Chapter 96: Wishes

نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں

كتاب التمني

20 Hadiths
Hadith #7226

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً يَكْرَهُونَ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ مَا تَخَلَّفْتُ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ‏"‏‏.‏

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر ان لوگوں کا خیال نہ ہوتا جو میرے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکنے کو برا جانتے ہیں مگر اسباب کی کمی کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہو سکتے اور کوئی ایسی چیز میرے پاس نہیں ہے جس پر انہیں سوار کروں تو میں کبھی ( غزاوات میں شریک ہونے سے ) پیچھے نہ رہتا ۔ میری خواہش ہے کہ اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں ۔

Hadith #7227

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَدِدْتُ أَنِّي لأُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا ‏"‏‏.‏ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُهُنَّ ثَلاَثًا أَشْهَدُ بِاللَّهِ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ میری آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان الفاظ کو تین مرتبہ دہراتے تھے کہ میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں ۔

Hadith #7228

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا، لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ يَأْتِيَ ثَلاَثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، لَيْسَ شَىْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَىَّ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ ‏"‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں پسند کرتاکہ اگر ان کے لینے والے مل جائیں تو تین دن گزرنے سے پہلے ہی میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے ‘ سوا اس کے جسے میں اپنے اوپر قرض کی ادائیگی کے لیے روک لوں ۔

Hadith #7229

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْىَ، وَلَحَلَلْتُ مَعَ النَّاسِ حِينَ حَلُّوا ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجتہ الوداع کے موقع پر ) فرمایا اگر مجھ کو اپنا حال پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح بھی احرام کھول ڈالتا ۔

Hadith #7230

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَلْنَحِلَّ، إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا هَدْىٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ، وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ مَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لَحَلَلْتُ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ وَهْوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً قَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ لأَبَدٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهْىَ حَائِضٌ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَنْسُكَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لاَ تَطُوفُ وَلاَ تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ، فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحَجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ‏.‏

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ساتھ تھے ‘ پھر ہم نے حج کے لیے تلبیہ کہا اور 4 ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے طواف کا حکم دیا اور یہ کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں اور اس کے بعد حلال ہو جائیں ( سو ان کے جن کے ساتھ قربانی جانور ہو وہ حلال نہیں ہو سکتے ) بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورطلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا ہم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی ہدی تھی اور کہا کہ میں بھی اس کا احرام باندھ کر آیا ہوں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے ‘ پھر دوسرے لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم اپنی عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد منیٰ جا سکتے ہیں ؟ ( اس حال میں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے ہی معلوم ہوتی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا ۔ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سراقہ بن مالک نے ملاقات کی ۔ اس وقت آپ بڑے شیطان پر رمی کر رہے تھے اور پوچھا یا رسول اللہ ! یہ ہمارے لیے خاص ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مکہ آئی تھیں لیکن وہ حائضہ تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام اعمال حج ادا کرنے کا حکم دیا ‘ صرف وہ پاک ہونے سے پہلے طواف نہیں کر سکتی تھیں اور نہ نماز پڑھ سکتی تھیں ۔ جب سب لوگ بطحاء میں اترے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ سب لوگ عمرہ و حج دونوں کے کے لوٹیں گے اور میرا صرف حج ہو گا ؟ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ عائشہ کو ساتھ لے کر مقام تنعیم جائیں ۔ چنانچہ انہوں نے بھی ایام حج کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ کیا ۔

Hadith #7231

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏"‏ لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ‏"‏‏.‏ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلاَحِ قَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قِيلَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُكَ‏.‏ فَنَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْنَا غَطِيطَهُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ بِلاَلٌ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی ‘ پھر آپ نے فرمایا ‘ کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا ۔ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ ! ( انہوں نے کہا ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پہرہ دینے آیا ہوں ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپکے خراٹے کی آواز سنے ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ جب نئے نئے مدینہ آئے تو بحالت بخار حیرانی میں یہ شعر پڑھتے تھے ۔ ” کاش میں جانتا کہ میں ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا ( وادی میں ) اور میرے چاروں طرف اذ خر اور جیل گھاس ہو گی ۔ “ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی خبر کی ۔

Hadith #7232

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحَاسُدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهْوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ يَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ فَيَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، بِهَذَا‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ رشک صرف دو شخصوں پر ہو سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا رہتا ہے اور اس پر ( سننے والا ) کہے کہ اگر مجھے بھی اس کا ایسا ہی علم ہوتا جیسا کہ اس شخص کو دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو ( دیکھنے والا ) کہے کہ اگر مجھے بھی اتنا دیا جاتا جیسا اسے دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کر رہا ہے ۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے پھر یہی حدیث بیان کی ۔

Hadith #7233

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ‏"‏ لَتَمَنَّيْتُ‏.‏

اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو تو میں موت کی آرزو کرتا ۔

Hadith #7234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ‏.‏

ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عبادت کے لیے حاضر ہوئے ۔ انہوں نے سات داغ لگوائے تھے ‘ پھر انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا ۔

Hadith #7235

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ـ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے ‘ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر براہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے ۔

Hadith #7236

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الأَحْزَابِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا نَحْنُ، وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، إِنَّ الأُلَى وَرُبَّمَا قَالَ الْمَلاَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا ‏"‏ أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ‏.‏

غزوہ خندق کے دن ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود ہمارے ساتھ مٹی اٹھایا کرتے تھے ۔ میں نے آنحضرت کو اس حال میں دیکھا کہ مٹی آپ کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا دیا تھا ۔ آپ فرماتے تھے ” اگر تو نہ ہوتا ( اے اللہ ! ) تو ہم نہ ہدایت پاتے ‘ نہ ہم صدقہ دیتے ‘ نہ نماز پڑھتے ۔ پس ہم پر دل جمعی نازل فرما ۔ اس معاندین کی جمات نے ہمارے خلاف حد سے آگے بڑھ کر حملہ کیا ہے ۔ جب یہ فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے ‘ نہیں مانتے ۔ اس پر آپ آواز کو بلند کر دیتے “ ۔

Hadith #7237

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ـ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ ـ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ‏"‏‏.‏

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے انہیں لکھا اور میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کی دعا مانگا کرو “ ۔

Hadith #7238

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلاَعِنَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ‏.‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو اس پر عبداللہ بن شداد نے پوچھا ‘ کیا یہی وہ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کر سکتا تو اسے کرتا “ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں وہ ایک عورت تھی جو ( اسلام لانے کے بعد ) کھلے عام ( فحش کام ) کرتی تھی ۔

Hadith #7239

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْعِشَاءِ فَخَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ يَقُولُ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ـ أَوْ عَلَى النَّاسِ، وَقَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا، عَلَى أُمَّتِي ـ لأَمَرْتُهُمْ بِالصَّلاَةِ هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الصَّلاَةَ فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ‏.‏ فَخَرَجَ وَهْوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ لَلْوَقْتُ، لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا عَطَاءٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا عَمْرٌو فَقَالَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ‏.‏ وَقَالَ عَمْرٌو لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ إِنَّهُ لَلْوَقْتُ، لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ایک رات ایسا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کی ۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! نماز پڑھے عورتیں اور بچے سونے لگے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے سے ) بر آمد ہوئے آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ( غسل کر کے باہر تشریف لائے ) فرمانے لگے اگر میری امت پر یا یوں فرمایا لوگوں پر دشوار نہ ہوتا ۔ سفیان بن عیینہ نے یوں کہا میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں اس وت ( اتنی رات گئی ) ان کو یہ نماز پڑھنے کا حکم دیتا ۔ اور ابن جریج نے ( اسی سند سے سفیان سے ‘ انہوں نے ( ابن جریج سے ) انہوں نے عطاء سے روایت کی ‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز ( یعنی عشاء کی نماز میں دیر کی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! عورتیں بچے سو گئے ۔ یہ سن کر آپ باہر تشریف لائے ‘ اپنے سر کی ایک جانب سے پانی پونچھ رہے تھے ‘ فرما رہے تھے اس نماز کا ( عمدہ ) وقت یہی ہے اگر میری امت پر شاق نہ ہو ۔ عمرو بن دینار نے اس حدیث میں یوں نقل کیا ۔ ہم سے عطاء نے بیان کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا لیکن عمرو نے یوں کہا آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ اور ابن جریج کی روایت میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے ایک جانب سے پانی پونچھ رہے تھے ۔ اور عمرو نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا ۔ اور ابن جریج نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو اس نماز کا ( افضل ) وقت تو یہی ہے ۔ اور ابراہیم بن المنذر ( امام بخاری کے شیخ ) نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے محمد بن مسلم نے ‘ انہوں نے عمرو بن دینار سے ‘ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے ‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ‘ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی ۔

Hadith #7240

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کرنا واجب قرار دیتا ۔

Hadith #7241

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ وَاصَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم آخِرَ الشَّهْرِ، وَوَاصَلَ أُنَاسٌ، مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالاً يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دنوں میں صوم وصال رکھا تو بعض صحابہ نے بھی صوم وصال رکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتاکہ ہوس کرنیوالے اپنی ہوس چھوڑ دیتے ‘ میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں ۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۔ اس روایت کی متابعت سلیمان بن مغیرہ نے کی ‘ ان سے ثابت نے ‘ ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا جو اوپر مذکور ہوا ۔

Hadith #7242

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ‏"‏‏.‏ كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کون مجھ جیسا ہے ‘میں تو اس حال میں رات گزراتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر ( وصال کا ) روزہ رکھا ‘ پھر لوگوں نے ( عیدکا ) چاند دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا ۔ گویا آپ نے انہیں تنبیہ کرنے کے لیے ایسا فرمایا ۔

Hadith #7243

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ ‏"‏ فَعَلَ ذَاكِ قَوْمُكِ، لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ، وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ فِي الأَرْضِ ‏"‏‏.‏

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خانہ کعبہ کے ) حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ ہے ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ میں نے کہا ‘ پھر کیوں ان لوگوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی ہو گئی تھی ۔ میں نے کہا کہ یہ خانہ کعبہ کا دروازہ اونچائی پر کیوں ہے ؟ فرمایا کہ یہ اس لیے انہوں نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں ۔ اگر تمہاری قوم ( قریش ) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں میں اس سے انکار پیدا ہو گا تو میں حطیم کو بھی خانہ کعبہ میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا ۔

Hadith #7244

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا ـ أَوْ شِعْبًا ـ لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الأَنْصَارِ ‏"‏‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت ( کی فضیلت ) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد بننا ( پسند کرتا ) اور اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا ۔

Hadith #7245

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الشِّعْبِ‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا ۔ اس روایت کی متابعت ابو التیاح نے کی ‘ ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اس میں بھی درے کا ذکر ہے ۔

Back to All Chapters