور دوسرے دین کا کچھ پتہ بتا سکتے ہو ؟ اس عالم نے کہا میں نہیں جانتا ( کوئی دین سچا ہو تو دین حنیف ہو ) زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے ؟ اس عالم نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کا دین جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ، زید وہاں سے چلے آئے اور ایک نصرانی پادری سے ملے ، ان سے بھی اپنا خیال بیان کیا اس نے بھی یہی کہا کہ تم ہمارے دین میں آو گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے ایک حصہ لو گے ، زیدرضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی لعنت سے ہی بچنے کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہوں ، اللہ کی لعنت اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میں اس کا یہ غضب کس طرح اٹھا سکتا ہوں ! کیا تم میرے لیے اس کے سوا کوئی اور دین بتلا سکتے ہو ، پادری نے کہا کہ میری نظر میں ہو تو صرف ایک دین حنیف سچا دین ہے زیدنے پوچھا دین حنیف کیا ہے ؟ کہا کہ وہ دین ابراہیم علیہ السلام ہے جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور اللہ کے سوا وہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے ، زیدنے جب دین ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ان کی یہ رائے سنی تو وہاں سے روانہ ہو گئے ، اور اس سرزمین سے باہر نکل کر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کی ، اے اللہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں ۔
وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ يَقُولُ يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي، وَكَانَ يُحْيِي الْمَوْءُودَةَ، يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ ابْنَتَهُ لاَ تَقْتُلْهَا، أَنَا أَكْفِيكَهَا مَئُونَتَهَا. فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا تَرَعْرَعَتْ قَالَ لأَبِيهَا إِنْ شِئْتَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكَ، وَإِنْ شِئْتَ كَفَيْتُكَ مَئُونَتَهَا.
میں نے زیدبن عمرو بن نفیل کوکعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا ، اے قریش کے لوگو ! خدا کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور زید بیٹیوں کوزندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جواپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتاکہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کاذمہ میں لیتاہوں ، چنانچہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کرسکتاہوں اوراگرتمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا ۔
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَبَّاسٌ يَنْقُلاَنِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِيكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " إِزَارِي إِزَارِي ". فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ.
جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لو اس طرح پتھر کی ( خراش لگنے سے ) بچ جاؤ گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر پڑے اور آپ کی نظر آسمان پر گڑگئی جب ہوش ہوا تو آپ نے چچا سے فرمایا میرا تہبند لاؤ پھر انہوں نے آپ کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالاَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَوْلَ الْبَيْتِ حَائِطٌ، كَانُوا يُصَلُّونَ حَوْلَ الْبَيْتِ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ، فَبَنَى حَوْلَهُ حَائِطًا ـ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ـ جَدْرُهُ قَصِيرٌ، فَبَنَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیت اللہ کے گرد احاطہٰ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبہ کے گرد نماز پڑھتے تھے پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اس کے گرد دیوار بنوائی ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ یہ دیوار یں بھی پست تھیں عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما نے ان کو بلند کیا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لاَ يَصُومُهُ.
عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ ۲ھ میں فرض ہوا تو اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنَ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَا الدَّبَرْ، وَعَفَا الأَثَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ. قَالَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ رَابِعَةً مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ ".
زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے ۔ وہ محرم کو صفر کہتے ۔ ان کے ہاں یہ مثل تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور ( حاجیوں کے ) نشانات قدم مٹ چکیں تو اب عمرہ کرنے والوں کا عمرہ جائز ہوا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو حج کا احرام باندھے ہوئے ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ کر ڈالیں ( طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں ) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( اس عمرہ اور حج کے دوران میں ) کیا چیز یں حلال ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں ! جو احرام کی نہ ہونے کی حالت میں حلال تھیں وہ سب حلال ہو جائیں گی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَ عَمْرٌو يَقُولُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ سَيْلٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَسَا مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ. قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُ إِنَّ هَذَا لَحَدِيثٌ لَهُ شَأْنٌ.
زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ ( مکہ کی ) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ، فَرَآهَا لاَ تَكَلَّمُ، فَقَالَ مَا لَهَا لاَ تَكَلَّمُ قَالُوا حَجَّتْ مُصْمِتَةً. قَالَ لَهَا تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لاَ يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ. فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ امْرُؤٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ. قَالَتْ أَىُّ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَتْ مِنْ أَىِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ قَالَ إِنَّكِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَكْرٍ. قَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ. قَالَتْ وَمَا الأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ قَالَتْ بَلَى. قَالَ فَهُمْ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ.
ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا ، آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کر تیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اجی بات کرو اس طرح حج کر نا تو جاہلیت کی رسم ہے ، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے ، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو ، میں ابوبکر ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطافرمایا ہے اس پر ہم ( مسلمان ) کب تک قائم رہ سکیں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر تمہار ا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہار ے امام حاکم سید ھے رہیں گے ۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں ؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں ۔
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ، وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا قَالَتْ وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلاَ إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ قَالَتْ خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي، وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الْحُدَيَّا وَهْىَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا، فَأَخَذَتْ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي، حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي، فَبَيْنَا هُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا ثُمَّ أَلْقَتْهُ، فَأَخَذُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ.
ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی ، اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہما رے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی ، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی ” اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے ، کہ اسی نے ( بفضلہ ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا ۔ “ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا توعائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کاقصہ کیا ہے ؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھر انے کی ایک لڑکی ( جو نئی دولہن تھی ) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی ۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا ۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی ۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں ۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی ۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے با لکل اوپر اڑنے لگی ۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا ۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلاَ يَحْلِفْ إِلاَّ بِاللَّهِ ". فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ " لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے ۔ پس قریش اپنے باپ دادا کی قسمیں کھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَىِ الْجَنَازَةِ وَلاَ يَقُومُ لَهَا، وَيُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا، يَقُولُونَ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ. مَرَّتَيْنِ.
ان کے والدقاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلاکرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دوبارکہتے تھے کہ ، اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا. اب تم کیا ہو؟"
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لاَ يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آجاتی قریش ( حج میں ) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، {وَكَأْسًا دِهَاقًا} قَالَ مَلأَى مُتَتَابِعَةً.
ان سے عکرمہ نے ( قرآن مجید کی آیت میں ) کے متعلق فرمایا کہ اس کے ( معنی ٰ ہیں ) بھرا ہوا پیالہ جس کا مسلسل دور چلے ۔
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، فِي الْجَاهِلِيَّةِ اسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا.
میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں ( یہ لفظ استعمال کرتے تھے ) ’ ’اسقنا کاسا دھاقا “ یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ” ہا ں اللہ کے سوا ہرچیز باطل ہے “ اور امیہ بن ابی الصلٹ ( جاہلیت کا ایک شاعر ) مسلمان ہونے کے قریب تھا ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ لأَبِي بَكْرٍ غُلاَمٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ، فَجَاءَ يَوْمًا بِشَىْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلاَمُ تَدْرِي مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا هُوَ قَالَ كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ، إِلاَّ أَنِّي خَدَعْتُهُ، فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ، فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ. فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَىْءٍ فِي بَطْنِهِ.
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اورحضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھا لیا ۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے ؟ یہ کیسی کمائی سے ہے ؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شحص کے لیے کہا نت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھالیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی ، آپ کھا بھی چکے ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لُحُومَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، قَالَ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ.
زمانہ جاہلیت کے لوگ ” حبل الحبلہ “ تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر ، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبل الحبلۃ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اوٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نوزائیدہ بچہ ( بڑھ کر ) حاملہ ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی خریدوفروخت ممنوع قرار دے دی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، قَالَ غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَيُحَدِّثُنَا عَنِ الأَنْصَارِ،، وَكَانَ، يَقُولُ لِي فَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَفَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا.
ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرما تے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کا رنامہ انجام دیا ، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَقَالَ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لاَ تَنْفِرُ الإِبِلُ. فَأَعْطَاهُ عِقَالاً، فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الإِبِلُ إِلاَّ بَعِيرًا وَاحِدًا، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الإِبِلِ قَالَ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ. قَالَ فَأَيْنَ عِقَالُهُ قَالَ فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ قَالَ مَا أَشْهَدُ، وَرُبَّمَا شَهِدْتُهُ. قَالَ هَلْ أَنْتَ مُبْلِغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَكُنْتَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ. فَإِذَا أَجَابُوكَ، فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ. فَإِنْ أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ، وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا قَالَ مَرِضَ، فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ، فَوَلِيتُ دَفْنَهُ. قَالَ قَدْ كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ. فَمَكُثَ حِينًا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ فَقَالَ يَا آلَ قُرَيْشٍ. قَالُوا هَذِهِ قُرَيْشٌ. قَالَ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ. قَالُوا هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ. قَالَ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا هَذَا أَبُو طَالِبٍ. قَالَ أَمَرَنِي فُلاَنٌ أَنْ أُبْلِغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ. فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلاَثٍ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالُوا نَحْلِفُ. فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ. فَقَالَتْ يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الأَيْمَانُ. فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا طَالِبٍ، أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلاً أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ، يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ، هَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبِرُ الأَيْمَانُ. فَقَبِلَهُمَا، وَجَاءَ ثَمَانِيةٌ وَأَرْبَعُونَ فَحَلَفُوا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ.
جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا ، بنوہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص ( خداش بن عبداللہ عامری ) نے نوکری پر رکھا ، اب یہ ہاشمی نوکراپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا ، وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا ، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا ۔ اس نے اپنے نو کر بھائی سے التجا کی میری مدد کراونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے ، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہو گی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا ۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا ( اور چلا گیا ) ۔ پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا ۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھاتھا اس نے پو چھا سب اونٹ تو باندھے ، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے ؟ نوکرنے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے ۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوئی اس کی رسی ؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی ۔ اس کے ( مرنے سے پہلے ) وہاں سے ایک یمنی شخص گذر رہا تھا ۔ ہاشمی نوکرنے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو ؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں ۔ اس نوکرنے کہا جب بھی تم مکہ پہنچوکیا میرا ایک پیغام پہنچادوگے ؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا ۔ اس نوکرنے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکار نا اے قریش کے لوگو ! جب وہ تمہارے پاس جمع ہو جائیں تو پکارنا اے بنی ہاشم ! جب وہ تمہارے پاس آ جائیں تو ان سے ابوطالب پو چھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کر دیا ۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مرگیا ، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہا ں بھی گیا ۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہو گیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ( لیکن وہ مرگیاتو ) میں نے اسے دفن کر دیا ۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طر ف سے یہی ہونا چاہئے تھا ۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکرنے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی ، موسم حج میں آیا اور آواز دی اے قریش کے لوگو ! لوگوں نے بتا دیا کہ یہاں ہیں قریش ۱س نے آواز دی اے بنو ہاشم ! لوگو ں نے بتایا کہ بنوہاشم یہ ہیں اس نے پوچھاابوطالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کر دیا ہے ۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہا ں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قو م کے پچاس آ دمی اس کی قسم کھالیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے ۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہو گئے کہ ہم قسم کھا لیں گے ۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا ۔ اس نے کہا اے ابوطالب ! آپ مہر بانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں ( یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ) اس سے وہا ں قسم نہ لیں ۔ حضرت ابوطالب نے اسے معاف کر دیا ۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اورشخص آیا اور کہا اے ابوطالب ! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے ، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑ تے ہیں ۔ یہ دواونٹ میری طرف سے آپ قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھا نے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے ۔ حضرت ابوطالب نے اسے بھی منظور کر لیا ۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گذرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ.
بعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے ( مصلحت کی وجہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے برپاکرادی تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑ ی ہوئی تھی ۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہو چکے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپاکیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں ۔
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَيْسَ السَّعْىُ بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً، إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا وَيَقُولُونَ لاَ نُجِيزُ الْبَطْحَاءَ إِلاَّ شَدًّا
صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہا ں جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ، وَأَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ، وَلاَ تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ، وَلاَ تَقُولُوا الْحَطِيمُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ أَوْ قَوْسَهُ.
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے کہا اے لوگو ! میری باتیں سنوکہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور ( جو کچھ تم نے سمجھاہے ) وہ مجھے سناؤ ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہا ں سے اٹھ کر ( بغیر سمجھے ) چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا ۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھا تا تو اپنا کوڑا ، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا ۔
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قِرْدَةً اجْتَمَعَ عَلَيْهَا قِرَدَةٌ قَدْ زَنَتْ، فَرَجَمُوهَا فَرَجَمْتُهَا مَعَهُمْ.
میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر یا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہو گئے تھے ، اس بندریا نے زنا کرایا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خِلاَلٌ مِنْ خِلاَلِ الْجَاهِلِيَّةِ الطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ، وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ، قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُونَ إِنَّهَا الاِسْتِسْقَاءُ بِالأَنْوَاءِ.
جاہلیت کی عادتوں میں سے یہ عادتیں ہیں نسب کے معاملہ میں طعنہ مارنا اور میت پر نوحہ کرنا ، تیسری عادت کے متعلق ( عبیداللہ راوی ) بھول گئے تھے اور سفیا ن نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کو بارش کی علت سمجھناہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، فَمَكَثَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ صلى الله عليه وسلم.
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرچالیس سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا او ر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منور ہ ہجرت کر کے چلے گئے ، وہاں دس سال رہے پھر آپ نے وفات فرمائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس حسا ب سے کل عمر شریف آپ کی تریسٹھ سال ہوتی ہے اور یہی صحیح ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيلُ، قَالاَ سَمِعْنَا قَيْسًا، يَقُولُ سَمِعْتُ خَبَّابًا، يَقُولُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وَهْوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْتُ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ فَقَعَدَ وَهْوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ فَقَالَ " لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ بِمِشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ، مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ ". زَادَ بَيَانٌ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ.
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے تلے چادر مبارک پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعاکیوں نہیں فرماتے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے ۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گذر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اورپٹھوں سے گذار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام وکمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک ( تنہا ) جائے گا اور ( راستے ) میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہو گا ۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ” سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈرہو گا ۔ “
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّجْمَ، فَسَجَدَ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلاَّ سَجَدَ، إِلاَّ رَجُلٌ رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًا فَرَفَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ وَقَالَ هَذَا يَكْفِينِي. فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا بِاللَّهِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور سجدہ کیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام لوگوں نے سجدہ کیا صرف ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں اس نے کنکریاں اٹھا کر اس پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کا فی ہے ۔ میں نے پھر اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا گیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ـ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ". شُعْبَةُ الشَّاكُّ ـ فَرَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَىٍّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھتے ہوئے ) سجدہ کی حالت میں تھے ، قریش کے کچھ لوگ وہیں اردگرد موجود تھے ۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی بچہ دان لایا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر اسے ڈال دیا ۔ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور گندگی کو پیٹھ مبارک سے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اسے بددعا دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! قریش کی اس جماعت کو پکڑلے ۔ ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ( امیہ کے بجائے آپ نے بددعا ) ابی بن خلف ( کے حق میں فرمائی ) شبہ راوی حدیث شعبہ کو تھا ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بدرکی لڑائی میں یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے اور ایک کنویں میں ا نہیں ڈال دیا گیا تھاسوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کاہر ایک جوڑ الگ الگ ہو گیا تھا اس لئے کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى قَالَ سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، مَا أَمْرُهُمَا {وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ } {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ} الآيَةَ فَهَذِهِ لأُولَئِكَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الإِسْلاَمَ وَشَرَائِعَهُ، ثُمَّ قَتَلَ فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ. فَذَكَرْتُهُ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دونوں آیتو ں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے ( ایک آیت ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق اور دوسری آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورۃ الفرقا ن کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ” إلا من تاب وآمن “ ( وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آ ئیں ) تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورۃ النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزاجہنم ہے ، میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں ۔
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ، شَىْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي حِجْرِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ} الآيَةَ. تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَقَالَ عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی ( اور بیان کیا کہ ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے ، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا مَعَهُ إِلاَّ خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ، وَأَبُو بَكْرٍ.
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچ غلام ، دو عورتوں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی ( مسلمان ) نہیں تھا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلاَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلاَمِ
جس دن میں اسلام لایا ہوں دوسرے لوگ بھی اسی دن اسلام لائے اور اسلام میں داخل ہونے والے تیسرے آدمی کی حیثیت سے مجھ پر سات دن گزرے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ. فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ ـ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ـ أَنَّهُ آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ.
میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات میں جنوں نے قرآن مجید سنا تھا اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی تھی ؟ مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی خبر ایک ببول کے درخت نے دی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِدَاوَةً لِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَتْبَعُهُ بِهَا فَقَالَ " مَنْ هَذَا ". فَقَالَ أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ. فَقَالَ " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلاَ تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلاَ بِرَوْثَةٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُهَا فِي طَرَفِ ثَوْبِي حَتَّى وَضَعْتُ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مَشَيْتُ، فَقُلْتُ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثَةِ قَالَ " هُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ، وَإِنَّهُ أَتَانِي وَفْدُ جِنِّ نَصِيبِينَ وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ لَهُمْ أَنْ لاَ يَمُرُّوا بِعَظْمٍ وَلاَ بِرَوْثَةٍ إِلاَّ وَجَدُوا عَلَيْهَا طَعَامًا ".
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لئے ( پانی کا ) ایک برتن لئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں ؟ بتایا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لئے چند پتھر تلاش کر لاؤ اور ہاں ہڈی اور لید نہ لا نا ۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا ۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لاکرمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے تو میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ وہ جنوں کی خوراک ہیں ۔ میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور کیا ہی اچھے وہ جن تھے ۔ تو انہوں نے مجھ سے تو شہ مانگا میں نے ان کے لئے اللہ سے یہ دعا کی کہ جب بھی ہڈی یا گوبر پر ان کی نظر پڑے تو ان کے لئے اس چیز سے کھا نا ملے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ، وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ ائْتِنِي. فَانْطَلَقَ الأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ لَهُ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ، وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ. فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ، فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَعْرِفُهُ، وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ، فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ. فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ، فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلاَ يَرَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَمْسَى، فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ، فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ، فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ لاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَ الثَّالِثِ، فَعَادَ عَلِيٌّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَقَامَ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنَّنِي فَعَلْتُ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ. قَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتْبَعْنِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ، فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي. فَفَعَلَ، فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ، فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ". قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ، وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ قَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا، فَضَرَبُوهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ، فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ.
جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لئے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبرآتی ہے ۔ میرے لئے خبریں حاصل کر کے لا ۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا ۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے ، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کوحکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے ۔ اس پر ابو ذررضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لئے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی ، آخر انہوں نے خودتوشہ باندھا ، پانی سے بھر ا ہوا ایک پر انا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے ، مسجدالحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پو چھنا بھی مناسب نہیں سمجھا ، کچھ رات گزرگئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے ، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی ۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجدالحرام میں آ گئے ۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے ۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے ۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا ، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی ، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے ؟ ابوذررضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا ۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوںگا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا ۔ ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے ، اس وقت تم میرا انتظار نہ کر نا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں ، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ، آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا ) ابو ذررضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکا رکر کلمئہ توحید کا اعلان کروں گا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہا ں سے واپس وہ مسجدالحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں “ ۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتاہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا ۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجدالحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا ۔ قو م پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی عباس ان پر اوندھے پڑگئے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ يَقُولُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ لَمُوثِقِي عَلَى الإِسْلاَمِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عُمَرُ، وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا ارْفَضَّ لِلَّذِي صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَرْفَضَّ.
میں نے کوفہ کی مسجد میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام کیوں قبول کیا لیکن تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑبھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا کرنا ہی چا ہئے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعدہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ فَأَخْبَرَنِي جَدِّي، زَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَيْنَمَا هُوَ فِي الدَّارِ خَائِفًا، إِذْ جَاءَهُ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ أَبُو عَمْرٍو، عَلَيْهِ حُلَّةُ حِبَرَةٍ، وَقَمِيصٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ، وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُ مَا بَالُكَ قَالَ زَعَمَ قَوْمُكَ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي إِنْ أَسْلَمْتُ. قَالَ لاَ سَبِيلَ إِلَيْكَ. بَعْدَ أَنْ قَالَهَا أَمِنْتُ، فَخَرَجَ الْعَاصِ، فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمُ الْوَادِي فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُونَ فَقَالُوا نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَا. قَالَ لاَ سَبِيلَ إِلَيْهِ. فَكَرَّ النَّاسُ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے کے بعد قریش سے ) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا ، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا وہ قبیلہ بنوسہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے ، عاص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مارڈالیں گے ۔ عاص نے کہا ” تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا “ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں ۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے ۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے ؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے ۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ وَقَالُوا صَبَا عُمَرُ. وَأَنَا غُلاَمٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ فَقَالَ قَدْ صَبَا عُمَرُ. فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ. قَالَ فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ.
جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے ، میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا ۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا ، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیساہے ؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے ۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ، أَنَّ سَالِمًا، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا سَمِعْتُ عُمَرَ، لِشَىْءٍ قَطُّ يَقُولُ إِنِّي لأَظُنُّهُ كَذَا. إِلاَّ كَانَ كَمَا يَظُنُّ، بَيْنَمَا عُمَرُ جَالِسٌ إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ جَمِيلٌ فَقَالَ لَقَدْ أَخْطَأَ ظَنِّي، أَوْ إِنَّ هَذَا عَلَى دِينِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ لَقَدْ كَانَ كَاهِنَهُمْ، عَلَىَّ الرَّجُلَ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ اسْتُقْبِلَ بِهِ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، قَالَ فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ إِلاَّ مَا أَخْبَرْتَنِي. قَالَ كُنْتُ كَاهِنَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَ فَمَا أَعْجَبُ مَا جَاءَتْكَ بِهِ جِنِّيَّتُكَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا فِي السُّوقِ جَاءَتْنِي أَعْرِفُ فِيهَا الْفَزَعَ، فَقَالَتْ أَلَمْ تَرَ الْجِنَّ وَإِبْلاَسَهَا وَيَأْسَهَا مِنْ بَعْدِ إِنْكَاسِهَا وَلُحُوقَهَا بِالْقِلاَصِ وَأَحْلاَسِهَا قَالَ عُمَرُ صَدَقَ، بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ آلِهَتِهِمْ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِعِجْلٍ فَذَبَحَهُ، فَصَرَخَ بِهِ صَارِخٌ، لَمْ أَسْمَعْ صَارِخًا قَطُّ أَشَدَّ صَوْتًا مِنْهُ يَقُولُ يَا جَلِيحْ، أَمْرٌ نَجِيحْ رَجُلٌ فَصِيحْ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. فَوَثَبَ الْقَوْمُ قُلْتُ لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَعْلَمَ مَا وَرَاءَ هَذَا ثُمَّ نَادَى يَا جَلِيحْ، أَمْرٌ نَجِيحْ، رَجُلٌ فَصِيحْ، يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. فَقُمْتُ فَمَا نَشِبْنَا أَنْ قِيلَ هَذَا نَبِيٌّ.
جب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوئی جیسا وہ اس کے متعلق اپنا خیا ل ظاہر کرتے تھے ۔ ایک دن وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا ۔ انہوں نے کہا یا تو میرا گمان غلط ہے یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے یا یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے ۔ اس شخص کو میرے پاس بلاؤ ۔ وہ شخص بلایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے بھی یہی بات دھرائی ۔ اس پر اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میں تمہارے لئے ضروری قرار دیتا ہوں کہ تم مجھے اس سلسلے میں بتاؤ ۔ اس نے اقرار کیا کہ زمانہ جاہلیت میں میں اپنی قوم کا کاہن تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی ، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے ، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں ۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں ، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا ۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا ۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کر دیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی ۔ اس نے کہا اے دشمن ! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ ( جو وہاں موجود تھے ) چونک پڑے ( چل دئیے ) میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا ، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے ۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِلْقَوْمِ لَوْ رَأَيْتُنِي مُوثِقِي عُمَرُ عَلَى الإِسْلاَمِ أَنَا وَأُخْتُهُ وَمَا أَسْلَمَ، وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا انْقَضَّ لِمَا صَنَعْتُمْ، بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ.
انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اوراپنی بہن کو اس لئے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے ، اور آج تم نے جو کچھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے ، اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَهْلَ، مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ شِقَّتَيْنِ، حَتَّى رَأَوْا حِرَاءً بَيْنَهُمَا.
کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دوٹکڑے کر کے دکھا دئیے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى فَقَالَ " اشْهَدُوا ". وَذَهَبَتْ فِرْقَةٌ نَحْوَ الْجَبَلِ وَقَالَ أَبُو الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ انْشَقَّ بِمَكَّةَ. وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.
جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجودتھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو ! گواہ رہنا ، اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا اور ابو الضحیٰ نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ شق قمر کا معجزہ مکہ میں پیش آیا تھا ۔ ابراہیم نخعی کے ساتھ اس کی متابعت محمد بن مسلم نے کی ہے ، ان سے ابونجیح نے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے ، ان سے ابو معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ الْقَمَرَ، انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک وشبہ چاند پھٹ گیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ.
چاند پھٹ گیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالاَ لَهُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ عُثْمَانَ فِي أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَكَانَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ بِهِ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَانْتَصَبْتُ لِعُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهْىَ نَصِيحَةٌ. فَقَالَ أَيُّهَا الْمَرْءُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَانْصَرَفْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلاَةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَإِلَى ابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي. فَقَالاَ قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ. فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا، إِذْ جَاءَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ، فَقَالاَ لِي قَدِ ابْتَلاَكَ اللَّهُ. فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ آنِفًا قَالَ فَتَشَهَّدْتُ ثُمَّ قُلْتُ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَكُنْتَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَآمَنْتَ بِهِ، وَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ، وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ. فَقَالَ لِي يَا ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قُلْتُ لاَ، وَلَكِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَىَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا خَلَصَ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا. قَالَ فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَكُنْتُ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ كَمَا قُلْتَ، وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَايَعْتُهُ، وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلاَ غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلاَ غَشَشْتُهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلاَ غَشَشْتُهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ، أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَىَّ قَالَ بَلَى. قَالَ فَمَا هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ قَالَ فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً، وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ، وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ. وَقَالَ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ شِدَّةٍ وَفِي مَوْضِعٍ الْبَلَاءُ الِابْتِلَاءُ وَالتَّمْحِيصُ مَنْ بَلَوْتُهُ وَمَحَّصْتُهُ أَيْ اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُو يَخْتَبِرُ مُبْتَلِيكُمْ مُخْتَبِرُكُمْ وَأَمَّا قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيمٌ النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنْ ابْتَلَيْتُهُ
ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا تم اپنے ماموں ( امیرالمؤمنین ) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے ، ( ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا ) ، عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے ، آپ کو ایک خیرخواہانہ مشورہ دینا ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی ! تم سے تو میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں ۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا ۔ نماز سے فا رغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبد یغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جودیا تھا ، سب میں نے بیان کر دیا ۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا ۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس ( بلانے کے لیے ) آیا ۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے ۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیرخواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیاتھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی ، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا ۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں ( ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو ) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے ۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے ۔ اس لئے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر ( شراب نوشی کی ) حد قائم کریں ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنوا ری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں ۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی ۔ اللہ کی قسم ! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے ۔ اللہ کی قسم ! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی ۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی ۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا ۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا ؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں ؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے ۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر ( گواہی کے بعد ) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے ۔ اس حدیث کو یونس اورزہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا ، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا ۔امام عبداللہ نے فرمایا: بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ یعنی جس کی وجہ سے آپ کو سخت آزمائش میں ڈالا گیا۔ اور الِابْتِلَاءُ کی جگہ بَلَاءُ اور تَّمْحِيصُ استعمال ہوا ہے اور یہ بَلَوْتُهُ اور مَحَّصْتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی جو کچھ اس کے پاس تھا میں نے نچوڑ لیا۔ يَبْلُو کا مطلب ہے کہ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ مُبْتَلِيكُمْ یعنی وہی ہے جس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا۔ اور اس کا قول "بَلَاءٌ عَظِيمٌ" سے مراد نعمت ہے اور یہ أَبْلَتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اس پر فضل کیا اور یہ أَبْلَيْتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اسے آزمایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ أُمَّ، حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ، فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِيكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گر جے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں ۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے ۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدتر ین مخلوق ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ، قَالَتْ قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ، فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمِيصَةً لَهَا أَعْلاَمٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ الأَعْلاَمَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ " سَنَاهْ، سَنَاهْ ". قَالَ الْحُمَيْدِيُّ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ.
میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی ۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا سناہ سناہ ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ سناہ سناہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا قَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغْلاً ". فَقُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ قَالَ أَرُدُّ فِي نَفْسِي.
( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے ۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس ( مدینہ ) آئے اور ہم نے ( نماز پڑھتے میں ) آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا ۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے ۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ".
جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا ۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے ، پھر مدینہ کا رخ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اے کشتی والو ! دو ہجرتیں کی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ " مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ أَصْحَمَةَ ".
جس دن نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات ہوئی تو آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آج ایک مردصالح اس دنیا سے چلا گیا ، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عَطَاءً، حَدَّثَهُمْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَصَفَّنَا وَرَاءَهُ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازہ کی نماز پڑھی تھی اور ہم صف باندھ کر آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ۔ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا. تَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور چار مرتبہ آپ نے نماز میں تکبیر کہی ۔ یزید بن ہارون کے ساتھ اس حدیث کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی ( سلیم بن حیان ) سے روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے بھائی کی مغفرت کے لئے دعا کرو ۔
وَعَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز جنازہ کے لئے ) عیدگاہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو صف بستہ کھڑا کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَادَ حُنَيْنًا " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا قصد کیا تو فرمایا انشاءاللہ کل ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہو گا جہاںمشرکین نے کافر ہی رہنے کے لئے عہدو پیمان کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ. قَالَ " هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ".
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اپنے چچا ( ابوطالب ) کے کیا کام آئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غصہ ہوتے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسی وجہ سے ) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا طَالِبٍ، لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ " أَىْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَىْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ ". فَنَزَلَتْ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} وَنَزَلَتْ {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ}
جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ۔ اس وقت وہاں ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچا ! کلمہ لا الہٰ الا اللہ ایک مرتبہ کہہ دو ، اللہ کی بارگاہ میں ( آپ کی بخشش کے لئے ) ایک یہی دلیل میرے ہاتھ آ جائے گی ، اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا ، اے ابوطالب ! کیا عبدالمطلب کے دین سے تم پھر جاؤ گے ! یہ دونوں ان ہی پر زور دیتے رہے اور آخر ی کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا ، وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کے لئے اس وقت تک مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ ( سورۃ براۃ میں ) یہ آیت نازل ہوئی ” نبی کے لئے اور مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے دعا مغفرت کریں خواہ وہ ان کے ناطے والے ہی کیوں نہ ہوں جب کہ ان کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ دوزخی ہیں “ اور سورۃ قصص میں یہ آیت نازل ہوئی ” بیشک جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ " لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ". حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا، وَقَالَ تَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ.
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کام آ جائے اور انہیں صرف ٹخنوں تک جہنم میں رکھا جائے جس سے ان کا دماغ کھولے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلاَ اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ".
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب قریش نے ( معراج کے واقعہ کے سلسلے میں ) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دیئے ۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ ـ مُضْطَجِعًا، إِذْ أَتَانِي آتٍ فَقَدَّ ـ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَشَقَّ ـ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ـ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهْوَ إِلَى جَنْبِي مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مِنْ قَصِّهِ إِلَى شِعْرَتِهِ ـ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا، فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ ". ـ فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ أَنَسٌ نَعَمْ، يَضَعُ خَطْوَهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ ـ " فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفَتَحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ، فَقَالَ هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفَتَحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى، وَهُمَا ابْنَا الْخَالَةِ قَالَ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا. فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا، ثُمَّ قَالاَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ. قَالَ هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِلَى إِدْرِيسَ قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ مَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ. قَالَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا مُوسَى قَالَ هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى، قِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ أَبْكِي لأَنَّ غُلاَمًا بُعِثَ بَعْدِي، يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مَنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ. قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ. قَالَ نَعَمْ. قَالَ مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ هَذَا أَبُوكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلاَمَ قَالَ مَرْحَبًا بِالاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ قَالَ هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ. فَقُلْتُ مَا هَذَانِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ، فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ. ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ هِيَ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ. ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ. فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قَالَ أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلاَةً كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ. فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ. قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا ۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب ( جبرائیل علیہ السلام ) آئے اور میر ا سینہ چاک کیا ، قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک ۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے ۔ پوچھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) میں نے حضرت انس سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا ، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا ، اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا ۔ اس کے بعدایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید ! جارود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ابوحمزہ ! کیا وہ براق تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرائیل ۔ مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا ، پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ آپ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا ، کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید ! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ ۔ اور دروازہ کھول دیا ۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں ، انہیں سلام کیجئے ۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی ! جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں ؟ کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ، پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید ۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے ۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں ، انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی ! یہاں سے جبرائیل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا ۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید ۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، دروازہ کھلااور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ یوسف ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی ! پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل ! پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیاانہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجاگیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ! اب دروازہ کھلا جب میں وہاںادریس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ادریس علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی ۔ پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، یہاں جب میں ہارون علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی ! یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل ، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ۔ میں جب وہاں موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے ، میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی ! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ روکیوں رہے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رورہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا ۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ کہا کہ انہیں خوش آمدید ، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں ، انہیں سلام کیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایاخوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے ! پھر سدرۃالمنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح ( بڑے بڑے ) تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سدرۃالمنتہیٰ ہے ۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری ۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل علیہ السلام ! یہ کیا ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جو دوباطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دوظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا ، وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گیا ۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی ! پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزراتو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا ؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نماز وں کا ، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے ۔ اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑچکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے ۔ اس لئے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لئے عرض کیجئے ۔ چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لئے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں ۔ پھر میں جب واپسی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں ۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بار گاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں ، موسٰی علیہ السلام کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہو اتو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا ۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیاحکم ہوا ؟ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے ۔ فرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے ۔ اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لئے عرض کیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کر چکا اور اب مجھے شرم آتی ہے ۔ اب میں بس اسی پر راضی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی ” میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا ۔ “
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
اللہ کے ارشاد وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنۃ للناس ( اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا اس سے مقصد صرف لوگوں کا امتحان تھا ) فرمایا کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے ۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں د کھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں ” الشجرۃ الملعونۃ “ کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ. بِطُولِهِ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ، أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا.
عبداللہ بن کعب نے جب وہ نابینا ہو گئے تو وہ چلتے پھر تے وقت ان کو پکڑ کر لے چلتے تھے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا طویل واقعہ بیان کرتے تھے ابن بکیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ حضرت کعب نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عقبہ کی رات میں حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد کیا تھا ، میرے نزدیک ( لیلۃالعقبہ کی بیعت ) بدر کی لڑائی میں حاضری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے اگرچہ لوگوں میں بدر کا چرچہ اس سے زیادہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَ عَمْرٌو يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ شَهِدَ بِي خَالاَىَ الْعَقَبَةَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَحَدُهُمَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ.
میرے دوماموں مجھے بھی بیعت عقبہ میں ساتھ لے گئے تھے ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ ابن عیینہ نے بیان کیا ان میں سے ایک حضرت براء بن معروررضی اللہ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ أَنَا وَأَبِي، وَخَالِي، مِنْ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ.
میں ، میرے والد اور میرے دو ماموں تینوں بیعت عقبہ کرنے والوں میں شریک تھے ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ـ مِنَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ وَمِنْ أَصْحَابِهِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ " تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُونَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهْوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ ". قَالَ فَبَايَعْتُهُ عَلَى ذَلِكَ.
جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی اور عقبہ کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا تھا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت آپ کے پاس صحابہ کی ایک جماعت تھی ، کہ آؤ مجھ سے اس بات کاعہد کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤگے ، چوری نہ کرو گے ، زنا نہ کرو گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے ، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہ لگاؤ گے اور اچھی باتو ں میں میری نافرمانی نہ کرو گے ، پس جو شخص اپنے اس عہد پر قائم رہے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے اس میں کمی کی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے چھپارہنے دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ، چاہے تو اس پر سزا دے اور چاہے معاف کر دے ۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان امور پر بیعت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ، وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ.
میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( عقبہ کی رات میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا عہد کیا تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ، چوری نہیں کریں گے ، زنا نہیں کریں گے ، کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کریں گے جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، لوٹ مار نہیں کریں گے اور نہ اللہ کی نافرمانی کریں گے جنت کے بدلے میں ، اگر ہم اپنے عہد میں پورے اترے ۔ لیکن اگر ہم نے اس میں کچھ خلاف کیا تو اس کا فیصلہ اللہ پر ہے ۔
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لاَ أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى باب الدَّارِ، وَإِنِّي لأَنْهَجُ، حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ. فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ ( ہجرت کر کے ) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا ۔ یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے ۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں ، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے پکا را تو میں حاضر ہو گئی ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے ۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا ۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا ۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں ۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں ، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو ، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی ۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا میری عمر اس وقت نو سال تھی ۔
حَدَّثَنَا مُعَلًّى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى أَنَّكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ وَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَاكْشِفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو ۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ، ان کا چہرہ کھولئے ۔ میں نے چہرہ کھول کردیکھا تو تم تھیں ، میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلاَثِ سِنِينَ، فَلَبِثَ سَنَتَيْنِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَنَكَحَ عَائِشَةَ وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نوسال کی تھیں ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى، لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ. وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی تھی ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا ۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے ( دنیا میں ) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا ۔ انہیں میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی ۔ ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں ۔ ( تاکہ چھپ جائیں ) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ ( اس دنیا میں بھی ) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا ، پس وہ اس کو چن رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ".
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں ۔ پس جس کا مقصد ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کر سکے گا یا مقصد ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا ، لیکن جن کا ہجرت سے مقصد اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے سمجھی جائے گی ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقُولُ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ( مکہ سے مدینہ کی طرف ) ہجرت باقی نہیں رہی ۔
وَحَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ.
عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا ، اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور آ ج ( سرزمین عرب میں ) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے ، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے ۔
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ سَعْدًا، قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صلى الله عليه وسلم وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ. وَقَالَ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ قُرَيْشٍ.
اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں ، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں ( ان کے وطن مکہ سے ) نکالا اے اللہ ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کر دیا ہے ۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ( یہ الفاظ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ) من قوم کذبوا نبیک اخرجوہ من قریش ۔ یعنی جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا ۔ باہر نکال دیا ۔ اس سے قریش کے کافر مراد ہیں ۔
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكُثَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا ۔ پھر آپ پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے ہجرت کی حالت میں دس سال گزارے ، ( مدینہ میں ) جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی ۔
حَدَّثَنِي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ، وَتُوُفِّيَ وَهْوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ ـ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ ـ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ". فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَعَجِبْنَا لَهُ، وَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهْوَ يَقُولُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ الْمُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً مِنْ أُمَّتِي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِلاَّ خُلَّةَ الإِسْلاَمِ، لاَ يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ، فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لئے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے ( آخرت میں ) اسے پسند کر لے ۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔ ( حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی ، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ حضور پر فدا ہوں ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پراحسان کرنے والے ابوبکر ہیں ۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے ۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَىَّ قَطُّ إِلاَّ وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلاَّ يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَفَىِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونُ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا نَحْوَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، حَتَّى بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهْوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ. فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي، فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الأَرْضِ وَأَعْبُدَ رَبِّي. قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَإِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لاَ يَخْرُجُ وَلاَ يُخْرَجُ، إِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنَا لَكَ جَارٌ، ارْجِعْ وَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ. فَرَجَعَ وَارْتَحَلَ مَعَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ، فَطَافَ ابْنُ الدَّغِنَةِ عَشِيَّةً فِي أَشْرَافِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لاَ يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلاَ يُخْرَجُ، أَتُخْرِجُونَ رَجُلاً يَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَلَمْ تُكَذِّبْ قُرَيْشٌ بِجِوَارِ ابْنِ الدَّغِنَةِ، وَقَالُوا لاِبْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، فَلْيُصَلِّ فِيهَا وَلْيَقْرَأْ مَا شَاءَ، وَلاَ يُؤْذِينَا بِذَلِكَ، وَلاَ يَسْتَعْلِنْ بِهِ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا. فَقَالَ ذَلِكَ ابْنُ الدَّغِنَةِ لأَبِي بَكْرٍ، فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ بِذَلِكَ يَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَلاَ يَسْتَعْلِنُ بِصَلاَتِهِ، وَلاَ يَقْرَأُ فِي غَيْرِ دَارِهِ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ وَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَنْقَذِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ، وَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلاً بَكَّاءً، لاَ يَمْلِكُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ. فَقَالُوا إِنَّا كُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ بِجِوَارِكَ، عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، فَقَدْ جَاوَزَ ذَلِكَ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَأَعْلَنَ بِالصَّلاَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِ، وَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا فَانْهَهُ، فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَعَلَ، وَإِنْ أَبَى إِلاَّ أَنْ يُعْلِنَ بِذَلِكَ فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْكَ ذِمَّتَكَ، فَإِنَّا قَدْ كَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَكَ، وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ الاِسْتِعْلاَنَ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَاقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ، فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِمَّا أَنْ تَرْجِعَ إِلَىَّ ذِمَّتِي، فَإِنِّي لاَ أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَإِنِّي أَرُدُّ إِلَيْكَ جِوَارَكَ وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمُسْلِمِينَ " إِنِّي أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لاَبَتَيْنِ ". وَهُمَا الْحَرَّتَانِ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، وَرَجَعَ عَامَّةُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهَلْ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ " نَعَمْ ". فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَصْحَبَهُ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ وَهْوَ الْخَبَطُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَقَنِّعًا ـ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَاءٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلاَّ أَمْرٌ. قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ " أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصَّحَابَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَىَّ هَاتَيْنِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بِالثَّمَنِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجَهَازِ، وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مَنْ نِطَاقِهَا فَرَبَطَتْ بِهِ عَلَى فَمِ الْجِرَابِ، فَبِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقِ ـ قَالَتْ ـ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ فَكَمَنَا فِيهِ ثَلاَثَ لَيَالٍ، يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهْوَ غُلاَمٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ، فَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا بِسَحَرٍ، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلاَ يَسْمَعُ أَمْرًا يُكْتَادَانِ بِهِ إِلاَّ وَعَاهُ، حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلاَمُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ، فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ يَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلٍ وَهْوَ لَبَنُ مِنْحَتِهِمَا وَرَضِيفِهِمَا، حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلاَثِ، وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ، وَهْوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَأَمِنَاهُ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلاَثٍ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ السَّوَاحِلِ.
جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے ماں باپ کو دین اسلام ہی پر پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں ، پھر جب ( مکہ میں ) مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت کا ارادہ کر کے نکلے ۔ جب آپ مقام برک غماد پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا ۔ اس نے پوچھا ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ملک ملک کی سیاحت کروں ( اور آزادی کے ساتھ ) اپنے رب کی عبادت کروں ۔ ابن الدغنہ نے کہا لیکن ابوبکر ! تم جیسے انسان کو اپنے وطن سے نہ خود نکلنا چاہئے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے ۔ تم محتاجوں کی مدد کرتے ہو ، صلہ رحمی کرتے ہو ۔ بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو ، میں تمہیں پناہ دیتا ہوں واپس چلو اور اپنے شہر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرو ۔ چنانچہ وہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ۔ اس کے بعد ابن الدغنہ قریش کے تمام سرداروں کے یہاں شام کے وقت گیا اور سب سے اس نے کہا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) جیسے شخص کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چا ہیے کیا تم ایسے شخص کو نکال دو گے جو محتاجوں کی امداد کرتا ہے ، صلہ رحمی کرتا ہے ، بے کسوں کا بوجھ اٹھا تا ہے ، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتا ہے ؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ سے انکا ر نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دو ، کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں ، وہیں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے وہیں پڑھیں ، اپنی عبادات سے ہمیں تکلیف نہ پہنچا ئیں ، اس کا اظہار نہ کریں کیونکہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں ۔ یہ باتیں ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی آ کر کہہ دیں کچھ دنوں تک تو آپ اس پر قائم رہے اور اپنے گھر کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے رہے ، نہ نماز بر سر عام پڑھتے اور نہ گھر کے سوا کسی اورجگہ تلاوت قرآن کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے کچھ سوچا اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لئے ایک جگہ بنائی جہاں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی اور تلاوت قرآن بھی وہیں کرنے لگے ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا مجمع ہونے لگا ۔ وہ سب حیرت اور پسندیدگی کے ساتھ دیکھتے رہا کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے ۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنسو ؤں کو روک نہ سکتے تھے ۔ اس صورت حال سے مشرکین قریش کے سردار گھبراگئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا ، جب ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کے لئے تمہاری پناہ اس شرط کے ساتھ تسلیم کی تھی کہ اپنے رب کی عبادت وہ اپنے گھر کے اندر کیا کریں لیکن انہوں نے شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لئے ایک جگہ بنا کر برسر عام نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے لگے ہیں ۔ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنے میں نہ مبتلا ہو جائیں اس لئے تم انہیں روک دو ، اگر انہیں یہ شرط منظور ہو کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اظہار ہی کریں تو ان سے کہو کہ تمہاری پناہ واپس دے دیں ، کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری دی ہوئی پناہ میں ہم دخل اندازی کریں لیکن ابوبکر کے اس اظہار کو بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور اس نے کہا کہ جس شرط کے ساتھ میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے ، اب یا آپ اس شرط پر قائم رہیے یا پھر میرے عہد کو واپس کیجئے کیونکہ یہ مجھے گوار ا نہیں کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی تھی ۔ لیکن اس میں ( قریش کی طرف سے ) دخل اندازی کی گئی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی پناہ پر راضی اور خوش ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں تشریف رکھتے تھے ۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری ہجرت کی جگہ مجھے خواب میں دکھائی گئی ہے وہا ں کھجور کے باغات ہیں اور دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے ، چنانچہ جنہیں ہجرت کرنی تھی انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ سرزمین حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ چلے آئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ ہجرت کی تیار ی شروع کر دی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کچھ دنوں کے لئے توقف کرو ۔ مجھے توقع ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی مل جائے گی ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا واقعی آپ کو بھی اس کی توقع ہے ، میرے باپ آپ پر فدا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر کے خیال سے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو اونٹنیوں کو جو ان کے پاس تھیں کیکر کے پتے کھلا کر تیار کرنے لگے چار مہینے تک ۔ ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ، ایک دن ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے بھری دوپہر تھی کہ کسی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہیں تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت یہاں سے تھوڑی دیر کے لئے سب کو اٹھادو ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہاں اس وقت تو سب گھر کے ہی آدمی ہیں ، میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، یا رسول اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ! کیا مجھے رفاقت سفر کا شرف حاصل ہو سکے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ان دونوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیجئے ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جلدی جلدی ان کے لئے تیاریاں شروع کر دیں اور کچھ توشہ ایک تھیلے میں رکھ دیا ۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ٹکڑے کر کے تھیلے کا منہ اس سے باندھ دیا اور اسی وجہ سے انکانام ذات النطاقین ( دوپٹکے والی ) پڑ گیا عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جبل ثور کے غار میں پڑاؤ کیا اور تین راتیں گزاریں عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات وہیں جا کر گزارا کرتے تھے ، یہ نو جوان بہت سمجھدار تھے اور ذہین بےحد تھے ۔ سحر کے وقت وہاں سے نکل آتے اور صبح سویرے ہی مکہ پہنچ جاتے جیسے وہیں رات گزری ہو ۔ پھر جو کچھ یہاں سنتے اور جس کے ذریعہ ان حضرات کے خلاف کاروائی کے لیے کوئی تدبیر کی جاتی تو اسے محفوظ رکھتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو تمام اطلاعات یہاں آ کر پہنچاتے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ ہر دو کے لئے قریب ہی دودھ دینے والی بکری چرایا کرتے تھے اور جب کچھ رات گزر جاتی تو اسے غار میں لاتے تھے ۔ آپ اسی پر رات گزارتے اس دودھ کو گرم لوہے کے ذریعہ گرم کر لیا جاتا تھا ۔ صبح منہ اندھیرے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ غار سے نکل آتے تھے ان تین راتوں میں روزانہ کا ان کا یہی دستور تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی الدیل جو بنی عبد بن عدی کی شاخ تھی ، کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر اپنے ساتھ رکھا تھا ۔ یہ شخص راستوں کا بڑا ماہر تھا ۔ آل عاص بن وائل سہمی کا یہ حلیف بھی تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا ۔ ان بزرگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنے دونوں اونٹ اس کے حوالے کر دیئے ۔ قرار یہ پایا تھا کہ تین راتیں گزار کر یہ شخص غار ثور میں ان سے ملاقات کرے ۔ چنانچہ تیسری رات کی صبح کو وہ دونوں اونٹ لے کر ( آ گیا ) اب عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور یہ راستہ بتانے والا ان حضرات کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ساحل کے راستے سے ہوتے ہوئے ۔
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ ـ وَهْوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ـ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ، يَقُولُ جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ ـ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ. قَالَ سُرَاقَةُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا انْطَلَقُوا بِأَعْيُنِنَا. ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِي وَهْىَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَىَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَحَطَطْتُ بِزُجِّهِ الأَرْضَ، وَخَفَضْتُ عَالِيَهُ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، فَرَفَعْتُهَا تُقَرَّبُ بِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْهُمْ، فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ، فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَى كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الأَزْلاَمَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لاَ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَعَصَيْتُ الأَزْلاَمَ، تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ لاَ يَلْتَفِتُ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الاِلْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ، فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً، إِذَا لأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِالأَزْلاَمِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، فَنَادَيْتُهُمْ بِالأَمَانِ فَوَقَفُوا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ. وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمِ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَآنِي وَلَمْ يَسْأَلاَنِي إِلاَّ أَنْ قَالَ أَخْفِ عَنَّا. فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ أَمْنٍ، فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنَ الشَّأْمِ، فَكَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ، وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ، فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ فَيَنْتَظِرُونَهُ، حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ، فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ، فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ، أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ، فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ. فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلاَحِ، فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِظَهْرِ الْحَرَّةِ، فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَذَلِكَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّاسِ، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامِتًا، فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنَ الأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَيِّي أَبَا بَكْرٍ، حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ، فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ، فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ، وَهْوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ " هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ ". ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغُلاَمَيْنِ، فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، فَقَالاَ لاَ بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ، وَيَقُولُ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ " هَذَا الْحِمَالُ لاَ حِمَالَ خَيْبَرْ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرْ ". وَيَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنَّ الأَجْرَ أَجْرُ الآخِرَهْ فَارْحَمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ ". فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرِ هذه الآيات
ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے ۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیااور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا ۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا سراقہ ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں ۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے ، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا ۔ ( سراقہ یہ سب کچھ اس لئے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا ) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا ، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لئے ممکن تھا ، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا ۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا ۔ لیکن میں کھڑاہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں ۔ فال ( اب بھی ) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا ۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی ۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لئے جا رہا تھا ۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرا ، ت سنی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے ، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لئے ڈانٹا میں نے اسے اٹھا نے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا ۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا ۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا ۔ اس وقت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لئے پکارا ۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا ۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا ، اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی ۔ اس لئے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لئے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی ۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لئے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے ۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی ۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے ( دوپہر کو ) انہیں واپس جانا پڑتا تھا ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا ۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں ۔ ( یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں ) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا ۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو ! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا ۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا ۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا ۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے ۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا ، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے ۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا ۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد ( قباء ) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر ( جمعہ کے دن ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے ۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجدنبوی ہے ۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ جگہ سہیل اور سہل ( رضی اللہ عنہما ) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا ۔ یہ دونوں بچے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی ۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے ۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے ، لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا ۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی ۔ اس کی تعمیر کے وقت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے ۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ” یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے “ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرما تے تھے کہ ” اے اللہ ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس ، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما “ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں ، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، وَفَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، رضى الله عنها صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ لأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبُطُهُ إِلاَّ نِطَاقِي. قَالَ فَشُقِّيهِ. فَفَعَلْتُ، فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لئے ناشتہ تیار کیا ۔ میں نے اپنے والد ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو ۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین ( دو پٹکوں والی ) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو ذات النطاق کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ. قَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ. فَدَعَا لَهُ. قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ بِرَاعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ، اس نے عرض کیا کہ میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے ( کہ اس مصیبت سے نجات دے ) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا ، آپ نے اس کے لیے دعا کی ۔ ( اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں ( ریوڑ کی ایک بکری کا ) تھوڑا سا دودھ دوہا ، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی ۔
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ. تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ حُبْلَى.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے ، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی ، میں مدینہ کے لئے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ پھر میں انہیں لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا ۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا ۔ اس کے بعد آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لئے برکت طلب کی ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی ۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متا بعت خالد بن مخلد نے کی ہے ۔ ان سے علی بن مسہرنے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَوَّلُ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تَمْرَةً فَلاَكَهَا ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيهِ، فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
سب سے پہلا بچہ جواسلام میں ( ہجرت کے بعد ) پیدا ہوا ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں ، انہیں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے چبایا پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ اس لئے سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ وَهْوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَابٌّ لاَ يُعْرَفُ، قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ. قَالَ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ، وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا. فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ ". فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ، ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ. قَالَ " فَقِفْ مَكَانَكَ، لاَ تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا ". قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَانِبَ الْحَرَّةِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الأَنْصَارِ، فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا، وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ. فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ، وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلاَحِ، فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ، جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ، جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ. فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ، إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ وَهْوَ فِي نَخْلٍ لأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ، فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا، فَجَاءَ وَهْىَ مَعَهُ، فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ ". فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا بَابِي. قَالَ " فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلاً ". قَالَ قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ. فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ، وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ، وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ، فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ. فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، وَيْلَكُمُ اتَّقُوا اللَّهَ، فَوَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا ". قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ. قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ. قَالَ " فَأَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا. قَالَ " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ". قَالُوا حَاشَا لِلَّهِ، مَا كَانَ لِيُسْلِمَ. قَالَ " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ". قَالُوا حَاشَا لِلَّهِ، مَا كَانَ لِيُسْلِمَ. قَالَ " يَا ابْنَ سَلاَمٍ، اخْرُجْ عَلَيْهِمْ ". فَخَرَجَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، اتَّقُوا اللَّهَ، فَوَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ. فَقَالُوا كَذَبْتَ. فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے ۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر ! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں ؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں ، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین وایمان کا راستہ بتلاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آچکا تھا ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے گرادے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا ۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار ( سراقہ ) نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا ۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ پہنچ کر ) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلابھیجا ۔ اکابر انصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی ، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا ۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے ۔ اللہ کے نبی آ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور ( مدینہ پہنچ کر ) حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھرکے پاس سواری سے اتر گئے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( ایک یہودی عالم نے ) اپنے گھر والوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا ، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے ( سنتے ہی ) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ( نانہالی ) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے ؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا ( اچھا تو جاؤ ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لئے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے ۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں ، اللہ مبارک کرے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں ، اس لئے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو ، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرما یئے ، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لاچکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا اے یہودیو ! افسوس تم پر ، اللہ سے ڈرو ، اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول بر حق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں ، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارےسب سے بڑے عالم کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسلام لے آئیں ۔ پھر تمہار ا کیا خیال ہو گا ۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے ، وہ اسلام کیوں لانے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام ! اب ان کے سامنے آ جاؤ ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا اے یہود ! خدا سے ڈرو اس اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لئے فرمایا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلاَفٍ فِي أَرْبَعَةٍ، وَفَرَضَ لاِبْنِ عُمَرَ ثَلاَثَةَ آلاَفٍ وَخَمْسَمِائَةٍ فَقِيلَ لَهُ هُوَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلاَفٍ فَقَالَ إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ. يَقُولُ لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ.
آپ نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ ( اپنے عہد خلافت میں ) چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کر دیا تھا ، لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں ۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے ۔ اس لئے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، وَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ، إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، فَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغْطِيَ رَأْسَهُ بِهَا، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ إِذْخِرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا ۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے ۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا ۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں ۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی ۔ اور ان کے کفن کے لئے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپا تے تو ان کے پاؤں کھل جاتے ۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے ۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کر لیا ۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لأَبِيكَ قَالَ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَإِنَّ أَبِي قَالَ لأَبِيكَ يَا أَبَا مُوسَى، هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلاَمُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ، وَجِهَادُنَا مَعَهُ، وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ، بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقَالَ أَبِي لاَ وَاللَّهِ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ. فَقَالَ أَبِي لَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَىْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ. فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي.
مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا ۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا ، انہوں نے کہا نہیں ، تو عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا اے ابوموسیٰ ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام ، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت ، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جوہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پا جائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہو جائے ۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا خدا کی قسم ! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا ، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا ، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا ( خیر ابھی تم سمجھو ) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پا جائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہو جائے ۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا اللہ کی قسم آپ کے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بہتر تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ـ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ ـ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا قِيلَ لَهُ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ، قَالَ وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْنَاهُ قَائِلاً فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ وَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلِ اسْتَيْقَظَ فَأَتَيْتُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ تم نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی تو وہ غصہ ہو جایا کرتے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے ، اس لئے ہم گھر واپس آ گئے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور فرمایا کہ جا کر دیکھ آؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیدار ہوئے یا نہیں چنانچہ میں آیا ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے ) اس لئے اندر چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے کی خبر دی ۔ اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے عمر رضی اللہ عنہ بھی اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور میں نے بھی ( دوبارہ ) بیعت کی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ ابْتَاعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلاً فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ، فَخَرَجْنَا لَيْلاً، فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ، فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَىْءٌ مِنْ ظِلٍّ قَالَ فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرْوَةً مَعِي، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنَ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ فَقَالَ أَنَا لِفُلاَنٍ. فَقُلْتُ لَهُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ قَالَ نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَقُلْتُ لَهُ انْفُضِ الضَّرْعَ. قَالَ فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا.
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان خریدااور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا ، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عازب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت کا حال پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ چونکہ ہماری نگرانی ہو رہی تھی ( یعنی کفار ہماری تاک میں تھے ) اس لئے ہم ( غار سے ) رات کے وقت باہر آئے اور پوری رات اور دن بھر بہت تیزی کے ساتھ چلتے رہے ، جب دوپہر ہوئی تو ہمیں ایک چٹان دکھائی دی ۔ ہم اس کے قریب پہنچے تو اس کی آڑ میں تھوڑاسا سایہ بھی موجود تھا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چمڑا بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا آپ اس پر لیٹ گئے ، اور میں قرب وجوار کی گرد جھاڑنے لگا ۔ اتفاق سے ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کے تھوڑے سے ریوڑ کے ساتھ اسی چٹان کی طرف آ رہا تھااس کا مقصد اس چٹان سے وہی تھا جس کے لئے ہم یہاں آئے تھے ( یعنی سایہ حاصل کرنا ) میں نے اس سے پوچھا لڑکے تو کس کا غلام ہے ؟ اس نے بتایا کہ فلاں کا ہوں ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی بکریوں سے کچھ دودھ نکال سکتے ہو اس نے کہا کہ ہاں پھر وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری لایا تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے اس کا تھن جھاڑ لو ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر اس نے کچھ دودھ دوہا ۔ میرے ساتھ پانی کا ایک چھاگل تھا ۔ اس کے منہ پرکپڑابندھاہوا تھا ۔ یہ پانی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ساتھ لے رکھا تھا ۔ وہ پانی میں نے اس دودھ پر اتنا ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا دودھ نوش فرمایئے یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا جس سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد ہم نے پھر کوچ شروع کیا اور ڈھونڈ نے والے لوگ ہماری تلاش میں تھے ۔
قَالَ الْبَرَاءُ فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ، قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى، فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا، وَقَالَ كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ
جب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی ! طبیعت کیسی ہے ؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسٍ، خَادِمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ فِي أَصْحَابِهِ أَشْمَطُ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ منورہ ) تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی آپ کے اصحاب میں ایسا نہیں تھا جس کے بال سفید ہو رہے ہوں ، اس لئے آپ نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا تھا ۔
وَقَالَ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ حَتَّى قَنَأَ لَوْنُهَا.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تھی اس لئے انہوں نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا ۔ اس سے آپ کے بالوں کا رنگ خوب سرخ مائل بہ سیاہی ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ بَكْرٍ، فَلَمَّا هَاجَرَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا ابْنُ عَمِّهَا، هَذَا الشَّاعِرُ الَّذِي قَالَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ، رَثَى كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الشِّيزَى تُزَيَّنُ بِالسَّنَامِ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الْقَيْنَاتِ وَالشَّرْبِ الْكِرَامِ تُحَيِّي بِالسَّلاَمَةِ أُمُّ بَكْرٍ وَهَلْ لِي بَعْدَ قَوْمِي مِنْ سَلاَمِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنَحْيَا وَكَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَاءٍ وَهَامِ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو کلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کر لی تھی ۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے ۔ اس عورت سے پھر اس کے چچا زاد بھائی ( ابوبکر شداد بن اسود ) نے شادی کر لی تھی ، یہ شخص شاعر تھا اور اسی نے یہ مشہور مرثیہ کفار قریش کے بارے میں کہا تھا ” مقام بدر کے کنوؤں کو میں کیا کہوں کہ انہوں نے ہمیں در خت شیزیٰ کے بڑے بڑے پیالوں سے محروم کر دیا جو کبھی اونٹ کے کوہان کے گوشت سے بہتر ہوا کرتے تھے ، میں بدر کے کنوؤں کو کیا کہوں ! انہوں نے ہمیں گانے والی لونڈیوں اور اچھے شرابیوں سے محروم کر دیا ام بکر تو مجھے سلامتی کی دعا دیتی رہی لیکن میری قوم کی بربادی کے بعد میرے لئے سلامتی کہاں ہے یہ رسول ہمیں دوبارہ زندگی کی خبریں بیان کرتا ہے ۔ کہیں الو بن جانے کے بعد پھر زندگی کس طرح ممکن ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا. قَالَ " اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ، اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ".
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا ۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم ( باہر ) نظر آئے میں نے کہا ، اے اللہ کے نبی ! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابوبکر ! خاموش رہو ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ،. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ " وَيْحَكَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وُرُودِهَا ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ".
ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کا حال پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر افسوس ! ہجرت تو بہت مشکل ہے ۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ہیں ۔ فرمایا کہ تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں ادا کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹنیوں کا دودھ دوسرے ( محتاجوں ) کو بھی دوہنے کے لئے دے دیا کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا کہ ایسا بھی کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انہیں گھاٹ پر لے جا کر ( محتاجوں کے لئے ) دوہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا ایسا بھی کرتا ہوں ۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم سات سمندر پار عمل کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا بھی ثواب کم نہیں کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَبِلاَلٌ رضى الله عنهم.
سب سے پہلے ( ہجرت کر کے ) ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ آئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ، فَقَدِمَ بِلاَلٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَىْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، حَتَّى جَعَلَ الإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ.
سب سے پہلے ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( نابینا ) آئے یہ دونوں ( مدینہ کے ) مسلمانوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے ۔ اس کے بعد بلال ، سعداور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم آئے ۔ پھر عمربن خطاب رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر ) تشریف لائے ، مدینہ کے لوگوں کو جتنی خوشی اور مسرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ہوئی میں نے کبھی انہیں کسی بات پر اس قدر خوش نہیں دیکھا ۔ لونڈیاں بھی ( خوشی میں ) کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس سے پہلے میں مفصل کی دوسری کئی سورتوں کے ساتھ سبح اسم ربک الاعلی بھی سیکھ چکا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ ـ قَالَتْ ـ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ، كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ ".
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار چڑھ آیا ، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا والد صاحب ! آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار چڑھا تو یہ شعر پڑھنے لگے ۔ ( ترجمہ ) ہر شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت تو جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے “ اور بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے ” کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد ( خوشبودار گھاس ) اذخر اور جلیل ہوں گی ، اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، اے اللہ ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا ۔ ہمارے لئے یہا ں کے صاع اور مد ( اناج ناپنے کے پیمانے ) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، أَخْبَرَهُ دَخَلْتُ، عَلَى عُثْمَانَ. وَقَالَ بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ، وَكُنْتُ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ هَاجَرْتُ هِجْرَتَيْنِ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَبَايَعْتُهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلاَ غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ. تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ مِثْلَهُ.
میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حمد وشہادت پڑھنے کے بعد فرمایا ، امابعد ! کوئی شک وشبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا اور میں ان تمام چیزوں پر ایمان لایا جنہیں لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے ، پھر میں نے دو ہجرت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف مجھے حاصل ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بیعت کی خدا کی قسم کہ میں نے آپ کی نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ کبھی آپ سے دھوکہ بازی کی ، یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔ شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت اسحاق کلبی نے بھی کی ہے ، ان سے زہری نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ،. وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَهْوَ بِمِنًى، فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ، فَوَجَدَنِي، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تُمْهِلَ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ، وَتَخْلُصَ لأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ وَذَوِي رَأْيِهِمْ. قَالَ عُمَرُ لأَقُومَنَّ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ.
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ کی طرف واپس آ رہے تھے ، یہ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج کا واقعہ ہے تو ان کی مجھ سے ملاقات ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ( عمر رضی اللہ عنہ حاجیوں کو خطاب کرنے والے تھے اس لئے ) میں نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین ! موسم حج میں معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے سب طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور شوروغل بہت ہوتا ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ آپ اپنا ارادہ موقوف کر دیں اور مدینہ پہنچ کر ( خطاب فرمائیں ) کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے اور وہاں سمجھدار معزز اور صاحب عقل لوگ رہتے ہیں ۔ “ اس پرعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو ، مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلی فرصت میں لوگوں کو خطاب کرنے کے لئے ضرور کھڑا ہوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُمْ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ عِنْدَنَا، فَمَرَّضْتُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ ". قَالَتْ قُلْتُ لاَ أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ قَالَ " أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَمَا أَدْرِي وَاللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي ". قَالَتْ فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ قَالَتْ فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ " ذَلِكَ عَمَلُهُ ".
جب انصار نے مہاجرین کی میز بانی کے لئے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعون ان کے گھرانے کے حصے میں آئے تھے ۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں بیمار پڑ گئے ۔ میں نے ان کی پوری طرح تیمارداری کی وہ نہ بچ سکے ۔ ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا تھا ۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے تو میں نے کہا ابوسائب ! ( عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ) تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں ، میری تمہارے متعلق گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے ۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے تو اس سلسلے میں کچھ خبر نہیں ہے ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ! لیکن اور کسے نوازے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں تو واقعی کوئی شک وشبہ نہیں کہ ایک یقینی امر ( موت ) ان کو آ چکا ہے ، خدا کی قسم کہ میں بھی ان کے کئے اللہ تعالیٰ سے خیرخواہی کی امید رکھتا ہوں لیکن میں حالانکہ اللہ کا رسول ہوں خود اپنے متعلق نہیں جان سکتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا ۔ ام علا ء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا پھر خدا کی قسم کہ اس کے بعد میں اب کسی کے بارے میں اس کی پاکی نہیں کروں گی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ پر مجھے بڑا رنج ہوا ۔ پھر میں سو گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ ہے ۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اپنا خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل تھا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ.
بعاث کی لڑائی کو ( انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان ) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے ۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کر لیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى، وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ {تُغَنِّيَانِ} بِمَا تَقَاذَفَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ مَرَّتَيْنِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمُ ".
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ا نکے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف رکھتے تھے عیدالفطر یا عیدالاضحی کا دن تھا ، دو لڑکیاں یوم بعاث کے بارے میں وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار کے شعراء نے اپنے فخر میں کہے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ شیطانی گانے باجے ! ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) دو مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا ، لیکن آپ نے فرمایا ابوبکر ! انہیں چھوڑ دو ۔ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور ہماری عید آج کا یہ دن ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،. وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ـ قَالَ ـ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ ـ قَالَ ـ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ، قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ، وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا ". فَقَالُوا لاَ، وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ. قَالَ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ ـ قَالَ ـ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً. قَالَ قَالَ جَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَاكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند جانب قباء کے ایک محلہ میں آپ نے ( سب سے پہلے ) قیام کیا جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا ۔ راوی نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چودہ رات قیام کیا پھر آپ نے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ انصاربنی النجار آپ کی خدمت میں تلواریں لٹکا ئے ہوئے حاضر ہوئے ۔ راوی نے بیان کیا گویا اس وقت بھی وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنی النجار کے انصار آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے مسلح پیدل چلے جا رہے ہیں ۔ آخر آپ حضرت ابوایوب انصاری کے گھر کے قریب اتر گئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ ابھی تک جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا وہیں آپ نماز پڑھ لیتے تھے ۔ بکریوں کے ریوڑ جہاں رات کو باندھے جاتے وہاں بھی نماز پڑھ لی جاتی تھی ۔ بیان کیا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم فرمایا ۔ آپ نے اس کے لئے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا ۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے بنو النجار ! اپنے اس باغ کی قیمت طے کر لو ۔ انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں لے سکتے ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس باغ میں وہ چیزیں تھیں جو میں تم سے بیان کروں گا ۔ اس میں مشرکین کی قبریں تھیں ، کچھ اس میں کھنڈر تھا اور کھجور وں کے درخت بھی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مشرکین کی قبریں اکھاڑ دی گئیں ، جہاں کھنڈر تھا اسے برا بر کیا گیا اور کھجوروں کے درخت کاٹ دیئے گئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ کھجور کے تنے مسجد کی طرف ایک قطار میں بطور دیوار رکھ دیئے گئے اور دروازہ میں ( چوکھٹ کی جگہ ) پتھر رکھ دیئے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ جب پتھر لا رہے تھے تو شعر پڑھتے جاتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ خود پتھر لاتے اور شعر پڑھتے ۔ صحابہ یہ شعر پڑھتے کہ اے اللہ ! آخرت ہی کی خیر ، خیر ہے ، پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ ابْنَ أُخْتِ النَّمِرِ مَا سَمِعْتَ فِي، سُكْنَى مَكَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثٌ لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ ".
انہوں نے خلیفہ عمر بن عبد العزیز سے سنا ، وہ نمر کندی کے بھانجے سائب بن یزید سے دریافت کر رہے تھے کہ تم نے مکہ میں ( مہاجر کے ) ٹھہر نے کے مسئلہ میں کیا سنا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہاجر کو ( حج میں ) طواف وداع کے بعد تین دن ٹھہر نے کی اجازت ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مَا عَدُّوا مِنْ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مِنْ وَفَاتِهِ، مَا عَدُّوا إِلاَّ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ.
تاریخ کا شمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سال سے ہوا اور نہ آپ کی وفات کے سال سے بلکہ اس کا شمار مدینہ کی ہجرت کے سال سے ہوا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا، وَتُرِكَتْ صَلاَةُ السَّفَرِ عَلَى الأُولَى. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ.
( پہلے ) نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو وہ فرض رکعات چار رکعات ہو گئیں ۔ البتہ سفر کی حالت میں نماز اپنی حالت میں باقی رکھی گئی ۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے معمر سے کی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ مَرَضٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ " لاَ ". قَالَ فَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ " الثُّلُثُ يَا سَعْدُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ ذُرِّيَّتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ". قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ " أَنْ تَذَرَ ذُرِّيَّتَكَ، وَلَسْتَ بِنَافِقٍ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ آجَرَكَ اللَّهُ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ ". قُلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ ". وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَمُوسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ " أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع 10 ھ کے موقع پر میری مزاج پرسی کے لئے تشریف لائے ۔ اس مرض میں میرے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فرما رہے ہیں ، میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی وارث ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں ؟ فرمایا کہ سعد ! بس ایک تہائی کا کر دو ، یہ بھی بہت ہے ۔ تو اگر اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ احمد بن یونس نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم بن سعد نے کہ ” تم اپنی اولاد کو چھوڑ کر جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب دے گا ، اللہ تمہیں اس لقمہ پر بھی ثواب دے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے مکہ میں رہ جاؤں گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پیچھے نہیں رہو گے اور تم جو بھی عمل کرو گے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہو گی تو تمہارا مرتبہ اس کی وجہ سے بلند ہوتا رہے گا اور شاید تم ابھی بہت دنوں تک زندہ رہو گے تم سے بہت سے لوگوں ( مسلمانوں ) کو نفع پہنچے گا اور بہتوں کو ( غیرمسلموں ) نقصان ہو گا اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت پوری کر دے اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر ( کہ وہ ہجرت کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس آ جائیں ) البتہ سعد بن خولہ نقصان میں پڑ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔اور احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے اس حدیث کو ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اس میں ( اپنی اولاد ذریت کو چھوڑو ، کے بجائے ) تم اپنے وارثوں کو چھوڑو یہ الفاظ مروی ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَآخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ. فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ " فَمَا سُقْتَ فِيهَا ". فَقَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرایا تھا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ان کے اہل و مال میں سے آدھا وہ قبول کر لیں لیکن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے ۔ آپ تو مجھے بازار کا راستہ بتا دیں ۔ چنانچہ انہوں نے تجارت شروع کر دی اور پہلے دن انہیں کچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا ۔ چند دنوں کے بعد انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر ( خوشبو کی ) زردی کا نشان ہے تو آپ نے فرمایا عبدالرحمٰن یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مہر میں تم نے کیا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک گھٹلی برابر سونا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری کاہو ۔
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ، بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ قَالَ " أَخْبَرَنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا ". قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. قَالَ " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ، وَأَمَّا الْوَلَدُ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتِ الْوَلَدَ ". قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلاَمِي، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فِيكُمْ ". قَالُوا خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَأَفْضَلُنَا وَابْنُ أَفْضَلِنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا. وَتَنَقَّصُوهُ. قَالَ هَذَا كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لئے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہو گی ؟ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی ؟ اور کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب ابھی مجھے حضرت جبرائیل نے آ کر بتایا ہے ۔ عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں ۔ آپ نے فرمایا قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی ۔ جس کھانے سے سب سے پہلے اہل جنت کی ضیافت ہو گی وہ مچھلی کی کلیجی کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا ( جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ) اور بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آ جائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آ جائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہودی بڑے بہتان لگانے والے لوگ ہیں ، اس لئے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام کے بارے میں انہیں کچھ معلوم ہو ، ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں ۔ چنانچہ چند یہودی آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تمہاری قوم میں عبداللہ بن سلام کون ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے ہیں ، ہم میں سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں ۔ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسلام لائیں ؟ وہ کہنے لگے اس سے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پناہ میں رکھے ۔ حضور نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اور انہوں نے یہی جواب دیا ۔ اس کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ۔ اب وہ کہنے لگے یہ تو ہم میں سب سے بد تر آدمی ہیں اور سب سے بد تر باپ کے بیٹے ہیں ۔ فوراً ہی برائی شروع کر دی ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ً ! اسی کا مجھے ڈر تھا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ، فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ". وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ.
میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے ، میں نے اس سے کہا سبحان اللہ ! کیا یہ جائز ہے ؟ انہوں نے کہا سبحان اللہ خدا کی قسم کہ میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا ۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو اس طرح خریدوفروخت کیا کرتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدوفروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست ( نقد ) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اورزید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے ۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم ( اس طرح کی ) خریدوفروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لئے یا ( یوں بیان کیا کہ ) حج تک کے لیے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دس یہودی ( احبار وعلماء ) مجھ پر ایمان لے آتے تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ـ أَوْ مُحَمَّدُ ـ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَإِذَا أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ يُعَظِّمُونَ عَاشُورَاءَ وَيَصُومُونَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ ". فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ چنانچہ آپ نے اس دن کے روزے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ". ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعوں پر فتح عنایت فرمائی تھی چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَىْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے ۔ جن امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وحی کے ذریعہ ) کوئی حکم نہیں ہوتا تھا آپ ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے ۔ پھر بعدمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نکالنے لگے تھے ۔
حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً، فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ. {يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى {الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ }
وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ، بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض باتوں کا انکار کیا ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّهُ تَدَاوَلَهُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ رَبٍّ إِلَى رَبٍّ.
ان کو کچھ اوپر دس آدمیوں نے ایک مالک سے ان کو دس سے زائد آدمیوں نے لیا ، ایک مالک نے دوسرے مالک سے خریدا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَنَا مِنْ، رَامَ هُرْمُزَ.
میں رام ہرمز ( فارس میں ایک مقام ہے ) کا رہنے والا ہوں ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ فَتْرَةٌ بَيْنَ عِيسَى وَمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم سِتُّمِائَةِ سَنَةٍ.
عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں فترت کا زمانہ ( یعنی جس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا ) چھ سو برس کا وقفہ گزراہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ، فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ". وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ.
میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے ، میں نے اس سے کہا سبحان اللہ ! کیا یہ جائز ہے ؟ انہوں نے کہا سبحان اللہ خدا کی قسم کہ میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا ۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو اس طرح خریدوفروخت کیا کرتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدوفروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست ( نقد ) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اورزید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے ۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم ( اس طرح کی ) خریدوفروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لئے یا ( یوں بیان کیا کہ ) حج تک کے لیے ۔