Chapter 74: Al-Adha Festival Sacrifice (Adaahi)

قربانی کے مسائل کا بیان

كتاب الأضاحي

30 Hadiths
Hadith #5545

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآج ( عیدالاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نمازعید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاًبھی نہیں ۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ( نمازعید سے پہلے ہی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے ( کیا اس کی دوبارہ قربانی ا ب نماز کے بعد کر لوں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا ۔

Hadith #5546

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی ۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا ۔

Hadith #5547

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ جَذَعَةٌ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ضَحِّ بِهَا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے ۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو قربانی کر لو ۔

Hadith #5548

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں ۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے ۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو ، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے ۔

Hadith #5549

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ‏.‏ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نمازعید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سا ل سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔

Hadith #5550

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے ۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں ، تین پے درپے ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے ( پھر آپ نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے ، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ خاموش ہو گئے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے ۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ! پھر آپ نے فرمایا پس تمہارا خون ، تمہارے اموال ۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ( ابن ابی بکرہ نے ) یہ بھی کہا کہ ” اور تمہاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح با حرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے ۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ ( میرا یہ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں ۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں ۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پہنچا دیا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے ؟

Hadith #5551

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے ۔

Hadith #5552

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قربانی ) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے ۔

Hadith #5553

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۔

Hadith #5554

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ‏.‏ تَابَعَهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ‏.‏ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۔ اس کی متابعت وہیب نے کی ، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔

Hadith #5555

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ ضَحِّ أَنْتَ بِهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو ۔

Hadith #5556

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ‏.‏ وَتَابَعَهُ وَكِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ‏.‏ وَقَالَ عَاصِمٌ وَدَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ‏.‏ وَقَالَ زُبَيْدٌ وَفِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي جَذَعَةٌ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنَاقٌ جَذَعَةٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ‏.‏

میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد ( اس کی قربانی ) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی پھر فرمایا جو شخص نمازعید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پالیتا ہے ۔ اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی ، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے ( بیان کیا ) اور عاصم اور داؤ نے شعبی نے بیان کیا کہ ” میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے ۔ “ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ” میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے ۔ “ اور ابوالاحوص نے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ” ایک سال سے کم کی پٹھیا ۔ “ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ” ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے ۔ “

Hadith #5557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْدِلْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ جَذَعَةٌ ـ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ عَنَاقٌ جَذَعَةٌ‏.‏

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نمازعید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں ۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی اور حاتم بن وردان نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک ( اس روایت میں یہ لفظ ہیں ) کہ ” ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے ۔ “

Hadith #5558

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی ۔ میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں ۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۔

Hadith #5559

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ‏.‏

مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے ، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ا نجام دے صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ۔

Hadith #5560

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ خطبہ میں آپ نے فرمایا آج کے دن کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے ( عید کی نماز سے پہلے ) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں ۔ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے توعید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال پھر کی بکری سے بہتر ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا ۔

Hadith #5561

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَذَرَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ ـ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا ـ ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے ۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا اس دن گوشت کی لوگوں کی خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا ہو ( انہوں نے یہ بھی کہا کہ ) میرے پاس ایک سال کا ایک بچہ ہے اور بکریوں سے بھی اچھا ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا ۔

Hadith #5562

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ ‏"‏‏.‏

قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے ۔

Hadith #5563

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلْتُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ شَىْءٌ عَجَّلْتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ آذْبَحُهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، ثُمَّ لاَ تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَامِرٌ هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِهِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نمازعید پڑھی اور فرمایا جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نمازعید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے تو قربانی کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے ۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی ۔

Hadith #5564

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپررکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے ۔

Hadith #5565

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی ۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا ۔

Hadith #5566

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلاً يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَيَجْلِسُ فِي الْمِصْرِ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ، فَلاَ يَزَالُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ‏.‏ قَالَ فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَقَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ، حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ‏.‏

وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین ! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں ( نشانی کے طور پر ) ایک قلادہ پہنادیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں ۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں نے خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو ۔

Hadith #5567

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ غَيْرَ مَرَّةٍ لُحُومَ الْهَدْىِ‏.‏

مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ ( بجائے لحوم الاضاحی کے ) لحوم الھدی کا لفظ استعمال کیا ۔

Hadith #5568

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا، فَقَدِمَ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ‏.‏ قَالَ وَهَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا‏.‏ فَقَالَ أَخِّرُوهُ لاَ أَذُوقُهُ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي قَتَادَةَ ـ وَكَانَ أَخَاهُ لأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ـ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ‏.‏

وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا ۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے ۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے ۔

Hadith #5569

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي قَالَ ‏"‏ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو ۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا ۔ ( کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ ، کھلاؤ اور جمع کرو ۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے ، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو ۔

Hadith #5570

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ، فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَأْكُلُوا إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏‏.‏ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ‏.‏

مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو ۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت ( ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو ) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔

Hadith #5571

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَأَمَّا الآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ نُسُكَكُمْ‏.‏

جو ابن ازہر کے آزادکردہ غلام تھےوہ بقرعید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اورخطبہ میں فرمایا اے لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم ( رمضان کے ) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو ( عیدالفطر ) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے ۔

Hadith #5572

قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ‏.‏

پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں ) حاضر تھا ۔ اس دن جمعہ بھی تھا ۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نمازعید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں ۔ ( عید اور جمعہ ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے ( نمازعید کے بعد ہی ) تو وہ واپس جا سکتا ہے ، میں نے اسے اجازت دے دی ہے ۔

Hadith #5573

قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلاَثٍ‏.‏ وَعَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ نَحْوَهُ‏.‏

پھر میں عید کی نماز میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا ۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا ۔

Hadith #5574

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُوا مِنَ الأَضَاحِيِّ ثَلاَثًا ‏"‏‏.‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْكُلُ بِالزَّيْتِ حِينَ يَنْفِرُ مِنْ مِنًى، مِنْ أَجْلِ لُحُومِ الْهَدْىِ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ سے کوچ کرتے وقت روٹی زیتون کے تیل سے کھاتے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے ( تین دن کے بعد ) پر ہیز کرتے تھے ۔

Back to All Chapters