Chapter 89: Blood Money (Ad-Diyat)

دیتوں کے بیان میں

كتاب الديات

57 Hadiths
Hadith #6861

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهْوَ خَلَقَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ‏ يَلْقَ أَثَامًا}‏ الآيَةَ‏.‏

ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ پوچھا پھر کون ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مارڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا ۔ پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی ” اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا ملے گی۔“ آخر آیت تک ۔

Hadith #6862

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے ( اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے ) جب تک ناحق خون نہ کرے .

Hadith #6863

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ مِنْ وَرْطَاتِ الأُمُورِ الَّتِي لاَ مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا، سَفْكَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ‏.‏

ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ۔

Hadith #6864

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے ۔

Hadith #6865, 6866

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ، شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ‏.‏ آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَىَّ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، آقْتُلُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ‏"‏‏.

وہ بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تمہارے مرتبہ میں ہو گا جو تمہارا اسے قتل کرنے سے پہلے تھا یعنی معصوم معلوم الدم اور تم اس کے مرتبہ میں ہو گے جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا جو اس نے اب کیا ہے ( یعنی ظالم مباح الدم ) ۔

Hadith #6867

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے ۔

Hadith #6868

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ ۔

Hadith #6869

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏ "‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ، لوگوں کو خاموش کرا دو ۔ ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے ۔

Hadith #6870

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ‏"‏‏.‏ شَكَّ شُعْبَةُ‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَقَتْلُ النَّفْسِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں ۔ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا ۔

Hadith #6871

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ ‏"‏‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ کبیرہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، کسی کی ناحق جان لینا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑے گناہ

Hadith #6872

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ـ قَالَ ـ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ـ قَالَ ـ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ قَالَ ـ فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَىَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ‏.‏

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرح ( مہم پر ) بھیجا ۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جالیا اور انہیں شکست دے دی ۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیرلیا تو اس نے کہا ” لا الہ الا اﷲ “ انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا ۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اسامہ ! کیا تم نے کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا تم نے اسے لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا ۔ بیان کیا کہ آنحضرت اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا ۔

Hadith #6873

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ، بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ‏.‏

میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ، ہم چوری نہیں کریں گے ، زنا نہیں کریں گے ، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے ، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا ۔

Hadith #6874

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔

Hadith #6875

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ‏.‏ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ ‏"‏‏.‏

میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے پوچھا ، کہا کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔

Hadith #6876

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَوْ فُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏

ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سردوپتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ فلاں نے ، فلاں نے ؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیاگیا ( تولڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلاگیا ۔

Hadith #6877

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ـ قَالَ ـ فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ـ قَالَ ـ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا قَالَ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ‏.‏

مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہرنکلی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے ماردیا ۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا ۔ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکالیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکالیا ) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا ۔

Hadith #6878

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ الْجَمَاعَةَ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے ۔ جان کے بدلہ جان لینے والا ، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا ( مرتد ) جماعت کو چھوڑ دینے والا ۔

Hadith #6879

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ ‏ "‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏‏.‏ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَجَرَيْنِ‏.‏

ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مارڈالا تھا ۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا ، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دوپتھروں میں کچل کر قتل کر دیا ۔

Hadith #6880

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خُزَاعَةَ، قَتَلُوا رَجُلاً‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلاَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلاَّ مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا يُودَى وَإِمَّا يُقَادُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏ وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ فِي الْفِيلِ، قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَتْلَ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ‏.‏

قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا ۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ، ان سے حرب بن شداد نے ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع ) کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے ( شاہ یمن ابرہہ کے ) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا ۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے ۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی ۔ ( سن لو ) اس کا کانٹانہ اکھاڑا جائے ، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہادیا جائے یا قصاص دیا جائے ۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوادیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو ۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی ۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی ۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے ” القتل “ کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے ۔

Hadith #6881

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ‏{‏كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى‏}‏ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، قَالَ ‏{‏فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ‏.‏

بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا ، دیت کی صورت نہیں تھی ۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ الخ ، ( سورۃ البقرہ ) ابن عباس نے کہا فمن عفی لہ سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور اتباع بالمعروف سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کرتے وآداء الیہ باحسان سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے ۔

Hadith #6882

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلاَثَةٌ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ ‏"‏‏.‏

اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں ( مسلمانوں ) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں ۔ حرم میں زیادتی کرنے والا ، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو ، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے ۔

Hadith #6883

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ يَا عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَبِي أَبِي‏.‏ فَقَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ‏.‏

مشرکین نے احد کی لڑائی میں پہلے شکست کھائی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا ، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا ۔ اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے والوں سے ، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ( غلطی میں ) حذیفہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں ، میرے والد ! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا ۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ بیان کیا کہ مشرکین میں کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی ۔

Hadith #6884

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏ وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ بِحَجَرَيْنِ‏.‏

ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سردوپتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا ۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے کیا ہے ؟ کیا فلاں نے کیا ہے ؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیاگیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے ( ہاں ) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا ۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے ۔

Hadith #6885

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا ۔ یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا ۔

Hadith #6886

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَدَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ لُدَّ، غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ( مرض الوفات کے موقع پر ) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے ۔

Hadith #6887, 6888

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏. وَبِإِسْنَادِهِ ‏"‏ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ‏"‏‏.‏

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں ۔ اور اسی اسناد کے ساتھ ( روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں ( کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے ) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے ۔ نہ گناہ ہو گا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہو گی ۔

Hadith #6889

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ،، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ‏.‏

ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے ؟ تو انہوں نے بیان کیا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ۔

Hadith #6890

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ‏.‏ قَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ‏.‏

احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو ! پیچھے کی طرف والوں سے بچو ! چنانچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے ( جو مسلمان ہی تھے ) بھڑ گئے ۔ اچانک حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے بندو ! یہ تو میرے والد ہیں ، میرے والد ۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے ۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آخر وقت تک رہا ۔

Hadith #6891

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ‏.‏ فَحَدَا بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ السَّائِقُ ‏"‏ قَالُوا عَامِرٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ رَحِمَهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلاَّ أَمْتَعْتَنَا بِهِ‏.‏ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ حَبِطَ عَمَلُهُ، قَتَلَ نَفْسَهُ‏.‏ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ، إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، وَأَىُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے ۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر ! ہمیں اپنی حدی سنائیے ۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گاگاکر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان پر رحم کرے ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا ۔ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے ۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے ، انہوں نے خودکشی کر لی ( کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے ) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے ۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ ( اللہ کے راستہ میں ) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہو گا ؟

Hadith #6892

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لاَ دِيَةَ لَكَ ‏"‏‏.‏

ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی ۔

Hadith #6893

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ، فَعَضَّ رَجُلٌ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانٹ ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی ۔

Hadith #6894

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ، لَطَمَتْ جَارِيَةً، فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ‏.‏

نضر کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے ۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا ۔

Hadith #6895

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ‏"‏، يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ برابر یعنی چھنگلیا اور انگوٹھا دیت میں برابر ہیں ۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ان سے قتادہ نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ۔

Hadith #6896

وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ غُلاَمًا، قُتِلَ غِيلَةً فَقَالَ عُمَرُ لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ‏.‏ وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا فَقَالَ عُمَرُ مِثْلَهُ‏.‏ وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلِيٌّ وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ‏.‏ وَأَقَادَ عُمَرُ مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ‏.‏ وَأَقَادَ عَلِيٌّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَسْوَاطٍ‏.‏ وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ‏.‏

ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء ( یمن کے لوگ ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا ۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی ۔ ابوبکر ، ابن زبیر ، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی ۔

Hadith #6897

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا ‏"‏ لاَ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْنَا كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏

ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی ۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے ( اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں ) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا ۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو ۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا ؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے ۔

Hadith #6898

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا‏.‏ قَالُوا مَا قَتَلْنَا وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً‏.‏ فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلاً‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الْكُبْرَ الْكُبْرَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيَحْلِفُونَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ‏.‏ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ‏.‏

ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور ( اپنے اپنے کاموں کے لیے ) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا ۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے ، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے ؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ ( یہودی ) قسم کھائیں گے ( اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا ) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ( خود ہی ) دیت میں دیئے ۔

Hadith #6899

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مِنْ آلِ أَبِي قِلاَبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ قَالَ نَقُولُ الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ‏.‏ قَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلاَبَةَ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَكَ رُءُوسُ الأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، لَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ قَالَ لاَ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ قَالَ لاَ‏.‏ قُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطُّ، إِلاَّ فِي إِحْدَى ثَلاَثِ خِصَالٍ رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ‏.‏ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَسَمَرَ الأَعْيُنَ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا‏.‏ قُلْتُ وَأَىُّ شَىْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلاَءِ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا‏.‏ فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَرُدُّ عَلَىَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ قَالَ لاَ، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللَّهِ لاَ يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ آنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَ فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ وَقَالُوا قَتَلَ صَاحِبَنَا‏.‏ فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ‏.‏ فَقَالَ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ‏.‏ قَالَ فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلاً، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلاً آخَرَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالُوا فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ، أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلاً ثُمَّ مَاتَ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلاً بِالْقَسَامَةِ ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ‏.‏

عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی ۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے ۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا ابوقلابہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا ۔ میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین ! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو گا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے ۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں ( اشراف عرب ) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ؟ فرمایا کہ نہیں ۔ پھر میں نے کہا ، پس خدا کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا ۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو ۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو ۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو ۔ لوگوں نے اس پر کہا ، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا ۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں ۔ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی ، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے ۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے ۔ پھر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہ کو قتل کر دیا اور ہنکا لے گئے ۔ اس کی اطلاع جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے ، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوادیا اور آخر وہ مرگئے ۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی ۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی ۔ میں نے کہا عنبہ ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے ، واللہ اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیروبھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ ( ابوقلابہ ) ان میں موجود رہیں گے ۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے ۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے ( خیبر کے ارادہ سے ) اور وہاں قتل کرد یئے گئے ۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے واپس آکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے اور اچانک وہ ہمیں ( خیبر میں ) خون میں تڑپتے ملے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے ۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھالیں ( کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھالیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں ۔ صحابہ نے عرض کیا ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہادیا ( ابوقلابہ نے کہا کہ ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کواپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا ۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا ۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو ( جس نے قتل کیا تھا ) پکڑا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے ۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا ۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑالیا ۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے ۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا ۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا ۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مرگئے ۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے ۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا ۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا ۔

Hadith #6900

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ‏.‏

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں ۔

Hadith #6901

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي باب رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ أَعْلَمُ أَنْ تَنْتَظِرَنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ ‏"‏‏.‏

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگے ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپر سرجھاڑ رہے تھے ۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھودیتا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ( گھر کے اندر آنے کا ) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے ۔

Hadith #6902

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ ‏"‏‏.‏

ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں ( جب کہ تم گھر کے اندر ہو ) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری ماردو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔

Hadith #6903

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ وَقَالَ مَرَّةً مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلاَّ مَا فِي الْقُرْآنِ، إِلاَّ فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ، وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ‏.‏ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ‏.‏

میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا ۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے ۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا خون بہا ( دیت ) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔

Hadith #6904

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏

قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا ۔

Hadith #6905, 6906

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ فَقَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ‏.‏

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ایک عورت کے حمل گرادینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا ۔پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے ۔

Hadith #6907, 6908

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عُمَرَ، نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي السِّقْطِ وَقَالَ الْمُغِيرَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا‏.‏ قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا‏.‏

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے ؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

Hadith #6908

قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا‏.

اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ ۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔

Hadith #6909

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین ( کے گرنے ) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا ۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی ۔

Hadith #6910

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ قَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا‏.‏

بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے ( جنین ) سمیت مرگئی ۔ پھر ( مقتولہ کے رشہ دار ) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ ( عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ ) کے ذمہ واجب قرار دیا ۔

Hadith #6911

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ‏.‏ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَىْءٍ صَنَعْتُهُ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا وَلاَ لِشَىْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یا رسول اللہ ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی ۔ واللہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا ۔

Hadith #6912

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں ، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں ، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۔

Hadith #6913

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ‏"‏‏.‏

آپ نے فرمایا بے زبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے ، اسی طرح کام میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے ، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا ۔

Hadith #6914

حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا ‏"‏‏.‏

انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ نے فرمایا جو شخص ایسی جان کو مارڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے ۔

Hadith #6915

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ‏.‏ وَحَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ـ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ ـ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلاَّ مَا فِي الْقُرْآنِ إِلاَّ فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ‏.‏ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ‏.‏

میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تمہارے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں ( یعنی مشہور مصحف میں ) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس خدا کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے ۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے ؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے ۔

Hadith #6916

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ ‏"‏‏.‏

آپ نے فرمایا دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو ۔

Hadith #6917

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الأَنْصَارِ لَطَمَ فِي وَجْهِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ ‏"‏‏.‏ فَدَعَوْهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَعَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ ‏"‏‏.‏

یہود میں سے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا ۔ کہنے لگا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص ( نام نامعلوم ) نے مجھ کو طمانچہ مارا ۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا ، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا ۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا ۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا ۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں ۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے ۔

Hadith #6866

وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمِقْدَادِ ‏"‏ إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو ، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تو بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتا تھا ۔

Hadith #6888

وَبِإِسْنَادِهِ ‏"‏ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ‏"‏‏.

( روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں ( کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے ) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے ۔ نہ گناہ ہو گا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہو گی ۔

Hadith #6906

فَقَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ‏.‏

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے ۔

Back to All Chapters