حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا. وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ. وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ".
تین حضرات ( علی بن ابی طالب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ، جب انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیاتو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات پھر نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں ۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں ۔ میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لاَ تَعُولُوا}. قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي، الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا، يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فَيُكْمِلُوا الصَّدَاقَ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ.
اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء کے متعلق پوچھا ” اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو ۔ دودو سے ، خواہ تین تین سے ، خواہ چار چار سے ، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکوگے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو ، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم وزیادتی نہ کر سکوگے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھانجے ! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو ۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کر نا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ہا ں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے ، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بِمِنًى فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً. فَخَلَيَا فَقَالَ عُثْمَانُ هَلْ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي أَنْ نُزَوِّجَكَ بِكْرًا، تُذَكِّرُكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى هَذَا أَشَارَ إِلَىَّ فَقَالَ يَا عَلْقَمَةُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهْوَ يَقُولُ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ".
میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، ان سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا اے ابوعبدالرحمن ! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے ۔ چونکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لئے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا علقمہ ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو ! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ".
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ، نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لئے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تِسْعٌ، كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ.
ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں ۔ حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ ابن خیاط نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً.
تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شادی کر لو کیونکہ اس امت کے بہترین شخص جو تھے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی بہت سی بیویاں تھیں ۔ بعضوں نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اس امت میں اچھے وہی لوگ ہیں جن کی بہت عورتیں ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْعَمَلُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے اس لئے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو ، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے اردہ سے ہو ، اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ.
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے اور ہمار ے ساتھ بیویاں نہیں تھیں ۔ اس لئے ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں ؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ وَعِنْدَ الأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَأَتَى السُّوقَ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ". فَقَالَ تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً. قَالَ " فَمَا سُقْتَ ". قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہجرت کر کے مدینہ ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیو یاں تھیں ۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل ( بیوی ) اور مال میں سے آدھے لیں ۔ اس پر عبد الر حمن نے کہا کہ اللہ تعا لیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے ، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو ۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا ۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصار ی خاتون سے شادی کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےعثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح تبتل یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ لَقَدْ رَدَّ ذَلِكَ ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ التَّبَتُّلَ لاَخْتَصَيْنَا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے کو خصی بنا لیتے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا شَىْءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}.
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس روپیہ نہ تھا ( کہ ہم شادی کر لیتے ) اس لئے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرالیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر ( ایک مدت تک کے لئے ) نکاح کر لیں ۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنا ئی کہ ” ایمان لانے والو ! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو ، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ ۔
وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ وَأَنَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلاَ أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَاءَ، فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ، فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ ذَرْ ".
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے ۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں ۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے ۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مر تبہ بھی خاموش رہے ۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے ۔ میں نے چو تھی مرتبہ عرض کیا آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! جو کچھ تم کرو گے اسے ( لوح محفوظ میں ) لکھ کر قلم خشک ہوچکاہے ۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو ۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ قَالَ " فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا ". تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا.
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوںمیں سے کس درخت میں چرائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرا یا نہیں گیا ہو ۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَكْشِفُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! مجھے خواب میں دو مرتبہ تم دکھائی گئیں ۔ ایک شخص ( جبرائیل ) تمہاری صورت حریر کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے میں نے جو اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تم تھیں ۔ میں نے خیا ل کیا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کر کے رہے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَةٍ فَتَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الإِبِلِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا يُعْجِلُكَ ". قُلْتُ كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرُسٍ. قَالَ " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبٌ. قَالَ " فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ". قَالَ فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ " أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً ـ أَىْ عِشَاءً ـ لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ".
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے ۔ میں اپنے اونٹ کو ، جو سست تھا تیز چلانے کی کو شش کر رہا تھا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آکرملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا ۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہو گی ۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایاکنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی ۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لیوے اورجن کے شوہرموجود نہیں تھے وہ اپنے بال صاف کر لیں ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبٌ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما يَقُولُ تَزَوَّجْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَزَوَّجْتَ ". فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا. فَقَالَ " مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ". فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَقَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ".
میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کو د کرتے ۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینا ر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سناہے ۔ مجھ سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ، فَقَالَ " أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ اللَّهِ وَكِتَابِهِ وَهْىَ لِي حَلاَلٌ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے شادی کے لئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں ۔ ( تو عائشہ کیسے نکاح کریں گے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لئے حلال ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ صَالِحُو نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سوار ہونے والی ( عرب ) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیا دہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ مَوَالِيهِ وَحَقَّ رَبِّهِ فَلَهُ أَجْرَانِ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ خُذْهَا بِغَيْرِ شَىْءٍ قَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے ، اسے ادب سکھا ئے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہر اثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایما ن لائے تو اسے دوہر ا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے عامر شعبی نے ( اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنا نے کے بعد) کہا کہ بغیر کسی مشقت اورمحنت کے اسے سیکھ لو ۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لئے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا ۔ اور ابوبکرنے بیان کیا ابو حصین سے ، اس نے ابوبردہ سے ، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ” اس شخص نے باندی کو ( نکاح کرنے کے لئے ) آزادکر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی ۔ “
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ {قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم} " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ بَيْنَمَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّ بِجَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ ـ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ـ فَأَعْطَاهَا هَاجَرَ قَالَتْ كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَنِي آجَرَ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی ۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزر ے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں ۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا ( کہ باد شاہ کے سامنے ) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن ( یعنی دینی بہن ) کہا ۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہ السلام کو ہاجرہ ( ہاجرہ ) کو دے دیا ۔ ( بی بی سارہ علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے ) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر ( ہاجرہ ) کو میری خدمت کے لئے دلوا دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو ! یعنی اے عرب والو ! یہی ہاجرہ علیہ السلام تمہاری ماں ہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، أُمِرَ بِالأَنْطَاعِ فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی ۔ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی ۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا ۔ دسترخوان بچھا نے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا ۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ حضرت صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے ) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے ؟ اس پرکچھ لوگو ں نے کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لئے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں ۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لئے جگہ بنا ئی اور ان کے لئے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا. فَقَالَ " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لئے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا ۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے ۔ آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لئے ) کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جا اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا اللہ کی قسم میں نے کچھ نہیں پایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا ۔ اللہ کی قسم ، یا رسول اللہ ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہمد ہے ۔ انہیں ( خاتون کو ) اس میں سے آدھا دے دیجئیے ۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ا ن کے پاس چادر بھی نہیں تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی ۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لئے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لئے کچھ نہیں رہے گا ۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے ۔ کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ۔ انہوں نے گن کر بتا ئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جاؤ ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا ۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ،، وَكَانَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهْوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ {ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ {وَمَوَالِيكُمْ} فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ ـ وَهْىَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ ـ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ( مہشم ) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا ، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا ۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون ( شبیعہ بنت یعار ) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو ( جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے ) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری کہ ” انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وموالیکم “ تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے ” مولی “ اور دینی بھائی کہا جاتا ۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا " لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ". قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَجِدُنِي إِلاَّ وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا " حُجِّي وَاشْتَرِطِي، قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ". وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ( یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھربھی حج کا احرام باندھ لے ۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا ۔ اور ( ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر ، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کومٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ". قَالُوا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ. قَالَ ثُمَّ سَكَتَ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ". قَالُوا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْتَمَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا ".
ایک صاحب ( جو مالدار تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے ، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے ۔ سہل نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چپ ہو رہے ۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے ، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے ، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ، یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا، وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ، قَالَتْ وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ} إِلَى {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ.
انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت ” اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے ۔ “ ( سورۃ نساء ) کے متعلق سوال کیا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو ۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت ویستفتونک فی النساء سے وتر غبون ان تنکحوھن تک نازل کی ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیا ں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں ، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں ۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نحوست عورت میں ، گھر میں اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ۔ ( نحوست بے برکتی اگر ہو تو ان میں ہو سکتی ہے ۔ )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَىْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ ".
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر ، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ( نحوست ) کسی چیز میں ہو تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہو سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ".
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بعد مردوں کے لئے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑاہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ " لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ ". فَقِيلَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں ، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں ) اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ) فرمایا کہ ” ولاء “ آزادکرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی ( گوشت کی ) چولہے پر تھی ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( چولہے پر ) ہانڈی ( گوشت کی ) بھی تو میں نے دیکھی تھی ۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملاتھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور اب ہمارے لئے ان کی طرف سے تحفہ ہے ۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ، تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى}. قَالَتِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَهْوَ وَلِيُّهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا، وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، وَلاَ يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ.
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکوگے ۔ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو ۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں ۔ دو دو ، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُرَاهُ فُلاَنًا ". لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ. قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا، لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَىَّ فَقَالَ " نَعَمِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَةُ ".
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میرا خیا ل ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ، آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک دودھ کے چچا کانام لیا ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا ، کیا فلاں ، جو ان کے دودھ کے چچا تھے ، اگر زند ہ ہوتے تومیر ے یہاں آ جا سکتے تھے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ، ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ قَالَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ". وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ مِثْلَهُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے ۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا ۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ " أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ". قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ". قُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ". قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ مَوْلاَةٌ لأَبِي لَهَبٍ كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.
انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری بہن ( ابوسفیان کی لڑکی ) سے نکاح کر لیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے پسند کروگی ( کہ تمہاری سوکن بہن بنے ؟ ) میں نے عرض کیا ہاں میں توپسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی ۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوںگی ( غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے ) آپ نے فرمایا وہ میرے لئے حلال نہیں ہے ۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے ، نکاح کرنے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی ( یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی ) جب بھی میرے لئے حلال نہ ہوتی ، وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے ، مجھ کواور ابوسلمہ کے باپ کو دونوںکو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے ۔ دیکھو ، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لئے نہ کہو ۔ حضرت عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی ۔ ابولہب نے اس کوآزاد کر دیا تھا ۔ ( جب اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی ) پھر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری ؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذراسا پانی ( پیر کے دن مل جاتا ہے ) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي. فَقَالَ " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہا ں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہر ے کا رنگ بدل گیا گویاکہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ نے فرمایا دیکھوسوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے ۔کیونکہ رضاعی کا رشتہ اسی وقت قائم ہوتا ہے جب بچے کی خوراک صرف دودھ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَفْلَحَ، أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ـ وَهْوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ـ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ.
ابو قعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے ( یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا. وَهْىَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، قُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ. قَالَ " كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ " وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ.
میں نے ایک عورت ( ام یحییٰ بن ابی اہاب ) سے نکاح کیا ۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں ( میاں بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاںسے نکاح کیا ہے ۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ، حالانکہ وہ جھوٹی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا ) آپ نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا ۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوںکو دودھ پلایاہے ، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو ۔ “ ( حدیث کے راوی ) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کرکےبتایا.
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ. ثُمَّ قَرَأَ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} الآيَةَ. وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ. وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بِهِ. وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ. وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَىْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ. وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَأَبِي جَعْفَرٍ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ، فَلاَ يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ، وَيَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ. وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ. وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ. وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ وَالزُّهْرِيُّ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عَلِيٌّ لاَ تَحْرُمُ. وَهَذَا مُرْسَلٌ.
خون کی روسے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے ( یعنی سسرال کی طرف سے ) سات رشتے بھی ۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی ۔ حرمت علیکم امہاتکم آخر تک اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی ( لیلٰی بنت مسعود ) دونوں سے نکاح کیا ، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں ( یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی ) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا ، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلا پانہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کیا اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی ( سالی کی بہن ) اس پر حرام نہ ہو گی اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے ، انہوں نے شعبی اور جعفر سے ، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی اور ابو نصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابو نصر کا حال معلوم نہیں ۔ اس نے ابن عباس سے سنا ہے یا نہیں ( لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے ) اور عمر ان بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں ( امام ثوری اوراما م ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں ( اپنی خوشدامن ) کو زمین سے نہ لگا دے ( یعنی اس سے جماع نہ کرے ) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنیوالے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی ( اس کو رکھ سکتا ہے اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ " فَأَفْعَلُ مَاذَا ". قُلْتُ تَنْكِحُ. قَالَ " أَتُحِبِّينَ ". قُلْتُ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِيكَ أُخْتِي. قَالَ " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي ". قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ. قَالَ " ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ". وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ.
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کی صاحبزادی ( غرہ یادرہ یاحمنہ ) کو چاہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں ۔ فرمایا کیا تم اسے پسند کروگی ؟ میں نے عرض کیا میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں اور میں اپنی بہن کے لئے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے ۔ اس پر آنحضرت نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ( زینب سے ) نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلمہ کی لڑکی کے پاس ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لئے حلال نہ ہوتی ۔ مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ۔ دیکھو تم آئندہ میرے نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو اور لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے اس میں ابوسلمہ کی بیٹی کا نام درہ مذکور ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ " وَتُحِبِّينَ ". قُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ".
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بہن ( غرہ ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تمہیں بھی پسند ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میرے لئے حلال نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ، اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لڑکی سے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا اللہ کی قسم اگو وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لئے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے ۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ۔ ( اس لئے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی ) تم لوگ میرے نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعَ جَابِرًا، رضى الله عنه قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا. وَقَالَ دَاوُدُ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو ۔ اور داؤ د بن عون نے شعبی سے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کسی عورت کواس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا. فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.لأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ( زہری نے کہا کہ ) ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کے باپ کی خالہ بھی ( حرام ہونے میں ) اسی درجہ میں ہے کیونکہ کیونکہ عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو چیز خونی رشتوں کی وجہ سے حرام ہے وہی رضاعی دودھ پلانے کی وجہ سے بھی حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” شغار “ سے منع فرمایا ہے ۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللاَّئِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ فَلَمَّا نَزَلَتْ {تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ} قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ. رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَعَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کیا تھا ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک عورت اپنے آپ کو کسی مرد کے لئے ہبہ کرتے شرماتی نہیں ۔ پھر جب آیت ترجی من تشاء منھن ( اے پیغمبر ! تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے ) نازل ہوئی تو میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! اب میں سمجھی اللہ تعالیٰ جلد جلدآپ کی خوشی کو پورا کرتا ہے ۔ اس حدیث کو ابوسعید ( محمد بن مسلم ) ، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے ) نکاح کیا اور اس وقت آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اورگدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرمایا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَخَّصَ فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ.
ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی ، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ".
ہم ایک لشکر میں تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لئے تم نکاح کر سکتے ہو ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلاَثُ لَيَالٍ فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ". فَمَا أَدْرِي أَشَىْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَنْسُوخٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد اور عورت متعہ کر لیں اور کوئی مدت متعین نہ کریں تو ( کم سے کم ) تین دن تین رات مل کر رہیں ، پھر اگر وہ تین دن سے زیادہ اس متعہ کو رکھنا چاہیں یا ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے ( سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ) مجھے معلوم نہیں یہ حکم صرف ہمارے ( صحابہ ) ہی کے لئے تھا یا تمام لوگوں کے لئے ہے ابوعبداللہ ( امام بخاری ) کہتے ہیں کہ خود علی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی حلت منسوخ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ بِي حَاجَةٌ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَاسَوْأَتَاهْ وَاسَوْأَتَاهْ. قَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا.
میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ وہ کیسی بےحیاء عورت تھی ۔ ہائے بے شرمی ! ہائے بے شرمی ! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں ، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی ، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " مَا عِنْدَكَ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ـ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَاءٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلَسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ أَوْ دُعِي لَهُ فَقَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". فَقَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لئے پیش کیا ۔ پھر ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرادیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لئے ) کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم ، میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی ۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی ، اگریہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لئے کچھ نہیں رہے گا ۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے ، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ( اور جانے لگے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا ، یا انہیں بلایا گیا ( راوی کو ان الفاظ میں شک تھا ) پھر آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا. قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا.
جب ( ان کی صاحبزادی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ( اپنے شوہر ) خنیس بن حذافہ سہمی کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں اور خنیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی للہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے لئے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا ۔ میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا ۔ پھر مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی اور میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ رضی اللہ عنہا سے کر دوں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا ۔ ان کی اس بیرخی سے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ سے بھی زیادہ رنج ہوا ۔ کچھ دنوں تک میں خاموش رہا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شادی کر دی ۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میرے سامنے پیش کیا تھا تو میں اس پر میرے خاموش رہنے سے تمہیں تکلیف ہوئی ہو گی کہ میں نے تمہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ واقعی ہوئی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے جو کچھ میرے سامنے رکھا تھا ، اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ میرے علم میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے اور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نکاح میں لے آتا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَوْ لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ".
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں معلوم ہو اہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس سے اس کے باوجود نکاح کرسکتاہوںکہ ( ان کی ماں ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں پہلے ہی سے موجود ہیں اور اگر میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح نہ کئے ہوتا جب بھی وہ درہ میرے لئے حلال نہیں تھی ۔ کیونکہ اس کے والد ( ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ) میرے رضاعی بھائی تھے ۔
وَقَالَ لِي طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {فِيمَا عَرَّضْتُمْ} يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ. وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ عَلَىَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا. أَوْ نَحْوَ هَذَا. وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلاَ يَبُوحُ يَقُولُ إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي، وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ. وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ. وَلاَ تَعِدُ شَيْئًا وَلاَ يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا. وَقَالَ الْحَسَنُ {لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} الزِّنَا. وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {الْكِتَابُ أَجَلَهُ} تَنْقَضِي الْعِدَّةُ.
آیت ” فیما عرضتم “ کی تفسیر میں کہا کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو کہے کہ میرا ارادہ نکاح کاہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک بخت عورت میسر آ جائے اور اس نکاح میں قاسم بن محمد نے کہا کہ ( تعریض یہ ہے کہ عدت میں عورت سے کہے کہ تم میری نظر میں بہت اچھی ہو اور میرا خیال نکاح کرنے کاہے اور اللہ تمہیں بھلائی پہنچائے گا یا اسی طرح کے جملے کہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ تعریض وکنایہ سے کہے ۔ صاف صاف نہ کہے ( مثلاً ) کہے کہ مجھے نکاح کی ضرورت ہے اور تمہیں بشارت ہو اور اللہ کے فضل سے اچھی ہو اور عورت اس کے جواب میں کہے کہ تمہاری بات میں نے سن لی ہے ( بصراحت ) کوئی وعدہ نہ کرے ایسی عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی ۔ حسن نے کہا کہ لاتواعدوھن سرا سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ” الکتاب اجلہ “ سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَقُلْتُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نکاح سے پہلے ) میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ( جبرائیل علیہ السلام ) ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے ۔ میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں ۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے خود ہی پورا کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي. فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا. قَالَ " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ ـ فَلَهَا نِصْفُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلَسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ مَعِي سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا. عَدَّدَهَا. قَالَ " أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور نظر اٹھا کر دیکھا ، پھر نظر نیچی کر لی اور سر کو جھکا لیا ۔ جب خاتون نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو بیٹھ گئیں ۔ اس کے بعد آپ کے صحابہ میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دیکھ لو ، اگر ایک لوہے کی انگو ٹھی بھی مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ، البتہ یہ میرا تہمد ہے ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی ( ان صحابی نے کہا کہ ) ان خاتون کو اس تہمد میں سے آدھا عنایت فرما دیجئیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے تہمد کا کیا کرے گی اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے لئے اس میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا ۔ اس کے بعد وہ صاحب بیٹھ گئے اور دیر تک بیٹھے رہے پھر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلانے کے لئے فرمایا ، انہیں بلایا گیا ۔ جب وہ آئے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا تمہارے پاس قرآن مجید کتنا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں سورتیں ۔ انہوں نے ان سورتوں کو گنا یا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھ لیتے ہو ۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا جاؤ میں نے اس خاتون کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کی وجہ سے دیا جو تمہارے پاس ہے ۔
قَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ، يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ، فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ. وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا، حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا. فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ، وَمَرَّ عَلَيْهَا لَيَالِيَ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ. تُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ بِهِ الرَّجُلُ. وَنِكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَ بِهِ، وَدُعِيَ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلاَّ نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ.
اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے ۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں ، ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا ۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرا لے اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے چھوتا بھی نہیں ۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی ، تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا ۔ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو ۔ یہ نکاح ” استبضاع “ کہلاتا تھا ۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے ۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان تمام مردوں کو بلاتی ۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکا ر نہیں کر سکتا تھا ۔ چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے اور وہ ان سے کہتی کہ جو تمہارا معاملہ تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور اب میں نے یہ بچہ جنا ہے ۔ پھر وہ کہتی کہ اے فلاں ! یہ بچہ تمہارا ہے ۔ وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا ، وہ شخص اس سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا ۔ چوتھا نکاح اس طور پر تھا کہ بہت سے لوگ کسی عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے ۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو روکتی نہیں تھی ۔ یہ کسبیاں ہوتی تھیں ۔ اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے ۔ جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا ۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جا تا ، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا ۔ پھر جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ رسول ہو کر تشریف لائے آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، {وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ}. قَالَتْ هَذَا فِي الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ، وَهْوَ أَوْلَى بِهَا، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، فَيَعْضُلَهَا لِمَالِهَا، وَلاَ يُنْكِحَهَا غَيْرَهُ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهَا.
آیت وما یتلیٰ علیکم فی الکتاب الخ یعنی وہ ( آیات بھی ) جو تمہیں کتاب کے اندر ان یتیم لڑکوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جنہیں تم وہ نہیں دیتے ہو جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے اور اس سے بیزار ہو کہ ان کا کسی سے نکاح کرو ۔ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کسی شخص کی پر ورش میں ہو ۔ ممکن ہے کہ اس کے مال و جائیداد میں بھی شریک ہو ، وہی لڑکی کا زیادہ حقدار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کر نا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میں حصہ دار بنے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنِ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ. فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ.
جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں ۔ ابن حذافہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملااور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کروں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکا ح نہ کروں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لاَ وَاللَّهِ لاَ تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنَّ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} فَقُلْتُ الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ.
آیت ” فلا تعضلوھن “ کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا ۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص ( ابو البداح ) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا ( اپنی بہن ) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کاپیغام لے کر آئے ہو ۔ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا ۔ وہ شخص ابو البداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ” تم عورتوں کو مت روکو “ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب میں کر دوں گا ۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فِي قَوْلِهِ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ، قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ، قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ.
آیت یستفتونک فی النساء الایۃ اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی ، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو ۔ وہ مرد اس کے مال کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " أَعِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ مَا عِنْدِي مِنْ شَىْءٍ. قَالَ " وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". قَالَ وَلاَ خَاتَمًا مِنَ حَدِيدٍ وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، وَآخُذُ النِّصْفَ. قَالَ " لاَ، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر نیچی او پر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ۔ آنحضور صلی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے ۔ البتہ میں اپنی یہ چادرپھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهْىَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو اس وقت ان کی عمر نو برس کی تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں ۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. قَالَ هِشَامٌ وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی ۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي. فَقَامَتْ طَوِيلاً فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا، إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ. قَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا ". قَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي. فَقَالَ " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا ". فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا. فَقَالَ " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدِ ". فَلَمْ يَجِدْ. فَقَالَ " أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا. فَقَالَ " زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں ۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی ۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دوگے تو تمہارے پاس پہننے کے لئے تہمد بھی نہیں رہے گا ۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو ۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو ، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ! اسے وہ بھی نہیں ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فلاں فلاں سورتیں ہیں ، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ " أَنْ تَسْكُتَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجاز ت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے ۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی صور ت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے ۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي. قَالَ " رِضَاهَا صَمْتُهَا ".
انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کنواری لڑکی ( کہتے ہوئے ) شرماتی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضامندی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهْىَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهُ.
ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا تھا ، وہ ثیبہ تھیں ، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا ، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَجُلاً يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ. نَحْوَهُ.
خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا تھا ۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَ لَهَا يَا أُمَّتَاهْ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} إِلَى {مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا، وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ. إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ} إِلَى {وَتَرْغَبُونَ} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ، رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ـ قَالَتْ ـ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا، إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ.
انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین ! اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف کرسکوگے تو اسے ” ماملکت ایمانکم “ تک کہ اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے ! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم یبان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں ( اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو انہیں ان کے سوادوسری عورتوںسے نکاح کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت ” اور آپ سے عورتوںکے بارے میں پوچھتے ہیں ، سے “ وترغبون تک نازل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مند ی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر دیتے ہیں ( یہ کیا بات ) ان کو چاہئے کہ جیسے مال و دولت اور حسن وجمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدا ر اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کر لیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَ " مَا لِي الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا. قَالَ " مَا عِنْدَكَ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ " فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لئے پیش کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو کچھ دو خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی ۔ انہوں نے کہا کہ حضور ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا ۔ اس قرآن کے بدلے جو تم کو یاد ہے ۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلاَ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاو پر بھاو لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی ( دینی ) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے د ے تو جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا ".وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ( اور لوگوں کے رازوں کی ) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ ( لوگوں کی نجی گفتگووں کو ) کان لگا کر سنو ، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو ، اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑدے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ قَالَ عُمَرُ لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلاَّ أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا. تَابَعَهُ يُونُسُ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعدحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے ۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یو نس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے ر وایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرً".
دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے ، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا ، نہایت فصیح و بلیغ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے ۔(مثال کے طور پر، کچھ لوگ کچھ کرنے سے انکار کرتے ہیں اور پھر ایک اچھا فصیح مقرر ان سے مخاطب ہوتا ہے اور پھر وہ اس کی تقریر کے بعد وہی کام کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، قَالَ قَالَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ. جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَىَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ " دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میر ے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو ۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں ۔ اتنے میں ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا ، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں ۔ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو ۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ. وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے کے مہر پر ) نکاح کیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونا دے کر نکاح کیا ہے اور قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے ۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةَ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْنِيهَا. قَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ لاَ. قَالَ " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ فَطَلَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ. فَقَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا ہے حضور جو چاہیں کریں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا ، حضور جو چاہیں کریں ۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ ۔ وہ گئے اور تلاش کیا ، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا ، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ " تَزَوَّجْ وَلَوْ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا نکاح کر ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی پر ہی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَقُّ مَا أَوْفَيْتُمْ مِنَ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام شرطوں میں وہ شرطیں سب سے زیادہ پوری کی جانے کے لائق ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔ یعنی نکاح کی شرطیں ضرور پوری کرنی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ـ هُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ـ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنی کسی ( سوکن ) بہن کی طلاق کی شرط اس لئے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ " كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا ". قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اسے مہر کتنا دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَخَرَجَ ـ كَمَا يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ ـ فَأَتَى حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُو وَيَدْعُونَ {لَهُ} ثُمَّ انْصَرَفَ فَرَأَى رَجُلَيْنِ فَرَجَعَ لاَ أَدْرِي آخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِخُرُوجِهِمَا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوںکے لئے کھانے کا انتظام کیا ۔ ( کھانے سے فراغت کے بعد ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا ۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے ۔ آپ نے ان کے لئے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لئے دعا کی ۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا ( کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ) اس لئے آپ پھر تشریف لے گئے ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ " مَا هَذَا ". قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ ( ام رومان بنت عامر ) میرے پاس آئیں اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں ۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں ۔ انہوں نے ( مجھ کو اور میری ماں کو ) یوں دعادی بارک وبارک اللہ اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لاَ يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهْوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمْ يَبْنِ بِهَا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی ( حضرت یوشع علیہ السلام یا حضرت داؤد ) علیہ السلام نے غزوہ کیا اور ( غزوہ سے پہلے ) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَائِشَةَ وَهْىَ ابْنَةُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهْىَ ابْنَةُ تِسْعٍ وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( راستہ میں ) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی ۔ میں نے مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا ۔ آپ نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا ۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ( کہا کہ ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے ( کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں ۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لئے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں ۔ جب سفر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا ۔
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی ۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اورتنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا ۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے ۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلِ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ. قَالَ " إِنَّهَا سَتَكُونُ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( جب انہوں نے شادی کی ) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی ۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ ".
وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! تمہارے پاس لہو ( دف بجانے والا ) نہیں تھا ، انصار کو دف پسند ہے ۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي. فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي " ضَعْهَا ". ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ " ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ ". قَالَ فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُ لَهُمُ " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ ". قَالَ حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا، فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ، وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ الْحُجُرَاتِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا. فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهْوَ يَقُولُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ}. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے ، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے ۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکا ح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے ۔ میں نے کہا مناسب ہے ۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا ، میں لے کر آپ کے پاس چلا ، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا ۔ لوٹ کر جو آ یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونو ں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لئے بلانا شروع کیا ۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے ۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہا ں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے ۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں ۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے ۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میری اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا ۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے ۔ ” مسلمانو ! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرومگر جب کھانے کے لئے تم کو اند ر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جا ؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو ۔ باتوں میں لگ کر وہا ں بیٹھے نہ رہا کرو ، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی ، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا ۔ “ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے ۔ کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ. فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلاَّ جَعَلَ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ.
انہوں نے ( اپنی بہن ) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ ًلے لیا تھا ، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لئے بھیجا ۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لئے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی ۔ پھر جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا ۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی ۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے ، واللہ ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآ ں یہ کہ مسلمانوں کے لئے برکت اور بھلائی ہوئی
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ، أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لئے جب آئے تو یہ دعا پڑھے بسم اللہ اللھم جنبنی الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو ( اولاد ) ہمیں تو عطا کرے ۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَىْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَشَيْتُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ.
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی ۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں ۔ چنانچہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا ۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا ۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے ، آپ ان کے دولہا بنے تھے ۔ پھر آپ نے لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا ۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے ۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ( کھا نے کے بعدبھی ) دیر تک وہیں بیٹھے ( باتیں کرتے رہے ) آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے ۔ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا ۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں ۔ اس لئے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا ۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ " كَمْ أَصْدَقْتَهَا ". قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. وَعَنْ حُمَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَىَّ. قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ. فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا ۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورمہاجرین صحابہ ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دوبیویوں میں سے ایک کو آپ کے لئے چھوڑ دوں گا ۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا ۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى شَىْءٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ أَوْلَمَ بِشَاةٍ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا ، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیااور ان کا ولیمہ ملیدہ (مکھن، پنیر اور کھجور سے بنی ہوئی میٹھی ڈش)سے کیا ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ بَنَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالاً إِلَى الطَّعَامِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بن جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھا نے کے لئے بلایا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ.
انس رضی اللہ عنہ کے سامنے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جیسا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لئے ولیمہ کرتے نہیں دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ ایک بکری سے کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد ( تقریباً پونے دوسیر ) جو سے کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے ۔ معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ کاقبول کرنا ضروری ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فُكُّوا الْعَانِيَ، وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیدی کو چھڑاؤ ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو اور بیمارکی عیادت کرو ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ. تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کا موں کا حکم دیا اور سات کامو ں سے منع فرمایا ۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمارکی عیادت ، جنازہ کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کے جواب دینے ( یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے ، کہنا ) قسم کو پورا کرنے ، مظلوم کی مدد کرنے ، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کاحکم دیا تھا اور ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے ، چاندی کے برتن استعمال کرنے ، ریشمی گدے ، قسیہ ( ریشمی کپڑا ) استبرق ( موٹے ریشم کا کپڑا ) اور دیباج ( ایک ریشمی کپڑا ) کے استعمال سے منع فرمایا تھا ۔ ابو عوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ افشاء السلام میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهْىَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.
حضرت ابوا سید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی ، ان کی دلہن ام اسیدسلامہ بنت وہب ضروری جو کام کا ج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا ؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں ( صبح کو ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی پلایا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم.
ولیمہ کا وہ کھا نا بدترین کھا نا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَىَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے بکری کے کھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا اور اگر مجھے وہ کھر بھی ہدیہ میں دیئے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا ". قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَهْوَ صَائِمٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ولیمہ کی جب تمہیں دعوت دی جائے تو قبول کرو ۔ بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگر روزے سے ہوتے جب بھی ولیمہ کی دعوت یا کسی دوسری دعوت میں شرکت کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَبْصَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءً وَصِبْيَانًا مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ مُمْتَنًّا فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے مارے جلدی سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا یا اللہ ! ( تو گواہ رہ ) تم لوگ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذِهِ النِّمْرِقَةِ ". قَالَتْ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ". وَقَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ ".
انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ لئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرتی ہوں ، میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا یہاں کیسے آیا ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے ( بنانے والوں کو ) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویر سازی کی ہے اسے زندہ بھی کرو ؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ان میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں آتے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ، فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلاَّ امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ، بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذَلِكَ.
جب حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی ، اس موقعہ پر کھانا ان کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور انہوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا ۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( تحفہ کے طور پر ) پینے کے لئے پیش کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهْىَ الْعَرُوسُ، فَقَالَتْ أَوْ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
حضرت ابواسید ساعدی نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ اس دن ان کی بیوی ہی سب کی خدمت کر رہی تھیں ، حالانکہ وہ دلہن تھیں بیوی نے کہا یا سہل نے ( راوی کو شک تھا ) کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا تیار کیا تھا ؟ میں نے آپ کے لئے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت سے کھجور کا شربت تیار کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت مثل پسلی کے ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دوگے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہو گے تو اس کی ٹیڑھ کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ ". وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں ۔ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے ۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دوگے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائےگی اس لئے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَّقِي الْكَلاَمَ وَالاِنْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَيْبَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا شَىْءٌ فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بے تکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بے اعتدالی ہو جائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بے تکلفی کرنے لگے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهْوَ مَسْئُولٌ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهْوَ مَسْئُولٌ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهْىَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے ( اس کی رعیت کے بارے میں ) سوال ہو گا ۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا ۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا. قَالَتِ الأُولَى زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ، غَثٌّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ، لاَ سَهْلٍ فَيُرْتَقَى، وَلاَ سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ. قَالَتِ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ. قَالَتِ الثَّالِثَةُ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ. قَالَتِ الرَّابِعَةُ زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ، لاَ حَرٌّ، وَلاَ قُرٌّ، وَلاَ مَخَافَةَ، وَلاَ سَآمَةَ. قَالَتِ الْخَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ. قَالَتِ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلاَ يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، قَالَتِ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلاًّ لَكِ. قَالَتِ الثَّامِنَةُ زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ. قَالَتِ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ، طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ. قَالَتِ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ، مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ، وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ. قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَىَّ، وَمَلأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَىَّ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَىَّ نَفْسِي، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجِعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا، وَطَوْعُ أُمِّهَا، وَمِلْءُ كِسَائِهَا، وَغَيْظُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلاَ تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلاَ تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلاً سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَىَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا وَقَالَ كُلِي أُمَّ زَرْعٍ، وَمِيرِي أَهْلَكِ. قَالَتْ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَىْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ وَلاَ تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعْضُهُمْ فَأَتَقَمَّحُ. بِالْمِيمِ، وَهَذَا أَصَحُّ.
انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں ۔ چنانچہ پہلی عورت ( نام نامعلوم ) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جوپہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لئے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے ۔ دوسری عورت ( عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی ) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں ( اس میں اتنے عیب ہیں ) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں ۔ تیسری عورت ( حیی بنت کعب یمانی ) کہنے لگی ، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ ( لمبا تڑنگا ) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں ۔ چوتھی عورت ( مہدوبنت ابی ہرومہ ) کہنے لگی کہ میراخاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے ۔ پانچوں عورت ( کبشہ نامی ) کہنے لگی کہ میر ا خاوند ایساہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتاہے تو شیر ( بہادر ) کی طرح ہے ۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں ( کہ وہ کہاں گئی ؟ ) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لئے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے ۔ چھٹی عورت ( ہند نامی ) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑکر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے ۔ ساتویں عورت ( حیی بنت علقمہ ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے ۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے ۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں ( کم بخت سے بات کروں تو ) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے ۔ آٹھویں عورت ( یاسر بنت اوس ) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے ۔ نویں عورت ( نام نامعلوم ) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے ، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں ۔ ( غریبوں کو خوب کھلاتا ہے ) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لئے بیٹھتے ہیں ( یعنی پنچائت گھر ) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے ۔ دسویں عورت ( کبشہ بنت رافع ) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے ، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں ۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آوازسنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا گیارھویں عورت ( ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ ) کہنے لگی میرا خاوند ابو زرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں ۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی ۔ ابو زرعہ نے مجھ کو گھوڑوں ، اونٹوں ، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا ۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا ۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں ( میری ساس ) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھراہوا ، اس کا گھر بہت ہی کشادہ ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت ( نازک بدن دبلا پتلا ) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھردے ۔ ابو زرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری ، اپنی ماں کی پیاری ( تابع فرمان اطاعت گزار ) کپڑا بھرپور پہننے والی ( موٹی تازی ) سوکن کی جلن ابو زرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی ( گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے ) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے ۔ ( صبح ہی صبح ) ابو زرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ( مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں ) ابو زرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا ۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار ، عمدہ نیزہ باز ہے ، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑ ا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع ! خوب کھا پی ، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لئے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابو زرعہ نے جوتجھ کو دیا تھا ، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے ۔پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی ام زر کے لیے تھے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سعید بن سلمہ نے ہشام سے جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے: ''وَلاَ تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِیشًا'' امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ''فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ'' اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَنْظُرُ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ.
کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے جسم مبارک سے ) میرے لئے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی ۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی ۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} قَالَ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ. ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْىِ أَوْ غَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الأَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي قَالَتْ وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ. فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ وَقُلْتُ لَهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ. ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَىْ حَفْصَةُ أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ. فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ، أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فَتَهْلِكِي لاَ تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ تُرَاجِعِيهِ فِي شَىْءٍ، وَلاَ تَهْجُرِيهِ، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ، وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ يُرِيدُ عَائِشَةَ ـ قَالَ عُمَرُ وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا وَقَالَ أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. قُلْتُ مَا هُوَ، أَجَاءَ غَسَّانُ قَالَ لاَ بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ. فَقُلْتُ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ، فَجَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلاَةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَشْرُبَةً لَهُ، فَاعْتَزَلَ فِيهَا، وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكِ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لاَ أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ. فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لِغُلاَمٍ لَهُ أَسْوَدَ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ. فَدَخَلَ الْغُلاَمُ فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ. فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلاَمِ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ. فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ. فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْغُلاَمَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ. فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىَّ فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ. فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا ـ قَالَ ـ إِذَا الْغُلاَمُ يَدْعُونِي فَقَالَ قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ. فَرَفَعَ إِلَىَّ بَصَرَهُ فَقَالَ " لاَ ". فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا لاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تَبَسُّمَةً أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلاَثَةٍ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسًا وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ، وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لاَ يَعْبُدُونَ اللَّهَ. فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مُتَّكِئًا. فَقَالَ " أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي. فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ قَالَ " مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا ". مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا. فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ". فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً. قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّخَيُّرِ فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَاخْتَرْتُهُ، ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ.
بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی ۔ ” ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما “ الخ ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کی اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا ۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر ( قضائے حاجت کے لئے ) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا ۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا ۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ” ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما “ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس ! تم پر حیرت ہے ۔ وہ عائشہ اور حفصہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنے شروع کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے ۔ ہم نے ( عوالی سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا ، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا ( اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا ) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے ۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف آئے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے ، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے ، خدا کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں ۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی ۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور ( مدینہ کے لئے ) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا اے حفصہ ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی ( ایسا ہو جاتا ہے ) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی ۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی ۔ خبردار ! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو ۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو ۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے ، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا ۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لئے فوجی تیاریاں کر رہا ہے ۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے ۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں ۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا ۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی ، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی ۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے ( اور مدینہ کے لئے روانہ ہو گیا ) میں نے فجر کی نماز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ( نماز کے بعد ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی ۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی ۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو ۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا ۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں ۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا ۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے ۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا ۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا ۔ جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے ۔ میں نے آنحضرت کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر کے لئے اندر آنے کی اجازت لے لو ۔ غلام اندر گیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے ۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے ۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لئے اجازت لے لو ۔ اس غلام نے واپس آ کر پھرکہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ لیکن میرا غم مجھ پرغالب آیا اور میں نے پھرآ کر غلام سے کہا کہ عمرکے لئے اجازت طلب کرو ۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کوپکار ا اور کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے ۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے ۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا ۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے ۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی ۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں ۔ میں ( خوشی کی وجہ سے ) کہہ اٹھا ۔ اللہ اکبر ۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لئے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے ۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرادیئے ۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے ، دھوکا میں مت رہنا ۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے ۔ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا ۔ خدا کی قسم ، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی ۔ سوا تین چمڑوں کے ( جو وہاں موجود تھے ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے ۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ابن خطاب ! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں ، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے ( کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا ) چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا راز عائشہ سے کہہ دیا تھا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا ۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بہت رنج ہوا ( اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ) پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو آنحضور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے ۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل کی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے ( اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا ) تو میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا ۔ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر شوہر گھر پر موجود ہے تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ نہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے ( ناراضگی کی وجہ سے ) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے اس کے بستر سے الگ تھلگ رات گزارنے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک وہ اپنی اس حر کت سے باز نہ آ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ، وَلاَ تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ نَفَقَةٍ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ يُؤَدَّى إِلَيْهِ شَطْرُهُ ". وَرَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ أَيْضًا عَنْ مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّوْمِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ رکھے اور عورت کسی کو اس کے گھر میں اس کی مرضی کے بغیر آنے کی اجازت نہ دے اور عورت جو کچھ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی صریح اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اسے بھی اس کا آدھا ثواب ملے گا ۔ اس حدیث کو ابوالزناد نے موسیٰ بن ابی عثمان سے بھی اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اور اس میں صرف روزہ کا ہی ذکر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قُمْتُ عَلَى باب الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ، وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ، غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، وَقُمْتُ عَلَى باب النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ ".
میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی ۔ مالدار ( جنت کے دروازے پر حساب کے لئے ) روک لئے گئے تھے البتہ جہنم والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیا تھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ. فَقَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ ـ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ ـ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ". قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " بِكُفْرِهِنَّ ". قِيلَ يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، وَلَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ اس کی نماز پڑھی ۔ آپ نے بہت لمبا قیام کی اتنا طویل کہ سورۃ البقرہ پڑھی جا سکے پھر طویل رکوع کیا ۔ رکوع سے سر اٹھا کر بہت دیر تک قیام کیا ۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا ۔ پھر آپ نے دوسراطویل رکوع کیا ۔ یہ رکوع طوالت میں پہلے رکوع سے کچھ کم تھا ۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا ۔ پھر دوبارہ قیام کیا اور بہت دیر تک حالت قیام میں رہے ۔ یہ قیام پہلی رکعت کے قیام سے کچھ کم تھا ۔ پھر طویل رکوع کیا ، یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا ۔ پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا ۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا ۔ پھر رکوع کیا ، طویل رکوع ۔ اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا ۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو گرہن ختم ہو چکا تھا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان میں گرہن کسی کی موت یا کسی کی حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا ۔ اس لئے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ سے کوئی چیز بڑھ کر لی ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ ہم سے ہٹ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تھی یا ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راوی کو شک تھا ) مجھے جنت دکھائی گئی تھی ۔ میں نے اس کا خوشہ توڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا اور اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے دوزخ دیکھی آج کا اس سے زیادہ ہیبت ناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ اس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایسا کیوں ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہے اور ان کے احسان کا انکار کرتی ہیں ، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ زندگی بھر بھی حسن سلوک کا معاملہ کرو پھر بھی تمہاری طرف سے کوئی چیز اس کے لئے ناگواری خاطر ہوئی تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تم سے کبھی بھلا ئی دیکھی ہی نہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ". تَابَعَهُ أَيُّوبُ وَسَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ.
میں جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اکثر رہنے والے غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں ۔ اس روایت کی متابعت ابوایوب اور سلم بن زریر نے کی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ". قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ ! کیا میری یہ اطلاع صحیح ہے کہ تم ( روزانہ ) دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو ، روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو ۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی ۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ امیر ( حاکم ) ہے ، مراد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے ۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے ۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ. قَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک الگ رہے اور اپنے ایک بالاخانہ میں قیام کیا ۔ پھر آپ انتیس دن کے بعد گھر میں تشریف لائے تو کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لئے عہد کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ 29 کا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَفَ لاَ يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا قَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک واقعہ کی وجہ سے ) قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح کے وقت گئے یا شام کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ أَبِي الضُّحَى فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَبْكِينَ، عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ مَلآنُ مِنَ النَّاسِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي غُرْفَةٍ لَهُ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَنَادَاهُ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ فَقَالَ " لاَ وَلَكِنْ آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا ". فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ.
ایک دن صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رو رہی تھیں ، پر زوجہ مطہرہ کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے ۔ مسجد کی طرف گیا تو وہ بھی لوگوں سے بھری ہوئی تھی ۔ پھر عمر بن خطاب آئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اوپر گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کمرہ میں تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔ انہوں نے پھر سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔ پھر سلام کیا اور اس مرتبہ بھی کسی نے جواب نہیں دیا تو آواز دی ( بعد میں اجازت ملنے پر ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کیا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ایک مہینہ تک ان سے الگ رہنے کی قسم کھائی ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک الگ رہے اور پھر اپنے بیویوں کے پاس گئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دوسرے دن اس سے ہمبستر ہو گا ۔
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ ـ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ـ عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا. فَقَالَ " لاَ إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ ".
قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی ۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ ( دوسرے مصنوعی بال ) جوڑے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کرکیونکہ مصنوعی با ل سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} قَالَتْ هِيَ الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لاَ يَسْتَكْثِرُ مِنْهَا فَيُرِيدُ طَلاَقَهَا، وَيَتَزَوَّجُ غَيْرَهَا، تَقُولُ لَهُ أَمْسِكْنِي وَلاَ تُطَلِّقْنِي، ثُمَّ تَزَوَّجْ غَيْرِي، فَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنَ النَّفَقَةِ عَلَىَّ وَالْقِسْمَةِ لِي، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ}
آیت ” اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف محسوس کرے ۔ “ کے متعلق فرمایا کہ آیت میں ایسی عورت کا بیان ہے جو کسی مرد کے پاس ہو اور وہ مرد اسے اپنے پاس زیادہ نہ بلاتا ہو بلکہ اسے طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے بجائے دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہو لیکن اس کی موجودہ بیوی اس سے کہے کہ مجھے اپنے ساتھ ہی رکھو اور طلاق نہ دو ۔ تم میرے سوا کسی اور سے شادی کر سکتے ہو ، میرے خرچ سے بھی تم آزاد ہو اور تم پر باری کی بھی کوئی پابندی نہیں تو اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں کہ ” پس ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے ۔ “
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم عزل کیا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرًا، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا ہم عزل کرتے تھے ۔ اور عمرو بن دینار نے بیان کیاعطاء سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ قرآن نازل ہو رہا تھا ۔ اور ہم عزل کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا فَكُنَّا نَعْزِلُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ قَالَهَا ثَلاَثًا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ".
( ایک غزوہ میں ) ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم نے ان سے عزل کیا ۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو ؟ تین مرتبہ آپ نے یہ فرمایا ( پھر فرمایا ) قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے وہ ( اپنے وقت پر ) پیدا ہو کر رہے گی ۔ پس تمہارا عزل کرنا عبث حرکت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، فَقَالَتْ بَلَى فَرَكِبَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلُوا وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ رِجْلَيْهَا بَيْنَ الإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَىَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي، وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا.
نبی کریم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لئے قرعہ ڈالتے ۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام نکلا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت معمولاً چلتے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے ۔ ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو اور میں بھی ۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور ( ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر ) سوار ہو گئیں ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے اونٹ کے پاس تشریف لائے ۔ اس وقت اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا ، پھر چلتے رہے ، جب پڑاؤ ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں ( اس غلطی پر عائشہ کو اس درجہ رنج ہوا کہ ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المؤمنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈال لئے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب ! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھ کو ڈس لے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ حرکت خود میری ہی تھی ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَهَبَتْ، يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ.
سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں خود ان کی باری کے دن اور سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا.
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) روایت ہے کہ اگر کسی نے کنواری سے شادی کی اور اس کی پہلے سے ایک بیوہ(اس کے ساتھ) بیوی ہے تو اسے سات دن تک کنواری کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اور اگر کوئی بیوہ عورت سے شادی کرے (اور اس کے ساتھ کنواری بیوی ہو) تو اسے چاہئے کہ تین دن تک اس کے ساتھ رہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَخَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَسَمَ. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں سفیان نے خبر دی ، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ.
ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے ۔ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں ۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب بھی بیٹھتے ۔ ایک دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے اور معمول سے زیادہ کافی دیر تک ٹھہرے رہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ " أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ". يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَىَّ فِيهِ فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ، وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی ، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے ۔ کل میری باری کس کے یہاں ہے ؟ آپ کو حضرت عائشہ کی باری کا انتظار تھا ۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آنحضور جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میرے سینے پر تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةِ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا ـ يُرِيدُ عَائِشَةَ ـ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَبَسَّمَ.
بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے ۔ آپ کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی ، آپ مسکرادیئے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ ".
ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی ( دوسروں کے کپڑے ) مانگ کر پہنے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بے حیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی اپنی تعریف پسند کرنے والا نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرَى عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ تَزْنِي يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے امت محمد ! اللہ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں کہ وہ اپنے بندہ یا بندی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے ۔ اے امت محمد ! اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ، أَسْمَاءَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ شَىْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ".
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اور ( اسی سند سے ) یحییٰ سے روایت ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب بندہ مومن وہ کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ، وَلاَ مَمْلُوكٍ، وَلاَ شَىْءٍ غَيْرَ نَاضِحٍ، وَغَيْرَ فَرَسِهِ، فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي، وَهْىَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ، فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ " إِخْ إِخْ ". لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ. فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ. قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ يَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي.
زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال ، کوئی غلام ، کوئی چیز نہیں تھی ۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی ، پانی پلاتی ، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی ۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی ۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں ۔ یہ بڑی سچی اور با وفا عورتیں تھیں ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی ، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کیگٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی ۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی ۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ۔ پھر ( اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لئے ) کہا ۔ اخ اخ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا ۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں ۔ اس لئے آپ آگے بڑھ گئے ۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی ۔ میرے سر پر گٹھلیاںتھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھا نے کے لئے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا ۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لئے نکلے اگر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی ( کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں ) اس کے بعد میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی گویا والد ماجد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( غلام بھیج کر ) مجھ کو آزاد کر دیا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِلَقَ الصَّحْفَةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ " غَارَتْ أُمُّكُمْ "، ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا، وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ فِيه.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے ۔ اس وقت ایک زوجہ ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر ( غصہ میں ) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور ( خادم سے ) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا ۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہا ں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ـ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ ـ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ ". قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کاہے ؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالَ هَذَا لِعُمَرَ. فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ". فَبَكَى عُمَرُ وَهْوَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ قَالَ أَوَعَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ.
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواب میں میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ۔ وہا ں میں نے دیکھا کہ ایک محل کے کنارے ایک عورت وضو کر رہی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتے نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ۔ میں ان کی غیرت کا خیال کر کے واپس چلا آیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اس پر رودیئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَىَّ غَضْبَى ". قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ فَقَالَ " أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ". قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو ۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم ! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! ( غصے میں ) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ عَلَيْهَا، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکو جنت میں ان کے موتی کے گھر کی بشارت دے دیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ". هَكَذَا قَالَ.
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل کا باپ تھا اس کی اولاد ( حارث بن ہشام اورسلم بن ہشام ) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہرگز اجازت نہیں دوں گا یقیناً میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہرگز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں ( تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ) کیونکہ وہ ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ غَيْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ".
میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، میرے سوا یہ حدیث تم سے کوئی اور نہیں بیان کرنے والا ہے ۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث کا علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی ۔ زنا کی کثرت ہو جائے گی اور شراب لوگ زیادہ پینے لگیں گے ۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔ حالت یہ ہو جائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا ( خبر گیر ) ایک مرد ہو گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ. قَالَ " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ " ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے ۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَلاَ بِهَا فَقَالَ " وَاللَّهِ إِنَّكُنَّ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ".
قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر تنہائی میں گفتگو کی ۔ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ( یعنی انصار ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُنَّ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے ، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا ۔ اس مخنث ( ہیجڑے ) نے حضرت ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو ( مٹاپے کی وجہ سے ) اس کے چار شکنیں پڑجاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ام سلمہ سے ) فرمایا کہ یہ ( مخنث ) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ.
میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں ۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں ( جنگی ) کھیل کا مظا ہرہ کر رہے تھے ، آخر میں ہی اکتا گئی ۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلاً فَرَآهَا عُمَرُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ إِنَّكِ وَاللَّهِ يَا سَوْدَةُ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، وَهْوَ فِي حُجْرَتِي يَتَعَشَّى، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فَرُفِعَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ " قَدْ أَذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ ".
ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمر نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے ۔ پھر کہا اے سودہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں ۔ جب حضرت سودہ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے ۔ آپ کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی ۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو اتو آپ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لئے باہر نکل سکتی ہو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يَمْنَعْهَا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں ( نماز پڑھنے کے لئے ) جانے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو بلکہ اجازت دے دو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ " قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ. قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ.
میرے دودھ ( رضاعی ) چچا ( افلح ) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں ، اجازت نہیں دے سکتی ۔ پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں ، انہیں اندر بلا لو ۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی ( رضاعی ) اس لئے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں ، یہ واقعہ ہمارے لئے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے ، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کے حلیہ نہ بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلاَمًا، يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَأَطَافَ بِهِنَّ، وَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ". قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَرْجَى لِحَاجَتِهِ ".
سلیمان بن داؤد علیہاالسلام نے فرمایا کہ آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ( اور اس قربت کے نتیجہ میں ) ہر عورت ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے ۔ فرشتہ نے ان سے کہا کہ انشاءاللہ کہہ لیجئے لیکن انہوں نے نہیں کہا اور بھول گئے ۔ چنانچہ آپ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے بھی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس ایک کے یہاں بھی آدھا بچہ پیدا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انشاءاللہ کہہ لیتے تو ان کی مراد بر آتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے رات کے وقت اپنے گھر ( سفر سے اچانک ) آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلاَ يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلاً ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکا یک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يُعْجِلُكَ ". قُلْتُ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ " فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ " فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ". قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ " أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً ـ أَىْ عِشَاءً ـ لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ". قَالَ وَحَدَّثَنِي الثِّقَةُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ " الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ ". يَعْنِي الْوَلَدَ.
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد ( تبوک ) میں تھا ، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ آپ نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے ۔ آپ نے اس پر فرمایا ، کنواری سے کیوں نہ کی ؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے سا تھ کھیلتی ۔ جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ موئے زیر ناف صاف کر لیں ۔ ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ الکیس الکیس یعنی اے جابر ! جب تو گھر پہنچے تو خوب خوب کیس کیجؤ ( امام بخاری نے کہا ) کیس کا مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کیجؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلْتَ لَيْلاً فَلاَ تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ". قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَعَلَيْكَ بِالْكَيْسِ الْكَيْسِ ". تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَيْسِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت ) فرمایا ، جب رات کے وقت تم مدینہ میں پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھروں میں نہ جانا جب تک ان کی بیویاں جو مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے ، اپنا موئے زیر ناف صاف نہ کر لیں اورجن کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھا نہ کر لیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر ضروری ہے کہ جب تم گھر پہنچو تو خوب خوب کیس کیجو ۔ شعبی کے ساتھ اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی وہب بن کیسان سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ، اس میں بھی کیس کا ذکر ہے ۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الإِبِلِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ " أَتَزَوَّجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ " فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ". قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ " أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً ـ أَىْ عِشَاءً ـ لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ".
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( تبوک ) میں تھے ۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا ۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی ، مارا ۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا ، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری شادی نئی ہوئی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا ، کیا تم نے شادی کر لی ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ دریافت فرمایا ، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کنواری سے کیوں نہ کی ؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو ، وہ موئے زیر ناف صاف کر لے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَىِّ شَىْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَحُرِّقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ.
اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف تھا کہ احد کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کو ن سی دو ا استعمال کی گئی تھی ۔ پھر لوگوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے ۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جا نتا ہو ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھورہی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لار ہے تھے ۔ ( جب بند نہ ہوا تو ) ایک بوریا جلا کر آپ کے زخم میں بھر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ سَأَلَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِيدَ أَضْحًى أَوْ فِطْرًا قَالَ نَعَمْ لَوْلاَ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ ـ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ ـ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلاَلٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلاَلٌ إِلَى بَيْتِهِ.
تم بقرعید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ اگر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا ۔ ان کا اشارہ ( اس زمانے میں ) اپنے بچپن کی طرف تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور ( لوگوں کے ساتھ عید کی ) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا ، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا ۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر ( اپنے زیورات ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں ۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي.
( ان کے والد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا ۔
لأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
رضاعت سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام سمجھو جو خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ".
ہم ایک لشکر میں تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لئے تم نکاح کر سکتے ہو ۔
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑدے ۔
وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا.
اور میں تمہیں عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے ۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دوگے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائےگی اس لئے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں ۔
وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ.
قرآن نازل ہو رہا تھا اور ہم عزل کرتے تھے ۔