Chapter 84: Oaths and Vows

قسموں اور نذروں کے بیان میں

كتاب الأيمان والنذور

85 Hadiths
Hadith #6621

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمْ يَكُنْ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ قَطُّ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ وَقَالَ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي‏.‏

ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کاکفارہ اتارا ۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔

Hadith #6622

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے عبدالرحمٰن بن سمرہ ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھالے گا ۔ تو جان ، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو ۔

Hadith #6623

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلاَثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا وَاللَّهِ لاَ يُبَارَكُ لَنَا، أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُذَكِّرُهُ، فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ‏"‏‏.‏

میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ، میں تمہارے لئے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے ۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے ۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لئے عنایت فرمایا ۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا ، واللہ ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی ۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لئے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے ۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں ، واللہ ! کوئی بھی اگر قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔ جس میں بھلائی ہو گی یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا ۔

Hadith #6624

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ۔

Hadith #6625

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَاللَّهِ لأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏

واللہ ( بسا اوقات ) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ ( قسم توڑ کر ) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے ۔

Hadith #6626

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهْوَ أَعْظَمُ إِثْمًا، لِيَبَرَّ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الْكَفَّارَةَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے ۔

Hadith #6627

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ، فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا ۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیربنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور خدا کی قسم ( وایم اﷲ ) زید ( رضی اللہ عنہ ) امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے ۔

Hadith #6628

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم بس اتنی تھی کہ نہیں ، دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم ۔

Hadith #6629

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔

Hadith #6630

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ( بادشاہ ایران ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور جب قیصر ( بادشاہ روم ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔

Hadith #6631

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ، امت محمد ! واللہ ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے ۔

Hadith #6632

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ، زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ إِلاَّ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَإِنَّهُ الآنَ وَاللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الآنَ يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں ، سوا میری اپنی جان کے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ ( ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ) جب میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر واللہ ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ، عمر ! اب تیرا ایمان پورا ہوا ۔

Hadith #6633, 6634

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ وَهْوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ـ قَالَ مَالِكٌ وَالْعَسِيفُ الأَجِيرُ ـ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ‏"‏‏.‏ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا‏.‏

دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں ۔ دوسرے نے ، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو ۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں ” عسیف “ تھا ۔ عسیف اجیر کو کہتے ہیں ۔ ( اجیر کے معنی مزدور کے ہیں ) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا ۔ اس لئے ( اس سے نجات دلانے کے لئے ) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے شہر بدر کر دیا جائے ، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا ۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کر دیا ۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے ۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی ۔

Hadith #6635

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَغَطَفَانَ وَأَسَدٍ، خَابُوا وَخَسِرُوا ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلا بتلاؤ اسلم ، غفار ، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم ، عامر بن صعصعہ ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا ، جی ہاں بیشک ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ( وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا ) ان ( تمیم وغیرہ ) سے بہتر ہیں ۔

Hadith #6636

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ عَامِلاً فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ‏.‏ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلُوهُ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقررکیا ۔ عامل اپنے کام پورے کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے ، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد ! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں ۔ ( جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لئے ) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے ۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتاکہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا ۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی ۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی ۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی ۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا ۔ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے ۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو ۔

Hadith #6637

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَام ٌ ـ هُوَ ابْنُ يُوسُفَ ـ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً ‏"‏‏.‏

ابو القاسم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم بھی آخرت کی وہ مشکلات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے ۔

Hadith #6638

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ قُلْتُ مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَىْءٌ مَا شَأْنِي فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهْوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقُلْتُ مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً، إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏

میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ کعبہ کے رب کی قسم وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ میں نے کہا کہ حضور ، میری حالت کیسی ہے ، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے ؟ میری حالت کیسی ہے ؟ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے ، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی ۔ میں نے پھر عرض کی ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے ۔ لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں ۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بے دریغ مستحقین پر ) راہ خدا میں خرچ کیا ہو گا ۔

Hadith #6639

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ سُلَيْمَانُ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ۔ اس پر ان کے ساتھ نے کہا کہ انشاءاللہ ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے انشاءاللہ نہیں کہا ۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر انہوں نے انشاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے ۔

Hadith #6640

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، وَيَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهَا وَلِينِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلْ شُعْبَةُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پرحیرت کرنے لگے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے ؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں ، یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں ۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ کا ذکر نہیں کیا ۔

Hadith #6641

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ ـ أَوْ خِبَائِكَ، شَكَّ يَحْيَى ـ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ أَوْ خِبَائِكَ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏.‏

ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں ) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ساری زمین پر جتنے ڈیرے والے ہیں ( یعنی عرب لوگ جو اکثر ڈیروں اور خیموں میں رہا کرتے تھے ) میں کسی کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپ کا ۔ یحییٰ بن بکیر راوی کو شک ہے ( کہ ڈیرے کا لفظ بہ صیغہ مفرد کہا یا بہ صیغہ جمع ) اب کوئی ڈیرہ والا یا ڈیرے والے ان کو عزت اور آبرو حاصل ہونا مجھ کو آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ پسند نہیں ہے ( یعنی اب میں آپ کی اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی کیا ہے تو اور بھی زیادہ خیرخواہ بنے گی ۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے ( اپنے بال بچوں کو کھلاؤں ) آپ نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے ۔

Hadith #6642

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ إِذْ قَالَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو ؟ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے ۔

Hadith #6643

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏

ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابرہے ۔

Hadith #6645

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا أَوْلاَدٌ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ‏.‏

انصاری خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ بھی مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہو ۔ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے ۔

Hadith #6646

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهْوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ ‏"‏‏.‏

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے ، جسے قسم کھانی ہے اسے ( بشرط صدق ) چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے ۔

Hadith #6647

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا‏.‏ قَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏أَوْ أَثَرَةٍ مِنْ عِلْمٍ‏}‏ يَأْثُرُ عِلْمًا‏.‏ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ ! پھر میں نے ان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی ۔ مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو اثارۃ من علم ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو ۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا ۔ روایت میں لفظ اثارۃ کی تفسیر آثراً کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے ۔

Hadith #6648

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ ۔

Hadith #6649

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ آكُلَهُ‏.‏ فَقَالَ قُمْ فَلأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏

ان قبائل جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا ۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لئے کھانا لایا گیا ۔ اس میں مرغی بھی تھی ۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا ۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لئے دے سکوں ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا ۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا ۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے ۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی ۔ آپ نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوارنہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا ۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں ۔

Hadith #6650

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى‏.‏ فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ‏.‏ فَلْيَتَصَدَّقْ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ” لات و عزیٰ کی قسم “ تو اسے پھر کلمہ لا الہ الااﷲ کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ ( اس کے کفارہ میں ) صدقہ کرے ۔

Hadith #6651

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَلْبَسُهُ، فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ ‏"‏‏.‏ فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے ۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوالیں اس کے بعد ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اوراپنی انگوٹھی اتاردی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا ۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں ۔

Hadith #6653

وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ ثَلاَثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الأَبْرَصَ فَقَالَ تَقَطَّعَتْ بِي الْحِبَالُ، فَلاَ بَلاَغَ لِي إِلاَّ بِاللَّهِ، ثُمَّ بِكَ ‏"‏‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏.‏

انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ( پھر سارا قصہ بیان کیا ) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا ( یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری ) ابوہریرہ نے پھر پوری حدیث کو ذکر کیا ۔

Hadith #6654

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ‏.‏

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا حکم فرمایا ۔

Hadith #6655

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ وَأُبَىٌّ أَنَّ ابْنِي قَدِ احْتُضِرَ فَاشْهَدْنَا‏.‏ فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَتَحْتَسِبْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ وَنَفْسُ الصَّبِيِّ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذَا رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب ) نے آپ کو بلابھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے ۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے ۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے ، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو ۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلابھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے ۔ اس وقت آپ اٹھے ، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے ۔ آپ نے اسے گودمیں بٹھالیا وہ دم توڑ رہا تھا ۔ یہ حال پر ملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رونا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں ۔

Hadith #6656

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏‏.‏

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لئے ۔

Hadith #6657

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَوَّاظٍ عُتُلٍّ مُسْتَكْبِرٍ ‏"‏‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں ۔ ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے ( اس کی قسم پوری کر دے ) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا ، لڑاکا ، مغرور ، فسادی ۔

Hadith #6658

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ ‏ "‏ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا زمانہ ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے ۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آجایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے ۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے اساتذہ جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں ۔

Hadith #6659, 6660

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ‏}. قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ قَالُوا لَهُ فَقَالَ الأَشْعَثُ نَزَلَتْ فِيَّ، وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس مقصدسے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی ( قرآن مجید میں کہ ) بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے ذریعہ خریدتے ہیں ۔ سلیمان نے بیان کیا کہ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے ۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا ۔

Hadith #6661

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ‏.‏ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے ؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی ، تیری عزت کی قسم ! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا ۔ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا ۔

Hadith #6662

حَدَّثَنَا الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ـ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ‏.‏

میں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا ۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی ۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ خدا کی قسم ( لعمراللہ ) ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے ۔ مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے ۔

Hadith #6663

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ‏{‏لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ‏}‏ قَالَ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي قَوْلِهِ لاَ، وَاللَّهِ بَلَى وَاللَّهِ‏.‏

آیت ” اللہ تعالیٰ تم سے لغوقسموں کے بارے میں پکڑ نہیں کرے گا “ ۔ راوی نے بیان کیا کہ حضرت ام المؤمنین نے کہا کہ یہ آیت لاواﷲ بلی واﷲ ( بے ساختہ جو قسمیں عادت بنا لی جاتی ہیں ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔

Hadith #6664

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گذرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو ، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو ۔

Hadith #6665

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاںفلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق ، رمی اور نحر ) کی طرف تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ چنانچہ اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں ۔

Hadith #6666

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏

ایک صحابی نے نبی کریم صلیاللہ علیہ وسلم سے کہا ، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں ۔

Hadith #6667

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏‏.‏ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَأَعْلِمْنِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ، سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ‏"‏‏.‏

ایک صحابی مسجدنبوی میں نماز پڑھنے کے لئے آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے ۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ ، اس لئے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو ، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو ، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کرچکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو ، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سراٹھاؤ ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو ۔

Hadith #6668

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَقَالَ أَبِي أَبِي‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةٌ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ‏.‏

جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ( مسلمانوں سے ) کہ اے اللہ کے بندو ! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے ( مسلمانوں ہی سے ) لڑ پڑے ۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں ، میرے والد ! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا ۔ حذیفہ نے کہا ، اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے ۔

Hadith #6669

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهْوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے ۔

Hadith #6670

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اورسلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا ، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اورسلام پھیرا ۔

Hadith #6671

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ـ قَالَ مَنْصُورٌ لاَ أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ ـ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لاَ يَدْرِي، زَادَ فِي صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی ۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لئے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہوکے ) کر لے ۔

Hadith #6672

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا‏}‏ قَالَ ‏"‏ كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ‏"‏‏.‏

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آیت ” لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا‏ “ کے متعلق کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: جو کچھ میں بھول جاؤں اس کا مجھ سے حساب نہ لینا اور میرے معاملہ میں مجھ پر سختی نہ کرنا پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا ۔

Hadith #6673

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَتَبَ إِلَىَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ‏.‏ فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ أَمْ لاَ‏.‏ رَوَاهُ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں ، چنانچہ انہوں نے نماز عیدالاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں ۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے ۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں ، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لئے ہی تھی ۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔

Hadith #6674

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے ۔

Hadith #6675

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی کی ناحق جان لینا اور یمین غموس ۔ قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں ۔

Hadith #6676, 6677

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ‏. فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالُوا كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی کہ ” بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں “ آخر آیت تک ۔ ( ذیلی راوی نے مزید کہا : ) اشعث بن قیس داخل ہوئے اور کہا کہ ابو عبدالرحمٰن نے تم سے کیا بیان کیا ؟ انہوں نے کہا فلاں اشعث نے کہا کہ یہ آیت میرے تعلق سے نازل ہوئی ہے، میرے چچا زاد بھائی کی زمین پر میرا کنواں تھا (اور اس میں ہمارا جھگڑا تھا)اس کے متعلق مقدمہ لے کرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم گواہی دو ورنہ تمہارے مخالف کی قسم تمہارے دعوے کو باطل کر دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو قسم کھانے کا حکم دیا جائے اور وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو وہ جب وہ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا تو اللہ کااس پر غضب ہو گا۔"

Hadith #6678

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ الْحُمْلاَنَ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ وَوَافَقْتُهُ وَهْوَ غَضْبَانُ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ ‏"‏ انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ـ أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ يَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏

میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لئے بھیجا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لئے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے ۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے سواری کا انتظام کر دیا ۔

Hadith #6679

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ـ كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ‏}‏ الْعَشْرَ الآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ـ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ ـ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا، بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى‏}‏ الآيَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي‏.‏ فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَنْزِعُهَا عَنْهُ أَبَدًا‏.‏

میں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن المسیب ، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق ، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا ، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا ( اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ” بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے “ دس آیتوں تک ۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لئے ہوئے تھے ، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعۃ أن يؤتوا أولي القربى‏ الخ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا ، کیوں نہیں ، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے ۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا ۔

Hadith #6680

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهْوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏

میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لئے اس کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد فرمایا واللہ ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا ۔

Hadith #6681

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ كَلِمَةً‏.‏ أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

جب جناب ابوطالب کی موت کی وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کہہ دیجئیے کہ ” لا الہٰ الا اللہ “ تو میں آپ کے لیے اللہ سے جھگڑ سکوں گا ۔

Hadith #6682

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر ( آخرت میں ) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں ۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔

Hadith #6683

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَلِمَةً وَقُلْتُ أُخْرَى ‏ "‏ مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ ‏"‏‏.‏ وَقُلْتُ أُخْرَى مَنْ مَاتَ لاَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے ( اسی پر قیاس کرتے ہوئے ) دوسرا کلمہ کہا ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں نے دوسری بات کہی کہ ” جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا ۔

Hadith #6684

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا‏.‏ فَقَالَ ‏{‏إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ‏}‏

آپ ان کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے ۔ پھر وہاں سے اترے ۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ایلاء ایک مہینے کے لئے کیا تھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔

Hadith #6685

حَدَّثَنِي عَلِيٌّ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَعْرَسَ فَدَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ الْعَرُوسُ خَادِمَهُمْ‏.‏ فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ قَالَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا ۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں ۔ پھر حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا ، تمہیں معلوم ہے ، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا ۔ کہا کہ رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا ۔

Hadith #6686

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ سَوْدَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَاتَتْ لَنَا شَاةٌ فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا ثُمَّ مَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَتْ شَنًّا‏.‏

ان کی ایک بکری مرگئی تو اس کے چمڑے کو ہم نے دباغت دے دیا ۔ پھر ہم اس کی مشک میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہو گئی ۔

Hadith #6687

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ بِهَذَا‏.‏

آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے درپے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھا سکے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی ۔

Hadith #6688

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبْتُ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ ‏"‏ قُومُوا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقُوا، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ‏.‏ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ حَتَّى دَخَلاَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ‏"‏‏.‏ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ ـ قَالَ ـ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً‏.‏

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( اپنی بیوی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ( فاقوں کی وجہ سے ) کمزور پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے فاقہ کا اندازہ لگایا ہے ، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا ۔ میں لے کر گیا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ ہیں ، میں ان کے پاس جاکے کھڑا ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ، میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جو ساتھ تھے کہ اٹھو اور چلو ، میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا ۔ آخر میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا اور ان کو اطلاع دی ۔ ابوطلحہ نے کہا ام سلیم ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس تو کوئی ایسا کھانا نہیں ہے جو سب کو پیش کیا جا سکے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ گھر کی طرف بڑھے اور اندر گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام سلیم ! جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ ۔ وہ یہی روٹیاں لائیں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو چورا کر دیا گیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک ( گھی کی ) کپی کو نچوڑا گیا یہی سالن تھا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ اللہ نے چاہا دعا پڑھی اور فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو اندر بلاؤ انہیں بلایا گیا اور اس طرح سب لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو گئے ۔ حاضرین کی تعداد ستر یا اسی آدمیوں کی تھی ۔

Hadith #6689

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وجہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لئے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔

Hadith #6690

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ، قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فِي حَدِيثِهِ ‏{‏َعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا‏}‏ َقَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهْوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏‏.‏

جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت ” وعلی الثلاثۃ الذین خلقوا “ کے سلسلہ میں سنا ، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ ( میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو ، یہ تمہارے لیے بہترہے ۔

Hadith #6691

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ‏}‏، ‏{‏إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ‏}‏، لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، ‏{‏وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا‏}‏ لِقَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ‏"‏‏.‏ وَقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ هِشَامٍ، ‏"‏ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ، وَقَدْ حَلَفْتُ، فَلاَ تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) حضرت زینت بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے ۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے ، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے ؟ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینت بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیوں گا ۔ ( کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اے نبی ! آپ ایسی چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے “ ۔ ” ان تتوباالی اللّٰہ “ میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ ہے اور ” اذا سرالنبی الی بعض ازواجہ “ سے اشارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ ” نہیں “ میں نے شہد پیا ہے “ اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیوں گا میں نے قسم کھا لی ہے تم اس کی کسی کو خبر نہ کرنا ( پھر آپ نے اس قسم کو توڑ دیا ) ۔

Hadith #6692

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا، وَلاَ يُؤَخِّرُ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏‏.‏

انہوں نے کہا ، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے ، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔

Hadith #6693

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی ۔ البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔

Hadith #6694

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَىْءٍ لَمْ يَكُنْ قُدِّرَ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ إِلَى الْقَدَرِ قَدْ قُدِّرَ لَهُ، فَيَسْتَخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، فَيُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو ، البتہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکلواتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں صدقہ کر دیتا ہے جس کی اس سے پہلے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی ۔

Hadith #6695

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، حَدَّثَنَا زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ـ قَالَ عِمْرَانُ لاَ أَدْرِي ذَكَرَ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا بَعْدَ قَرْنِهِ ـ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ‏"‏‏.‏

میں نے عمران بن حصین سے سنا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، اس کے بعد ان کا جو اس کے قریب ہوں گے ۔ اس کے بعد وہ جو اس سے قریب ہوں گے ۔ عمران نے بیان کیا کہ مجھے یاد نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر کیا تھا یا تین کا ( فرمایا کہ ) پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانے گی اور اسے پورا نہیں کرے گی ، خیانت کرے گی اور ان پر اعتماد نہیں رہے گا ۔ وہ گواہی دینے کے لیے تیار رہیں گے جب کہ ان سے گواہی کے لیے کہا بھی نہیں جائے گا اور ان میں مٹاپا عام ہو جائے گا ۔

Hadith #6696

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے اس کی نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہئے لیکن جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے نہ کرنی چاہئے ۔

Hadith #6697

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَوْفِ بِنَذْرِكَ ‏"‏‏.‏

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر ۔

Hadith #6698

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ‏.‏ فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ‏.‏

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ اس کا دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں ۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا ۔

Hadith #6699

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاقْضِ اللَّهَ، فَهْوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ‏"‏‏.‏

ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے ۔

Hadith #6700

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہو اسے چاہئے کہ اطاعت کرے اور جس نے گناہ کرنے کی نذر مانی ہو پس وہ گناہ نہ کرے ۔

Hadith #6701

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ‏"‏‏.‏ وَرَآهُ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ‏.‏ وَقَالَ الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا اور فزاری نے بیان کیا ، ان سے حمید نے ، ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ۔

Hadith #6702

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ، فَقَطَعَهُ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا ۔

Hadith #6703

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهْوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی ، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے ۔

Hadith #6704

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلاَ يَقْعُدَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَلاَ يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں ۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے ، بیٹھیں گے نہیں ، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں ، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں ۔ عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔

Hadith #6705

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ أَنْ لاَ، يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ صَامَ، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ‏.‏ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ الأَضْحَى وَالْفِطْرِ، وَلاَ يَرَى صِيَامَهُمَا‏.‏

ان سے ایسے شحص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا ۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقرعید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ آنحضرت بقرعید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے ۔

Hadith #6706

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلاَثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ‏.‏ فَقَالَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ‏.‏ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ مِثْلَهُ، لاَ يَزِيدُ عَلَيْهِ‏.‏

میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا ۔ اتفاق سے اسی دن کی بقرعید پڑگئی ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقرعید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی ۔

Hadith #6707

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً إِلاَّ الأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ، فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلاً لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَهْمٌ عَائِرٌ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ، لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ، لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ ـ أَوْ ـ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏‏.‏

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی کے لیے نکلے ۔ اس لڑائی میں ہمیں سونا ، چاندی غنیمت میں نہیں ملا تھا بلکہ دوسرے اموال ، کپڑے اور سامان ملا تھا ۔ پھر بنی خبیب کے ایک شخص رفاعہ بن زید نامی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ میں دیا غلام کا نام مدعم تھا ۔ پھر آنحضرت وادی قریٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور جب آپ وادی القریٰ میں پہنچ گئے تو مدعم کو جب کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاہ درست کر رہا تھا ۔ ایک انجان تیر آ کر لگا اور اس کی موت ہو گئی ۔ لوگوں نے کہا کہ جنت اسے مبارک ہو ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ کمبل جو اس نے تقسیم سے پہلے خیبر کے مال غنیمت میں سے چرالیا تھا ، وہ اس پر آگ کا انگارہ بن کر بھڑ رہا ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چپل کا تسمہ یا دو تسمے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آگ کا تسمہ ہے یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔

Hadith #6634

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ وَهْوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ـ قَالَ مَالِكٌ وَالْعَسِيفُ الأَجِيرُ ـ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ‏"‏‏.‏ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا‏.‏

دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں ۔ دوسرے نے ، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو ۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں ” عسیف “ تھا ۔ عسیف اجیر کو کہتے ہیں ۔ ( اجیر کے معنی مزدور کے ہیں ) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا ۔ اس لئے ( اس سے نجات دلانے کے لئے ) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے شہر بدر کر دیا جائے ، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا ۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کر دیا ۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے ۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی ۔

Hadith #6660

قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ قَالُوا لَهُ فَقَالَ الأَشْعَثُ نَزَلَتْ فِيَّ، وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا‏.‏

پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے ۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا ۔

Hadith #6677

فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالُوا كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.

عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔

Back to All Chapters