Chapter 85: Expiation for Unfulfilled Oaths

قسموں کے کفارہ کے بیان میں

كتاب كفارات الأيمان

15 Hadiths
Hadith #6708

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ادْنُ ‏"‏‏.‏ فَدَنَوْتُ فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ‏"‏‏.‏ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ، وَالْمَسَاكِينُ سِتَّةٌ‏.‏

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا ، میں قریب ہوا تو آپ نے پوچھا کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے ۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی ، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور ( کھانے کے لئے ) چھ مسکین ہوں گے ۔

Hadith #6709

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، فِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَسْتَطِيعُ تُعْتِقُ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ـ قَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَا، فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ ‏"‏‏.‏

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، میں تو تباہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا بات ہے ؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( عرق ایک بڑا پیمانہ ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے ۔ انہوں نے پوچھا ، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر ( صدقہ کر دوں ) ؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے اور پھر آپ نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا ۔

Hadith #6710

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَجِدُ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِعَرَقٍ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ ـ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ بِهَذَا، فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ، فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏‏.‏

ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ، میں تو تباہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کوئی غلام ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ دریافت فرمایا متواتر دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو ، انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ دریافت فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک انصاری صحابی ” عرق “ لے کر حاضر ہوئے ، عرق ایک پیمانہ ہے ، اس میں کھجوریں تھیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے ۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔ ان دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا اور اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے ۔

Hadith #6711

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا شَأْنُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَجِدُ‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏‏.‏

ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے ؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو ؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ دریافت فرمایا ، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو ؟ کہا کہ نہیں ، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر ۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر ؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے ۔

Hadith #6712

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ فَزِيدَ فِيهِ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے زمانہ کے مد سے ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا تھا ۔ بعد میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس میں زیادتی کی گئی ۔

Hadith #6713

حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ـ وَهْوَ سَلْمٌ ـ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمُدِّ الأَوَّلِ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ لَنَا مَالِكٌ مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ وَلاَ نَرَى الْفَضْلَ إِلاَّ فِي مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ لِي مَالِكٌ لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ قُلْتُ كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَفَلاَ تَرَى أَنَّ الأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے ۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے ۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے ( صدقہ فطر وغیرہ ) نکالو گے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے ۔

Hadith #6714

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ وَصَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! ان کے کیل ( پیمانے ) میں ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما ۔

Hadith #6715

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک ٹکڑے کے بدلے آزاد کرنے والے کا ایک ایک ٹکڑا جہنم سے آزاد کرے گا ۔ یہاں تک کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے آزاد کرنے والے کی شرمگاہ بھی دوزخ سے آزاد ہو جائے گی ۔

Hadith #6716

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا لَهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ‏"‏‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ‏.‏

قبیلہ انصار کے ایک صاحب نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور ان کے پاس اس غلام کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا ۔ جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ مجھ سے اس غلام کو کون خریدتا ہے ۔ نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خرید لیا ۔ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے سال مرگیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیلام فرما کر اس رقم سے اسے مکمل آزاد کرا دیا ۔

Hadith #6717

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اشْتَرِيهَا إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏

انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لئے ) خریدنا چاہا ، تو ان کے پہلے مالکوں نے اپنے لئے ولاء کی شرط لگائی ۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا خریدلو ، ولاء تو اسی سے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے ۔

Hadith #6718

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ ‏"‏‏.‏

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا ۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دئیے جانے کاحکم فرمایا ۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا ۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، اللہ کی قسم اگر اللہ نے چاہا تو جب بھی میں کوئی قسم کھالوں گا اور پھر اس کے سوا اور چیز میں اچھائی ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہی کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی ۔

Hadith #6719

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَقَالَ، ‏"‏ إِلاَّ كَفَّرْتُ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ ‏"‏‏.‏

میں قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہ کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی یا ( اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں کام وہ کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور کفارہ ادا کر دوں گا ۔

Hadith #6720

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلٌّ تَلِدُ غُلاَمًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ ـ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي الْمَلَكَ ـ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَنَسِيَ، فَطَافَ بِهِنَّ، فَلَمْ تَأْتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بِوَلَدٍ، إِلاَّ وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلاَمٍ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ قَالَ ‏"‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا فِي حَاجَتِهِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ مَرَّةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوِ اسْتَثْنَى ‏"‏‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏

سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے ۔ ان کے ساتھی سفیان یعنی فرشتے نے ان سے کہا ۔ اجی انشاءاللہ تو کہو لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں ناتمام بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے انشاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بے کار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پالیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے استثناء کر دیا ہوتا ۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

Hadith #6721

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ وَمَعْرُوفٌ ـ قَالَ ـ فَقُدِّمَ طَعَامٌ ـ قَالَ ـ وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ ـ قَالَ ـ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى ـ قَالَ ـ فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْهُ‏.‏ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَطْعَمَهُ أَبَدًا‏.‏ فَقَالَ ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، وَهْوَ يُقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ـ قَالَ أَيُّوبُ أَحْسِبُهُ قَالَ وَهْوَ غَضْبَانُ ـ قَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَقِيلَ أَيْنَ هَؤُلاَءِ الأَشْعَرِيُّونَ فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ فَانْدَفَعْنَا فَقُلْتُ لأَصْحَابِي أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ‏.‏ فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا فَظَنَنَّا ـ أَوْ فَعَرَفْنَا ـ أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيِّ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا‏.‏

ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا ۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے مولیٰ ہو ۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا ۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے ۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لئے تمہیں دے سکوں ۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے ، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے ۔ ہم حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا ۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لئے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے ۔ واللہ ! اگر ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں ۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے ، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے ، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں جب بھی کوئی قسم کھالوں اور پھر دوسری چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم توڑ دوں گا ۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زیدنے ایوب سے کی ، ان سے ابولابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے ۔ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے القاسم تمیمی نے، ہم سے ابو معمر نے، ان سے عبد اللہ نے بیان کیا۔ ہم سے وارث نے بیان کیا، ایوب نے کہا، القاسم کی سند سے، زہدم کی سند سے، اس کے ساتھ۔

Hadith #6722

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَشْهَلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ‏.‏ وَتَابَعَهُ يُونُسُ وَسِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ وَحُمَيْدٌ وَقَتَادَةُ وَمَنْصُورٌ وَهِشَامٌ وَالرَّبِيعُ‏.‏

سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی ، لیکن اگرمانگنے پر ملاتو سارا بوجھ تمہیں پر ڈال دیا جائے گا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کوئی اور بات بہتر نظر آئے تو وہی کرو جو بہتر ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا ، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا ۔

Back to All Chapters